"ان میں جب بعض مخفی باتیں بھی شریک ہیں مثلاً فلکی ہئیت، دادِ صناع، الہی امورعالیہ تو پھر یہ کیسے کہ دیا جائے کہ . اسباب بھی مرتفع تھے۔" (١٩٤٠ء، اسفارِ اربعہ (ترجمہ)، ٨٧٤:١)
"اہلِ عربی نے ریاضی، طبیعات، کیمیا، طب اور فلکیات میں انتہائی ترقی کرلی تھی۔" (١٩٨٦ء، ہند سے اور انکی تاریخ، ١٣)
"ابوالفدا اسے حقیقی یا فلکیاتی اقلیم کے مقابلے قرار دیتا ہے۔" رجوع کریں: (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٨:٣)
"اپنے لیے کوئی خاص کام ٹھہرالوں اور اسی میں نگارہوں کیونکہ بے اس کے جیل میں تنہائی کے پہاڑ سے دن کاٹے نہیں کٹتے۔" (١٩٣٥ء، میری کہانی، ٩:١)
"اُسے پوپ میوزک سے لگاؤ ہے اور اپنی جمع کا آغاز وہ اسی قسم کے پاپولر دھنوں سے کرتی ہے" (١٩٨٩ء، قصے تیرے فسانے میرے، ٨٣)
"وہ دوکان سے نکلا اور سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ کر میکینک کی شکایت کردی۔" (١٩٩٨ء، جنگ، کراچی، ١١ نومبر، ٤)
|فرحت الملک نے - ہندوؤں کو اپنا باجدار بنانا چاہا۔" (١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٦٢:٤)
حیوٹ ہے سورما ہے دلاور ہے شبیر ہے رستم ہے باج خواہ ہو ایسا دلیر ہے (١٩٤٤ء، مراثی نسیم، ١٣:٤)
سنگ بالیں میر کا جوباٹ کا روڑا ہوا سخت کر جی کو گیا اس جا سے وہ رنجور کیا (١٨١٠ء، میر، کلیات، ٣٦٩)
"نرگس کی مجال تھی کہ بیگم صاحب کو جھنجوڑے۔" (١٩١٠ء، راحت زمانی، ٣)
"کتاب کے فلیپ پر ان کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے. میں ان دونوں کی تائید کرتا ہوں۔" (١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٥٠)
"کوئی پوچھے کہ میں بھی کوئی فلم اسٹار ہوں کہ تصویریں کھِچواتا پھروں۔" (١٩٦٣ء، قاضی جی، ١٧٧:٣)
تجھے قاضیے میں بھی ہے دخل بے الف سے بھلا پہلے کیسی یہ بے (١٩٢٨ء، مرقع لیلٰی مجنوں، ٢٠)
|باتھ ٹب کو کس طرح محنت کی بچانے والی ایجاد کہا جا سکتا ہے۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، پروفیسر محمد عاقل، ٢٦٤)
"جب اس نے پھر وہی غلا کرنا چاہا تو ایک غُراہٹ کے ساتھ مقدم نے اس کو روک دیا۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ٧٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"مجبوراً قبول کرنا پڑا کہ ایک اور وجود (بھاؤ) ہے۔" (١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ، ١٣٠:١)
جم کے بیٹھی ہے تو بیٹھی ہے کھڑ یہے کو کھڑی پھبتیوں کی جو ہے برسات تو باتوں کی جھڑی (١٩٠١ء، واسوخت مرزا، ٩)
سرشار عمل ہے نہ سر تیغ زنی ہے واعظ کی نہ کچھ پوچھ یہ باتوں کا دھنی ہے (١٩٤٦ء، جنون خرد، یکتا امروہوی، ٥)
"آموں کے کنج کے پیچھے سے نظر آتے ہوئے مندر کے کلس شام کے بڑھتے ہوئے اندھیروں میں ڈوب رہے تھے۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٤٤)
"وہ سب کچھ اس تاریک کنج میں بیٹھے اس طرح سمجھ رہے تھے جیسے آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ٨٩)
"میرے لڑکے فاروق نے اسے بچانے کے لیے مداخلت کرنی چاہی تو غنڈے اس کے پیچھے بھی پڑ گئے" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٣٨)
[" وہ باد پا کہ صورت مرغ نظر اڑے وہ تیغ تیز جس سے فرشتوں کے پر اڑے (١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٩١:٧)"]
|سلطانی سواری مثل باد بہاری شہر میں داخل ہوئ۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٨٣:١)
|ایک دن موافق معمول کے وہاں آیا دریافت کیا کہ وہ دستکار ایک بادبانی گاڑی بنانے میں مشغول ہے۔" (١٨٣٩ء، تواریخ راسلس شہزادہ حبش کی، ٢٩)
باغباں تجھ کو بھی ہے پرویز کی دولت نصیب موسم گل میں زرگل گنج باد آورد ہے (١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ٤٥١:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں