"خوابوں کی شکستہ کرچیوں کی طرح آنکھوں میں چبھ گئے، اور رگوں میں اندھیرا بن کے اتر گئے۔" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
تمہاری بزم میں دیکھیں کب اپنی بار آئے جو اٹھ کے دو گئے پہلو سے اور چار آئے (١٨٧٢ء، دیوان قلق، مظہر عشق، ١٩٢)
"ہندوستانی ریاستوں میں کالی چمڑی کے سامراجیوں کے ظلم سہنے والے عوام کو بدستور مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٩٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں