"اودی مخمل کا تنگ پائجامہ فلالین کی قمیض۔" (١٩٨٧ء، گردش رنگِ چمن، ٢٥٦)
"اچھا میں خود تجھے بتائے دیتا ہوں کہ وہ کیا ہے جو فلاں فلاں بات ہے۔" (١٩٤٥ء، الف لیلہ ولیلہ، ٧:٦)
"ہفتے کی شام چار بجے کی فلائیٹ سے پہنچ جانا۔" (١٩٨١ء، راج گِدھ، ١١١)
تار باتوں کا بندھا جب خوش گلوکی بزم میں نامہ بر بھی مست ہو کر رقص فرمانے لگا۔ (١٩٢١ء، غزلیات شبیر(شبیر خان)، ١٤)
"یہ احتجاج افادیت پسندوں اور فلسطینوں کے خلاف بھی تھا . فلسطینی اور افادیت پسند فن کو . وسیلہ سمجھتے تھے۔" (١٩٧٥ء، عام فکری مغالطے، ٨٨٧)
پڑھیں درود نہ کیوں ان پہ ہم صلاتوں میں کہ بخشوا لیا امت کو باتوں باتوں میں (١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٢٧:٥)
"ہر فن پارہ اپنی الگ ہئیت رکھتا ہے۔" (١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فلسفہ، ١٣)
"مغرب میں فن طباعت نے جتنی ترقی کی ہے وہ محض فن برائے فن کی ذیل میں نہیں آتی۔" (١٩٧١ء، نکتہ راز، ٦٣)
"پہلے مرزا نے یہ سمجھا کہ میں جنات میں ہوں فلیش لائٹ جو پڑی بولے طلسمات میں ہوں۔" (١٩٨٥ء، شوخی تحریر، ١٠٥)
"فلمستان والوں نے کیا معاملہ لٹکا ہی دیا یا کوئی صورت برآمد ہوتی نظر آتی ہے۔" (١٩٥٢ء، زیرِلب، ١٨٣)
"بچوں یہ جو گذرتی ہے اس کو فلمایا ہے۔" (١٩٨٧ء، آجاؤ افریفہ، ١٤٤)
"اسٹوڈیو، نقاش، فوٹو گرافر، ریڈیو، فلم کمپنی وغیرہ کی اصطلاح ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٣)
|بات میں بات" |ماڈرن سکولر" حکومتوں کی ستم ظریفیاں بھی کس بلا کی ہوتی ہیں۔" (١٩٥٥ء، تجدید معاشیات، ٣٥٣)
"فلم سازی اور فلم بازی سے کسی بھلے آدمی کو کیا سروکار۔" (١٩٦٥ء، برمِ خوش نفساں، ٨٧)
"ان کی غیر معمولی تعلیمی خدمات اور علم و فضل کی بنا پر یونیورسٹی نے انہیں پروفیسر ایمریطس (Profesor Emeritas) کا عہدۂ عالیہ عطا گیا۔" (١٩٧٨ء، رسالہ جدید سائنس، اگست تا دسمبر، ٥٤)
"اسی عدالت نے گلبرگ کے علاقے میں عیاشی کا اڈا چلانے . کی ضمانت مسترد کر دی۔" (١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ١٢ جولائی، ٦)
"ان علوم کو ضبط تحریر میں لانے کا سہرا بھی اس کے سر ہے وہ اسلامی علوم کے عہد زریں میں گزرا ہے۔" (١٩٨٦ء، ہند سے اور ان کی تاریخ، ١٣)
"وہ خود شتر بانی کرتا ہے۔" "گھوسی رہپر شتربان شام کے وقت اپنے جانوروں کو دیکھ دیکھ کر آنکھوں میں نور دل میں سرور حاصل کرتے ہیں۔" (١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا (ترجمہ)، ٢١)(١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ٤١)
|انعام بات کی لاج - کیا خاک رکھتا، غریب اپنے شوق سے پھرتا پھراتا دیوبند جا پہنچا" (١٩١٧ء، طوفان حیات، ٢٦)
"ظالم حسین ہی نہ تھی ایک عجیب ہوش ربا چارم بھی رکھتی تھی۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٩٠١)
تجھ سے کہتا ہوں کئ بات کی ہے اس میں گرفت حل کے غیروں سے نہ تو عاشق ہمراز کو چھوڑ (١٨٩٢ء، شعور (نور اللغات، ٥٠٩:١))
"علمائے طبیعات میں یہ رجحان پیدا ہو چلا ہے کہ فلسفہ طرازی کا کام بھی وہ خود ہی انجام دے لیں۔" (١٩٦٦ء، افکارِ حاضرہ، ٥)
"ممکن ہے کہ وہ اس میں پاکستان کے لیے ایک فلسفیانہ جواز تلاش کر لیں۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٥)
"اس کا مرکب فلش سسٹم اردو تحریر اور تقریر میں آتا ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٤٦٩)
"صبح کی فلق اور شام کی شفق کے پس منظر میں اس کا اثر ہمارے جذبات پر کیا ہوتا ہے۔" (١٩٦٩ء، سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ١٤)
"فلک بوس چوٹیاں معماروں کی فنی مہارت اور دانش کی غیر قانونی یادگار ثابت ہوں گی۔" (١٩٨٩ء، اردو نامہ، لاہور، جنوری، ١٣)
|بات کی تہ کو خوب پہنچے تھے اور زبان کے تو استاد تھے۔" (١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١٠٤)
"فلک زحل پر وہ رُوحیں ہیں جنہوں نے اپنے وطن سے غداری کی ہے۔" (١٩٤٧ء، اقبال نئی تشکیل، ٣٤)
خزاں کی گرم سانسوں سے جُھلس کر رہ گئے پتے فلک پیما درختوں کا بھی پندارِ نمو ٹوٹا (١٩٨٦ء، غبارِ ماہ، ١٠٣)
"وہ فلسفۂ اختیار کے قائل کیسے ہوسکتے ہیں۔" (مراج و ماحول، ٢١٩)
تھی ہزبر اسداللہ کو کہاں بات کی تاب شیر جھپٹا تو گریزاں ہوا وہ خانہ خراب (١٩٢٩ء، مرثیۂ فہیم (باقر علی خاں)، ١١)
|بیٹھے اور بات کی بات میں کھڑے بھی ہو گئے۔" (١٩٥٦ء، رادھا اورنگ محل، ٨٠)
[" کچھ تمھیں یاد بھی ہے رات کی بات تم بگڑنا نہیں ہے بات کی بات (١٩٠٤ء، تیر و نشتر، ٢٠)"]
فرش سے لڑ کے چلا عرش بریں پر پہنچا بات کہنے میں کہیں سے وہ کہیں پر پہنچا (١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ، ١٩)
|قصور کی سرحد پر اسمگلروں کی سرگرمیاں۔" (١٩٦٦ء، روزنامہ، جنگ، کراچی، ١١)
گو عشق ہے تجھ فلک نشیں سے خاکی کو مفر نہیں زمیں سے (١٩٨٤ء، سمندر، ٤٤)
"ماموں جان کے فلک شگاف قہقہے فضا میں گونجنے لگے۔" (١٩٨٦ء، بیلے کی کلیاں، ٢٥٨)
"ہمارے سلف ہمیشہ فلکِ کج رفتار اور سپنہرِ بے مہر کی شکایت کرتے رہے ہیں۔" رجوع کریں:کج رفتار (١٩١٩ء، مضامینِ شرر، ١، ١٦٤:٣)
"اس کو موجود دور کے فلک پیماؤں . کا پیش رو اور دنیا کا پہلا فلک نما کہا گیا ہے۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٢)
"فلکی دوربین کی طاقت کے تعین میں شخص اور خیال کو اس فاصلے پر تصور کرنا مہمل ہو گا۔" (١٩٢١ء، طبیعاتِ عملی، ١٤٦)