کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"تخیل کا . اثر دل و دماغ دونوں پر ہوتا ہے . وہ جذب و شوق کی ایک لغزش مستانہ ہے، عقل و شعور کا ایک حسین ارتعاش ہے۔" (١٩٨٣ء، ادب اور ادبی قدریں، ٢١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"آپ جیسے باریک فہم آدمیوں کے لیے تعجب کا موقع نہ ہو گا مگر ہم جیسوں کے لیے تو ہے۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٢٧:١)
"سانس الگ پھول رہا، ہاتھوں میں لرزا، آنکھوں تلے اندھیرا۔" (١٩٢٨، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٧٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"ابھی بہت سے معاملات لاینحل پڑے ہیں۔" (١٩٨٩ء، سمندر اگر میرے اندر گرے، ٧٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں