پوچھتے کیا ہو ہمارے خر شملہ دار کو اور تو تعریف کیا کیجیے خر دم دار ہے (١٧٩٥ء، دل عظیم آبادی، دیوان، ١١٥)
"یہاں دن کے دن سب کچھ ہو جاتا ہے، دفتری معاملات کا تمھیں تجربہ نہیں ہے۔" (١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٩٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"باجلاس کونسل لکھا ہوا آرڈیننس ہے۔" (١٩٣٧ء، دنیائے تبسم، ٦٤)
"ہر بسنت بسنتی نیا روپ پا کر کھلتی گئی، بیساکھ کے بیساکھ رمچنا میں دن دونا رات چوگنا خون اینڈ اینڈ کر اچھلتا۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٣٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ان باتوں میں کبھی کبھی ان کا دن دن بھر لگ جاتا ہے۔" (١٩٤٢ء، حیات شبلی، ٣٣٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
وہ سمجھتی ہے زمانہ ہے زمانہ اس کا حاصل بزم دو عالم ہے فسانہ اس کا (١٩٤٣ء، نبض دوراں، ٢٦)
"اس مجموعے کے ہر ڈرامے کا دورانیہ پچیس منٹ سے زیادہ نہیں ہے۔" (١٩٧٩ء، کیسے کیسے لوگ، ٨)
"سپرم دو سیلیا دار ہوتے ہیں جنین دو دالہ ہوتا ہے اور معلقہ بھی پایا جاتا ہے۔" (١٩٧١ء، ٹریڈو فائیٹا، ٣٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"مولانا کے بیش قیمت کتب خانے کی مدد سے اس مشکل کو باحسن وجوہ حل فرما سکیں گے۔" (١٩٠٩ء، مکاتیب حالی، ١٠١)
کوئی مطلب موجود نہیں
جو دنیا میں رکھتے جو زباناں جو دو پیچھے کچھ کہیں اور آگے کچھ (١٧٦٩ء، آخر گشت، ١٥٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"وہ اللہ تعالٰی کے انعامات و عنایات سے دنیا و آخرت میں محروم رہ جاتا ہے۔" (مشاہیر سرحد، ٥)
"ابوبکر باجماع امت پہلے خلیفہ قرار پائے۔" (١٩٠٧ء، امہات الامہ، ١٠٥)
"برطانیہ تک اس معاملے میں ساتھ نہیں دے رہا یہ دنیا گیر بدنامی رہی ایک طرف اور دوسری طرف روس و چین کی دوستی کا امکان ہے۔" (١٩٦٦ء، جنگ، ٣٠، ٣:١٨١)
"اگر کوئی عورت دوگانہ کیلا کھا لے تو اس کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوں گے۔" (١٩٦٥ء، شاخ زریں، ٦٨:١)
"دو پرہ ( ) گھریلو مکھی، پھل مکھی، مچھروں، ڈیپٹرہ حشرہ دو پرہ حشرہ ہوتے ہیں جن کے پچھلے پروں کا جوڑا ایک گرزی شکل اختیار کر لیتا ہے۔" (١٩٦٧ء، بنیادی حشریات، ١٢١)
الف لیلٰی کی کہانی ہے یہ حالات جہاں ان افسانوں سے بھرے ہیں کان دنیا زاد کے (١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٨٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ڈھلتی جوانی اور بڑھتی دھوپ کی طرح رانی صاحبہ آہستہ آہستہ سامنے آئیں۔" (١٩٣٤ء، اودھ پنچ، ١٩، ٩:١٢)
"تباہ کن سیلاب جو گھر بار، ڈھور ڈنگر، بستیاں، کھیت، کھلیان سب کچھ بہا کر لے گیا تھا۔" (١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ١٢٣)
"نبض نے محنت کش مزدور طبقے میں اپنی شناخت کروائی . اور ان کی جھولیوں میں ڈھیر سارے دکھوں کو کم کرنے کی کوششیں کیں۔" (١٩٨٧ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٠ نومبر، جمعہ ایڈیشن)
" "چنتا۔ "ہندوؤں میں بڑی ذات کس کی ہے?" (١٩١١ء، پہلا پیار، ٦٢)
پچہیں اہل دنیا کو لازم نہیں کہ ما دام ہوویں زدنیا گزار (١٨٠٩ء، شاہ کمال، دیوان، ١١٦)
"دریائے سندھ کے ڈیلٹے میں ہر سال توسیع ہوتی ہے۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ١٤٠)
"ڈیلی ہی پڑھنے کا شوق ہے تو کوئی اچھا سا ڈیلی پڑھ لو اور سرخیاں دیکھ کر چیدہ چیدہ مضامین جو پسند آئیں پڑھ لیا کرو۔" (١٩١١ء، نشاطِ عُمر، ٢٧٤)
"موہنجودوڑ کے آثار کو ان کے اصل رُوپ میں لانے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے مثلاً پورے مقام پر محیط "ساؤنڈ اور لائیٹ" کے نظام کا جال بچھا دیا جائے باالخصوص . ان مقامات پر جہاں مقتولوں کے ڈھانچے پائے گئے ہیں۔" (١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ٨٥)