"ہال کی چھت میں رنگ برنگے کاغذی ربن، جاپانی قندیلیں اور رنگین غبارے جھول رہے تھے۔" (١٩٤٧ء، میرے بھی صنم خانے، ١٢٣)
"ایک شخص - گالیوں میں ہر قسم کی سخن آرائی، لفاظی، جدت پسندی، استعارہ بندی صرف کرتا ہے۔" (١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٢٣:٢)
"میں ایک سحر زدہ مکان میں رہتی ہوں جس کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور تھیں۔" (١٩٨٤ء، پرایا گھر، ٧٥)
عطار ہو رومی ہوہ رازی ہو غزالی ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی (١٩٣٥ء، بال جبریل، ٨٤)
ڈھونڈتے پھرے سکون دل جہواں میں کُو بَکُو اور اپنے ہی کیے کی خود سزا ہو جایئے (١٩٨٨ء، مرج البحرین، ٥٥)
["\"میں نے ریا کو لکھا تھا ٢٥ کو آرہا ہوں مگر سیٹ ابھی کنفرم نہیں ہوئی۔\" (١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٦٩)"]
سیل آرائش چراغ حسن کو دے گا فروغ سرخ بتی باندھے گا وہ دل ستاں بالائے سر (١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ٨٢)
میرے غم خانہ میں آؤ تو دیکھا دوں تم کو تھی وہ کیا چیز سر طور، تمہیں کیا معلوم (١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١١٧)
یوں سر عام، کھلے سر میں کہاں تک بیٹھوں کسی جانب سے تو اب میری ردا آئی ہو (١٩٧٧ء، خوشبو، ١٠٣)
"شہر کے لوگ استسقا کی نماز کو بیرون شہر جا رہے تھے۔" (١٩٢٥ء، لطائف عجیبہ، ٦:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"میں تم کو استانی گری کی رو سے نہیں دیتا بلکہ اپنا بچہ سمجھ کر دیتا ہوں۔" (١٨٦٨ء، مراۃ العروس، ٢٢٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"اصول نظام تمدن کا بانی استاذ الاساتذہ۔" (١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام) مسلمان عورت، ٥٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کرتے ہیں بائیسکل پر خوب وہ دفع ریاح اب تو بیلن ارغنوں کا یہ سواری ہو گئی (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ١٠٢:٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں