بچھائے ہوئے مرگ چھالے فقیر لب نہر تڑکے سے ہیں جائے گیر (١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣٨)
ہوتا ہے خاص لہجہ کرتے ہیں جبکہ باتیں شیرینی سخن کا سکہ بٹھانے والے (١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفہ ولا، ٣٦)
ہوں جبر و اختیار کی آلودگی سے پاک کیوں وہم ہو عمل میں عذاب و ثواب کا (١٩٣٨ء، ضیائے سخن، ١١٥)
"وہ آزادی کا دلدادہ اور جبر استبداد کا پکا دشمن تھا۔" (١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٢٦)
"جبری ارتعاشات کے تعدد کا انحصار بیرونی قوت کے تعدد پر ہوتا ہے۔" (١٩٦٧ء، آواز، ٣٢٠)
"جنگ کے متعلق بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی بدولت قوم میں جدت طرازی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔" (١٩٣٧ء، اصول و طریق محصول، ١١)
"اس (سقراط) نے حقیقت تک پہنچنے کے لیے . جدلیاتی طریقے سے روشناس کرایا۔" (١٩٦٢ء، تاریخ جمالیاتی، ٤٢)
"کارل مارکس نے یہ نتائج اخذ کرنے کے لیے ایک نئے نظریے کی ترتیب دی جسے جدلیاتی مادیت کہتے ہیں۔" (١٩٧٥ء، شاہراہ انقلاب، ١١٧)
"بجلی کے تار کو ہاتھ نہ لگانا چاہیے خواہ جذباً (پکڑنے کے لیے) ہو یا دفعاً۔" (١٩٥٨ء، ملفوظات، اشرف علی تھانوی، ٣:٢)
جذبۂ دل نہیں لایا تم کو آپ کی خیر عنایت ہی سہی (تصویر (آخری شمع)، ٥٣)
"مسٹر بیچ باٹ واضح طور پر اس کو جذبۂ یقین کہتے ہیں۔" (١٩٤٠ء، اصول نفسیات، ٢:٣)
آنکھوں سے جوئے خوں ہے رواں دل سے داغ داغ دیکھے کوئی بہار گلستان آرزو (١٩٤٦ء، طیورہ آوارہ، ٩٤)
"متاثر جڑیں عموماً موٹی ہوتی ہیں اور ان پر جڑ پوش نہیں ہوتے۔" (١٩٧٠ء، فنجائی اور مشابہ پودے، ٢٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"مکان خلوت سرا بادشاہی کا روشنی جھاڑ بندی کے سے مثل روز کے تاباں و درخشاں تھا۔" (١٧٧٥ء، نوطرز مرصع، تحسین، ١٧٥)
"تباہی . جو اس کے باپ کی جنگ آرائیوں سے پھیلی تھی۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٤٨:٣)
"لہسن گوکھر و جنگلی ادرک . نسٹریٹم اور ینی سکل یہ سب کے سب ایسے پودے تھے جن کے رس نے عام جراثیم کو مار دیا۔" (١٩٦٢ء، جڑی بوٹیوں سے علاج، ٩٢)
تو ہمارا جواب دار نہیں کرنے دے جو خدا کرے واعظ (١٩٠٠ء، دیوان حبیب، ١١٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
بارہ برجوں میں اک کنارے پھرتے ہیں بھٹکتے مارے مارے (١٩١٨ء، سحر، سراج منیر خاں، بیاض سحر، ٩٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"کیوں اس طرح بارہ پتھر باہر پر محلے پڑی سڑتی۔" (١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٥٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں