کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"میں واقف ہوں، بھائی صاحب واللہ بڑا دلی شوق ہے خدا سلامت رکھے حضور کو۔" (١٨٨٩ء، سیرکہسار، ٩٤:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"بے شمار، احباب، ادارے اور ان کے متعلق واقعات اور تقریبات تھیں جنھیں میں سمیٹ نہ سکا، اس کا مجھے دلی رنج ہے۔" (١٩٨٥ء، وہ قربتیں سی قربتیں وہ فاصلے سے فاصلے، ٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"تیس برس بعد ١٩٧٥ء، میں ان کی دلی خواہش پوری ہوئی۔" (١٩٨٥ء، وہ قربتیں سی قربتیں وہ فاصلے سے فاصلے، آخری فلیپ)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"یہ لازم نہیں کہ اس کے دلی جذبات سچ مچ وہی ہوں جو معرض بیان میں آئے ہوں۔" (١٩٨٢ء، ذکر خیرالانام، ١١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں