کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"مرزا امان علی خاں لکھنوی کی داستانِ امیر حمزہ کی اہمیت یہ ہے کہ . نو لکشور پریس سے شائع اور مقبول ہوتا رہا۔" (١٩٨٨ء، دبستان لکھنؤ کے داستانی ادب کا ارتقا، ٣٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"ہمارے دادا مہتاب خان بڑے اچھے سپاہی تھے . ان کے ایک تہہ خانے میں صرف سہاگ کی نتھیں تھیں۔" (١٩٥٥ء، چند خاکے، ٦٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"مظفر پانچ چھ ہزار سواروں کے بیچوں بیچ نہایت غرور سے کھڑا ہوا لڑوا رہا تھا۔" (١٩٠٦ء، مرآتِ احمدی، ٨٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"بادشاہ کو باری کا بخار آیا۔" (١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٧٠:٦)
"آدھ پاؤ کوٹی ہوئی ہلدی ایک پاؤ پسی ہوئی مدار . پانی میں لڑوا ڈالیں۔" (١٩٢٥ء، محب المواشی، ٥٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں