کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
تمام شکوے ہوئے ختم ایک ہچکی پر وہ آ گئے دم آخر گلہ تمام ہوا (١٩٤٠ء، ضیائے سخن، ١٦٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"جب جانیں تمھیں ہماری دلی محبت ہے کہ ہم سے باغ کا حال صاف صاف کہہ دو۔" (١٨٨٩ء، سیر کہسار، ٥٧:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"میں نے بھی اپنی دلی کیفیت عبدالرشید کو بتا دی۔" (١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ١٤٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"احسان الٰہی ظہیر کے انتقال . کاسن کر ہمیں دلی صدمہ ہوا۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٣١ مارچ، ١٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں