"صاف بات اگر کہی جائے تو اُسے پڑھنے والوں کی سوجھ بوجھ برداشت نہیں کرے گی . یا بیان کے حسن میں فرق آجائے گا یا لذت کم ہو جائے گی ان وجہوں سے بھی یہ ہو سکتا ہے کہ اصل مصنف نے اپنی عبارت کو بھی کس قدر ڈھکا چھپا رہنے دیا ہو۔" (١٩٨٥ء، ترجمہ: روایت اور فن، ١٢٥)
"اسے ("درد کا شہر" کا مصنف زاہد ڈار) اس سے غرض نہیں کہ فرد اور معاشرہ کی ذمہ داری کا مفہوم کیسے متعین ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کو ڈھکوسلا سمجھتا ہے۔" (١٩٧٠ء، برشِ قلم، ٦٩)
"تم سچ کہتی ہو ہم ذات برادری اور علاقوں والے لوگ ہیں۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٢١٣)
"اس عام درجہ وار ترتیب کے علاوہ ہندوستان میں اور قسم کا نظام بھی قائم ہے جس کو ذات پات کا نظام بھی کہتے ہیں۔" (١٩٧٤ء، ہندوستانی معیشت، ١٦)
"حضور اکرمۖ کی ذاتِ اقدس سے انہیں بے انتہا عقیدت تھی۔" (١٩٨٥ء، طوبٰی، ٦٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس روز بجز ذاتِ پاک حق تعالٰی کے کسی کو ملک و حکومتِ ظاہری بھی تو نصیب نہ ہو گی۔" (١٩٣٢ء، القرآن الحکیم، تفسیر مولٰنا شبیر احمد عثمانی، ٢)
سراپا زخم ہوں تیغ زبان یار سے لیکن نہیں ملتا ہے مثلِ ذاتِ حق مسۂ زخمِ پنہاں کا (١٨٥٩ء، دفترِ بے مثال، ٩٠)
"پروفیسر رشید احمد صدیقی کی ذاتِ گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔" (١٩٧٦ء، اقبال : شخصیت اور شاعری، (اظہارِ تشکر)، ٣)
"ذاتِ واجب کے علم میں سب اِمکان ہوتے ہیں جو عالم میں تکمیل پذیر ہو سکتے ہیں۔" (١٩٤٢ء، روحِ اقبال، ٣٧)
"پانی کا یہ چکر یا دوران آب ہم نے ایک فرضی تصویر کھینچ کر دکھایا ہے۔" (١٩٢٤ء، جغرافیۂ عالم (ترجمہ)، ٣:٢)
"یہ ذاتِ شریف (نائی) شادی بیاہ میں تھوڑی سی رقم پر راضی نہیں ہوتی بلکہ معقول رقم لے کر ہی ٹلتی ہے۔" (١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٠٤)
"اس صورت میں انفرادی رائے کا پتا دور دور تک نہیں چل پاتا۔" (١٩٨٢ء، برش قلم، ٨٠)
"ہرتس نے دور نمائی (ٹیلیویژن) کی ترسیل و توصیل میں استعمال ہونے والے محسے (اینٹینا) کی طرح کا ایک محسہ برسہا برس پہلے اس وقت تیار کر لیا تھا جبکہ اس کی ضرورت یا عملی استعمال کا کوئی گمان بھی نہ تھا۔" (١٩٧٠ء، زعمائے سائنس، ٣١٩)
"تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑی عمر میں دور نظری کی عام شکایت نے ایک نئی سماجی ضرورت پیدا کر دی۔" (١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ١٨٧)
"اگر ایک دور نظر شخص کو ٥٠ سر سے کم تر فاصلے کی اشیا صاف نظر نہیں آتیں تو اس عدسے کا ماسکی طول دریافت کیجیے جس کی مدد سے وہ شخص ان اشیا کو بھی صاف طور پر دیکھ سکے۔" (١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ٢٦٠:١)
"ہندوستان کو تو اپنی طرف سے پہلے بھی مایوسی تھی لیکن مصر و شام و ایران دور کے ڈھول تھے۔" (١٩٠٦ء، مقالات شبلی، ٦٩:٨)
میں ترے شیوۂ تسلیم پہ سر دھنتا ہوں کہ یہ اک دور کی نسبت تجھے اسلام سے ہے (١٩٣١ء، بہارستان، ٣٣٥)
"کبھی کبھی ان سے دور کی ملاقات بھی ہو جایا کرتی ہے۔" (١٩٠٨ء، قید فرنگ، ٤٣)
"اس میں جدید تر شعور اور بالکل بدلا ہوا طرز احساس عصری تقاضوں کا نمایندہ ہے، بہت دور کی کوڑی ہے۔" (١٩٨٣ء، برش قلم، ١٦٩)
ہیں بدگمانیاں دل رِشکی کی ٹھیک ٹھیک دیوانہ گو ہے بات تو کہتا ہے دور کی
"میرے لیے وہ ہمیشہ دور کا جلوہ ہی رہے۔" (١٩٦٧ء، بزم خوش نفساں، ٥٠)
"اس کی تیز اور دور رس نظر کے سامنے ہر نقاب اٹھتا معلوم ہوتا ہے۔" (١٩٨٦ء، نیم رخ، ١٨)
".جولائی تک کا امریکی دورہ یقیناً دور رس نتائج کا حامل ہو گا۔" (١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٢٨ جولائی، ٣)
"ہماری جدید نثر و نظم پر انگریزی زبان کے اسالیب کا جو اثر پڑا ہے وہ بھی بہت واضح اور دور رس ہے۔" (١٩٨٥ء، ترجمہ : روایت اور فن، ١٥٥)
"مسلمان امیروں نے ایسے دور دم اونٹ اور گھوڑے سدھانے کا خاص اہتمام کیا تھا جو ایک دن رات میں سو میل کی منزل معمولاً طے کر سکتے تھے۔" (١٩٥٣ء، تاریخ مسلمانان پاکستان و بھارت، ٢٢٠)
ایک مرے نہ دن پھرے ورنہ جہاں کے واسطے دور فلک بدل گیا دور بہار دیکھ کر (١٩٦٣ء، نقوش مانی، ٣٨)
یہ کس سکوت کے صحرا میں قید ہیں ہم لوگ کہ زندگی کی کہیں دور تک صدا بھی نہیں (١٩٧٩ء، زخم ہنر، ٢٣٥)
"میری دعا ہے کہ تم اپنی آئندہ زندگی مچل کے ساتھ بخیر و خوبی بسر کرو۔" (١٩١٢ء، شہید مغرب، ٨)
دور آلام محبت کیا ہے دور ہستی سے گزر جاؤں گا (١٩٨٣ء، حصار انا، ١٤٦)
"آپ نے غور کیا ہوا گا کہ ایڈی اینٹم کے دور حیات میں دو قسم کے پودے ہوتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٢٩٨)
دور جہاں سے ساقیا سرد ہوا ہے دل مرا برف و شراب کی جگہ برق و شرر پلائے جا (١٩٤٦ء، طیور آوارہ، ١٣١)
"اب وہ دور جدید کے شہرہ آفاق غزل گو بن گئے۔" (١٩٨٣ء، حصار انا، ١٤)
یہ دور جام، یہ غم خانۂ جہاں یہ رات کہاں چراغ جلاتے ہیں لوگ اے ساقی (١٩٣٨ء، روح کائنات، ١٠٣)
دور آلام محبت کیا ہے دور ہستی سے گزر جاؤں گا (١٩٨٣ء، حصار انا، ١٤٦)
دنیا دے اس انقلاب اندر دور آسمانی دے عتاب اندر (١٩٧٨ء، چار بتیسہ، ١٢٥)
["\"عقاب کی آنکھ بڑی دوربین ہے۔\" (١٩٤٧ء، اقبال نئی تشکیل، ٢٦٥)","\"مہلب ابن ابی مغیرہ کی دور بین نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔\" (١٩٣٥ء، عبرت نامۂ اندلس، ٢٠٢)"]
"یہ موجودہ دنیا کا دور اولین یا حیات انسانی کا گہوارہ تھا قدرت اسے پہلے انسانی جوڑے کی وابستگی کے نت نئے سامان پیدا کر رہی تھی۔" (١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ٩)
راجہ کی زندگی کا بھی دور اخیر تھا کیف شباب کا تھا اترنا ہوا خمار (١٩٢٩ء، مطلع انوار، ٨٥)
"دودھ کے دانت تعداد میں بیس ہوتے ہیں اور چھٹے یا ساتویں مہینے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔" (١٩٧٠ء، گھریلو انسائیکلوپیڈیا، ٢٢٥)