اس سے ہاتھ دھو لوکوئی مطلب موجود نہیں
اس کاندھے چڑھ اس کاندھے اترکوئی مطلب موجود نہیں
اس کان سن اس کان اڑا دیناکوئی مطلب موجود نہیں
اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کرناکوئی مطلب موجود نہیں
لیجن آف آنر"لیجن آف آنر کا نشان ان سب لوگوں کو دیا جانے کو تھا جنہوں نے ذہانت، نفس کشی اور محنت سے شہرت پیدا کی تھی۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم (ترجمہ)، ٤١١:٢)
اس کو چیل کووں کو دوںکوئی مطلب موجود نہیں
اس کو وہاں مارے جہاں پانی نہ ہوکوئی مطلب موجود نہیں
اس کی چھاتی دیکھ کر سراہئےکوئی مطلب موجود نہیں
اس کے دل گردے کو دیکھو اس کے جگر کو دیکھوکوئی مطلب موجود نہیں
اس گھر کا باوا آدم نرالا ہےکوئی مطلب موجود نہیں
اس مرض کا طوطا میں نہیں پالتاکوئی مطلب موجود نہیں
اس وقت تم کہاں ہوکوئی مطلب موجود نہیں
اس ہاتھ دے اس ہاتھ لےکوئی مطلب موجود نہیں
لیجنکوئی مطلب موجود نہیں
اس کا منہ کالاکوئی مطلب موجود نہیں
اس کا منہ کالا ہو گیاکوئی مطلب موجود نہیں
اس کی جان کو صبرکوئی مطلب موجود نہیں
اس کی جوتی کوکوئی مطلب موجود نہیں
اس کی قدرت کے [ کارخانے] کھیل ہیںکوئی مطلب موجود نہیں
اس کی لاٹھی میں آواز نہیںکوئی مطلب موجود نہیں
اس کے چھپر تو بھوس بھی نہیںکوئی مطلب موجود نہیں
اس کے دینے کے ہزاروں ہاتھ ہےکوئی مطلب موجود نہیں
اس کے منہ کیکوئی مطلب موجود نہیں
اس کے نا کا تو کتا بھی نہیں پالتےکوئی مطلب موجود نہیں
لینڈ اسکیپ"تہذیب کے اس مصنوعی. بے قابو لینڈ سکیپ میں گھرا ہوا پاتا ہوں۔" (١٩٨٣ء، خانہ بدوش، ٨)
اس نے رکھا اس نے اٹھایاکوئی مطلب موجود نہیں
اسی کی جوتی اسی کے سر پرکوئی مطلب موجود نہیں
اسی اثنا میںکوئی مطلب موجود نہیں
اسی برتے پرکوئی مطلب موجود نہیں
اسی دن کو پالا تھا ۔ پال کر بڑا کیا تھاکوئی مطلب موجود نہیں
اسی میں بہتری ہےکوئی مطلب موجود نہیں
اسے چھپاوں اسے دکھاوکوئی مطلب موجود نہیں
اساڑ ھکوئی مطلب موجود نہیں
اساڑ ھ جوڑائے برکھا رووےکوئی مطلب موجود نہیں
لینن ازم"مارکسزم، لینن ازم کے مطالعہ سائنسی نظریات سے عقلی لگاؤ اور پارٹی کے کل وقتی کارکن کی حیثیت سے. نبردآزما ہونے کی اہلیت پیدا ہو چکی تھی۔" (١٩٨٨ء، فیض کی شاعری کا نیا دور، ٢٠)
اساڑھ کے درزیکوئی مطلب موجود نہیں
اساڑھاکوئی مطلب موجود نہیں
اسامی بلا حق وخیل کاریکوئی مطلب موجود نہیں
اسامئی شکمیکوئی مطلب موجود نہیں
لینن پرائز"ان کا اپنا ادب موجود ہے. جسے ١٩٥٠ء میں لینن پرائز ملا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦:٣)