کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
ترک کر تقلید آبا بن خلیل اور بت کو توڑ ماسوا کو چھوڑ رب العالمین سے رشتہ جوڑ (١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خان، ٤٨٣)
"اس کے بعد خان صاحب نے سوچا کہ سارنگی میں دوسرے سازوں کا باج کس طرح ڈھالا جا سکتا ہے۔" (١٩٦٢ء، گنجینہ گوہر، ١٨١)
ادھر روضے کا نقشہ صفحۂ دل پر اوترنا تھا اودھر تھا جنۃ الفردوس کا دل سے اوتر جانا (١٩١٩ء، لذت درد، ٢٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں