"بادشاہ نے وزیر کو بلا کر کہا کہ میرے بیٹے اور جگر پارے کے ساتھ جا۔" (١٩٤٤ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٢٤:٥)
"اپنے اخلاق کو جگہ بہ جگہ نہ پھراؤ۔" (١٩١٥ء، نیرنگ فصاحت، ٢٥٥)
"جلاب مرکب: جلاپا ٣، ایسڈ پوٹاسیم ٹارٹریٹ٦، سونٹھ ١۔" (١٩٤٨ء، علم الادویہ، ٦٥:١)
نام روشن ہے حسینوں میں جو پروانوں سے شمع کہتی ہے کہ ٹھنڈے رہیں جلنے والے (١٩٤٦ء، جلیل، روح سخن، ١٣٦)
فرد حساب صرف سے اس بیاہ کے ہو کم گو لاکھ جمع و خرچ کا ہو دفتر آسماں (١٨٥٤ء، دیوان ذوق، ٣٤٢)
"مسٹر بلک چیف کمشنر اس وقت جائنٹ مجسٹریٹ تھے۔" (١٩٣٦ء، ریاض، نثر ریاض، ٩٢)
"یونان قدیم میں ڈیماستوتیز ایک مشہور جادو بیاں خطیب ہوا ہے۔" (١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ١١٨)
"اس کی فصاحت لسانی اور جادو بیانی نے بعض اوقات ایسے کمالات دکھائے کہ خود پوپ کے مقدس دربار کو اس کا احسان مند ہونا پڑا۔" (١٩٠٧ء، شوقین ملکہ، ١٠٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
سرمۂ چشم حسیناں بن گئی تہذیب غرب دل لبھانے کو نئے جادو نظر پیدا ہوئے (١٩٣١ء، بہارستان، ٦١٩)
اقبال کا ترانہ بانگ درا ہے گویا ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا (١٩٢٤ء، بانگ درا، ١٧٣)
"تم کو مرجان نے بلایا ہے تلوار کمر سے کھینچو یہی جادۂ راہ ہے۔" (١٩٠٠ء، طلسم خیال سکندری، ١٨٦:٢)
"حکیم صاحب کو اگرچہ اور جال بندیوں کی اطلاع کماحقہ نہ تھی۔" (١٩٠٠ء، ذات شریف، ٣٢)
جام جمشید کی پوشیدہ نہیں کیفیت جس سے تھا پیش نظر آئینہ حال عالم (١٩٧٢ء، مرآۃ الغیب، ٥)
"آخر کیخسرو نے جام جہاں نما میں دیکھا اور معلوم ہوا کہ زندہ تو ہے مگر توران میں اسیر ستم ہے۔" (١٩٢٩ء، شرر، مضامین، ٣٠٣:٣)
"صبح تین سے چار بجے کے اندر اٹھتا ہوں اور چائے کے پے ہم فنجانوں سے جام صبوحی کا کام لیا کرتا ہوں۔" (١٩٤٢ء، غبار خاطر، ٨٩)
زاہد کوں روز محشر جز بوریا نہیں ہے مجلس میں عاشقوں کی جام طہور ہوئیگا (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ١٨٠)
"میں ہر معاملہ کو صاف علانیہ اور اختصار کے ساتھ جامع الفاظ میں کہہ دیتا ہوں۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٣٠٠:٣)
"ایسے جامع الکمال آدمی کہاں پیدا ہوتے ہیں۔" (١٩٢٨ء، آخری شمع، ٧٩)
"تاریخوں میں تھیرس کی بڑی جامع کتاب موجود ہے۔" (١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٣:١)
شراب لالہ گوں آئی ہے بطحا کے خمستان سے ہر اک گھونٹ اس کا جاں پرور ہے پیتا چل پلاتا چل (١٩٣٩ء، چمنستان، ٢٢٨)
دونوں جاں دادۂ مذہب ہیں مگر وقت کی بات کوئی ہندو نہ رہا کوئی مسلماں نہ رہا (١٩٣٢ء، ریاض رضوان، ٩٦)
"شہریار نے یہ قصہ جان سوز . اپنے بھائی کی زبانی سنا۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٠)
بیماری فرقت میں ہے سو طرح کا صدمہ اعضا شکنی، دل شکنی، جاں شکنی کا (١٨٥٤ء، ریاض مصنف، ٨٥)
"کتنے ناسمجھ ہو کر محبوبیت کے لحاظ سے تو جان عالم کہلاؤ اور محبت کے اس ادنٰی رمز کو نہ سمجھو۔" (١٩٢٤ء، مکتوبات نیاز، ٧١)
"مجھ پر رحم فرمائیے اور اس مرض جاں فرسا سے نجات دلائیے۔" (١٩٠٥ء، لمعۃ الضیا، ٦٥)
یارو یہ نوید جان فزا ہے یارو یہ نوید دل کشا ہے (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٣٢)
"وہ بھائی کی جان کا دشمن ہو گیا۔" (١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٢)
[" کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق (١٨١٠ء، کلیات میر، ٤٣٧)"]
"یہ میرے چہیتے جان کے ٹکڑے دوست ہری شنکر کی بہن تھی۔" (١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٢٩٧)
"سلطان نے بھی اس کو جان کی امان دی۔" (١٩٣٩ء، افسانہ پدمنی، ١٠٨)
غلغہ ہے مچا ہوا فرش سے بام عرش تک مسلم دل فگار کے نالہ جاں گداز کا (١٩٢٠ء، بہارستان، ٦٢٩)
لوگ جن کی جاں گدازی سے ہیں دل پکڑے ہوئے کھوکھلے نغمے ہیں وہ اوزان میں جکڑے ہوئے (١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٥٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"نہ یہ کام جاں گسل اور روح فرسا معلوم ہوتا ہے بلکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہوتا ہے۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ١٦١)
"تم نے بندر کے غدود لگوائے ہیں ورنہ تم میں یہ جان داری کہاں سے آ گئی۔" (١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ١٢٩)
جاڑے کا سماں بدلا پھر فصل بسنت آئی (١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٢١)
مفلس کی ہے جوانی یہ جاڑے کی چاندنی بدتر ہے سو بڑھاپے سے اپنا شباب اب (١٨٧٩ء، جان صاحب، نوراللغات)
"فزا (امر ہے فزودن سے پڑھنا، بڑھانا سے راحت فزا، جان فزا، جان فزائی، حیرت فزا، عیش فزا . وغیرہ۔" (١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠٥)
"اس نے مصریوں کے دربار کی شان و شوکت اور جاں و حشمت بھی خوب دیکھی ہے۔" (١٨٦٧ء، مکمل مجموعہ لیکچرز و اسپیچز، ٦٨)