"انہوں نے جواب دیا، سنو صاحب ہم تقدیر شکن نہیں ہیں یہ تو جو کچھ ہو رہا ہے مٹ نہیں سکتا" (١٨٨٤ء، تذکرۂ غوثیہ، ٢٨٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"حق الامر یہ ہے کم بخت ازلی بدنصیب اور سدا کے تقدیر پھوٹے تھے" (١٩١٨ء، ماہ عجم، ٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"رعایا تو پہلے سے تقدیر پرست تھی اس نے اپنا اثر گورنمنٹ پر بھی کیا" (١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٢٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
محفل کیف میں تفریق مراتب نہ رہی جام اک اک کو ملا ایک ہی پیمانے کا (١٩٤٢ء، اعجاز نوح، ٥٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"ہر ملک کے باشندوں سے ملنا جلنا۔ فرانسیسی، آسٹریلین، جرمن، آسٹرین، بلگیرین . عربی وغیرہ وغیرہ۔" (١٩٣٩ء، متحدہ قومیت اور اسلام، ٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں