کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
بصد عجز کہتا ہوں میں سربسجدہ جب آتی ہے باد سحر سنسناتی١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٧٣
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
["\"یہ سدا بہار درخت ہیں، یہ بہت لمبے قد کے ہوتے ہیں، یہ اپنے پتے نہیں گراتے بلکہ سردی کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔\" (١٩٦٤ء، رفیق طبعی جغرافیہ، ٤٨٥)","\"بچوں کی شہادت کے سدابہار پھول میری چھاتی پر ہوں گے۔\" (١٩١٢ء، شہید مغرب، ٤٣)","\"اب اس نے انشورنس کمپنی والے منیجر کو چھوڑ دیا ہے، مگر بھئی کیا سدابہار عورت ہے۔\" (١٩٥٢ء، تیسرا آدمی، ٢١٧)"]
کوئی مطلب موجود نہیں