تاراج کے معنی ، مترادف ، اور مطلب | urdu word Taaraj meanings and details
تاراج کے معنی ، تشریح، مترادف اور تفصیل
{ تا + راج }
تفصیلات
iفارسی اسم اردو میں بعینہ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ(ق)" میں مستعمل ملتا ہے۔, m["دست بُرد","غارت (کرنا۔ ہونا کے ساتھ)","غارت گری","لوٹ مار","لوٹ کھسوٹ"]
اسم
اسم کیفیت ( مذکر - واحد )
تاراج کے معنی
١ - لوٹ مار، غارت، دست برد، برباد۔
"وہ شخص جس کی زندگی غریبوں کے قبرستانوں کی طرح تاراج ہے اس مفلس فقیر آدمی کو تو شہنشاہ بناتا ہے۔" (١٩٠٧ء، سفینہ خون، ص ٥٣)
٢ - [ تصوف ] سالک کا اختیار کل اعمال اور احوال ظاہری اور باطنی میں سلب ہو جانے کو کہتے ہیں۔
"سالک کا اختیار کل اعمال اور احوال ظاہری اور باطنی میں سلب ہو جانے کو کہتے ہیں۔" (مصباح التعرف، ص ٦٩)
تاراج کے مترادف
تباہی, غارت
بربادی, تاخت, تباہی, تہب, غارت, لُوٹ
تاراج or Taaraj english Translation
devastationgriefmelancholyplunderravage ; plunderregretruinsadnesssorrowspoliation
شاعری
- دلوں کی جگمگاتی بستیاں تاراج کرتے ہیں،
یہی جو لوگ لگتے ہیں نہایت عام سے، پہلے - کیا تاراج یوں پیری نے حسن نوجوانی کو
بوقت صبح آرائش کا ہوسے جوں جوں چمن اجڑا - کسی پر چلیں تیر آماج ہیں یہ
لٹے کوئی رہ گیر تاراج ہیں یہ - الہٰی کر عطا گنج معانی
کروں تاراج خود میں خود فشانی - تاراج و تاخت فوج کی خط کی کہوں سوکیا
پل میں اٹھا کے ملک دلوں کا بلو دیا - ہماے ملک پر دل کے چلا کر ناز کاشکر
اپس کے اوئی کا ڈنکا وے طبع تاراج کرتی ہے - ہمارے ملک پر دل کے چلا کر ناز کا لشکر
اپس کے اوئی کا ڈنکا دے طبع تاراج کرتی ہے - جہاں سے اُٹھ گئے ہم شکلِ صاحبِ معراج
دہائی ہے مری بستی قضا نے کی تاراج
محاورات
- تاراج کرنا
- تختہ تاراج ہونا