کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"بایں ہمہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جو قصور میں اصغر صاحب کے سر ڈال رہا ہوں اسے خود مجھ کو اوڑھ لینا چاہیے۔" (١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٢٣٠)
"عشق الٰہی اور حب رسول کا نقشہ دیکھا اس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔" (١٩٧٢ء، صدرنگ، ١١)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"محفوظ علی صاحب نے اپنے گھر پر عشائیہ دیا تھا۔" (١٩٨٣ء، خطبات محمود، ٢٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"بالفاظ دیگر اس نے خود ہی بادشاہ کی اطاعت قبول کر لی تھی۔" (١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ٨٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
موت نے آ کر ڈھانپے سب کے روگ اور دکھ اور دوش ایک جنم کا مارا وہ جو مر کے مٹ نہیں پائے (١٩٨١ء، حرف دل رس، ٧٢)
"قیصر صاحب جب میرٹھ میں تھے تو ان پر کیسی پھبن تھی . زلفیں دوش کو چھوتی ہوئیں . سب سے الگ۔" (١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨)
"آخر اماں جان کا آخری وقت آن پہنچا، بڑی بوڑھیوں نے کہا اب کوئی دم کی مہمان ہیں۔" (١٩٨٢ء، میری زندگی فسانہ، ٢٥٨)
"انسائی کلوپیڈیا آف اسلام جو یورپ میں باقساط شائع ہو رہی ہے اس میں بھی حافظ پر ضرور آرٹیکل ہو گا۔" (١٩١٦ء، اقبال نامہ، ٤٢:١)
"خرگوش میں دماغی اعصاب کے بارہ جوڑے ہوتے ہیں۔" (١٩٦٥ء، معیاری حیوانیات، ٣٢٤:١)
"بالآخر بات خودکشی سے کھسک کر دماغی امراض اور پاگل پن کی طرف مڑ گئی۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١١)
"یہ ایک منحوس دمدار ستارے کی طرح میرے تعاقب میں ہے۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٢٣١)