کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
رویا یہ سخن سن کے حبیب جگر افگار گر کر قدم شہ پہ یہ کی غرض بتکرار (١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ٧٧:٢)
"بچے بالعموم اپنے جنسی اعضا سے کھیلتے ہیں۔" (١٩٧٤ء، نفسیات مابعد النفسیات، ١٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
دونوں اس کی نظر میں یکساں جنس عالی و نوع سافل (١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
جہاں خارسازی کا ہوتا ہے کام یہ اس کارخانے کی ہیں جنس خام (١٩٥٩ء، چھلنی کی پیاس، ٥٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"مرثیوں میں بھی مرنے والے کے اوصاف حمیدہ کا ذکر اور اُسے عقیدت مندانہ خراج پیش کیا جاتا ہے۔" رجوع کریں: (١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہئیتیں، ٩٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں