کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
["\"سب سے بہتر گیہوں کو داؤدی کہتے ہیں\" (١٨٤٥ء، دولت ہند، ٤١)","\"گل اشرفی، سورج مکھی، داؤدی گل عباسی، گل جعفری، گل صدبرگ وغیرہ پر ایک پھول جدا گانہ رنگ و بو و لطافت رکھتا ہے\" (١٩١٧ء، گلستان باختر، ٤٨٩:٣)"," زیب تن ہے جو ترے وہ زرہ داؤدی حلقوں کے چشموں سے ہوتا ہے یہی مدنظر (١٨٥٧ء، سحر (نواب علی)، قصائد سحر، ٦)","\"جو لوگ داؤدی دبستان کے رکن ہیں عموماً قدامت پسند لوگ ہوتے ہیں\" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ١٠٧)"]
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
پڑا جو توڑے میں زریں قلم چمکتا ہے دبیر چرخ اسے بار بار تکتا ہے (١٩١٥ء، جان سخن، ٢٢١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں