نہ خود بیں نے خدا بیں نے جہاں بیں! یہی شہکار ہے تیرے ہنر کا? (١٩٣٥ء، بال جبریل، ٣٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
جہاں نپاہ و جہاں دار جس کے قدموں پر نثار بخت ہے اقبال ہے ظفر ہے آج (١٩٢٨ء، سرتاج سخن، ٨٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"غیرت و شرافت کی آن ایسی تھی کہ بیرم خان کے پاس نہ آیا اور اس کی خودمختار جہاں داری سے اپنی پریشانی کے ایام کو کچھ فائدہ نہ پہنچایا۔" (١٩٢١ء، سیر دہلی کی معلومات، ٢٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں