"بادام چرو نجی، خشخاص، دھنیہ ان چاروں چیزوں کو . بھون کر باریک پیس لیں۔" (١٩٣٢ء، مشرقی مغربی کھانے، ١٢٧)
نماز ظہر ادا کی باجماعت سرور دیں نے کیا پھر حکم یہ نافذ کرو اب بزم آرائ (١٩٢٨ء، صحیفۂ ولا، ٨٦)
["|جناب صدر استقبالیہ کے کرم گستراز الفاظ کے لیے میں انتہائ احسان مند ہوں۔\" (١٩٦٢ء، میزان، ١٠٦)","|استقبالیہ کے اژدہام میں پھنس کر کچلے جانے سے بال بال بچ گئ۔\" (١٩٦٥ء، سہ ماہی |کاروان سائنس| کراچی، ٢، ٩٥:٣)"]
"١٦٥ میں . ہک (Hoke) نے سب سے پہلے حلیہ کی اصطلاح درختوں کے پوست میں پائے جانے والے نہایت چھوٹے اور جوف دار یا کھوکھلے خلاؤں کے لیے استعمال کی تھی۔" (١٩٦٣ء، ماہیت الامراض، ٣١:١)
|افراد کی روح استقلالی - اینگلو سیکسن قوم کا ایک ممتاز خاصہ ہے۔" رجوع کریں: (١٩١٨ء، روح الاجتماع، ٩٠)
"یہ گھر بالکل آٹو میٹک تھا گھر کے دروازے قدموں کی آہٹ سے کھل جاتے تھے اور پھر خود بخود بند ہو جاتے تھے۔" (١٩٦١ء، ستاروں کی سیر، ١٤٨)
"بید مجنوں کے پتوں کی تہوں سے بھر کر بند کر دیا کرتے تھے۔" (١٩٦٦ء، چارے، ٢٧٥)
خم زلف کھلتے ہی شر اٹھا یہ مزاج کسی سے بگڑ گیا تمہیں آج خیر سے کیا ہوا نہ بناوہے نہ سنگھار ہے (١٩٣٣ء، کلام بے نظیر شاہ، ١٦٨)
"پوریاں موٹی تھیں، بھاجی بھی لذیذ نہ تھی مگر دودھ مزہ دار تھا۔" (١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٦٥:١)
"جب دینے میں کسی ذاتی غرض کا شائبہ ہو تو ایسے دینے کا ثواب نہیں جیسے بھاجی اور نیوتہ۔" (١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٤١٩:٢)
"تم اپنا وہ جوڑا پہنو، وہ بنفشی والا، آج ہم بڑے مزے میں ہیں۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ٢١٣)
"بندے ماترم کا غل مچاتے ہیں جس کے معنی اپنی پرستاری اغراض کے کچھ اور نہیں۔" (١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ١٦)
"ان کے علاوہ بلوچیوں کی قوم ہے جو پہاڑی ملک کے رہنے والے ہیں۔" (١٩١٣ء، تمدن ہند، ٩٣)
|اہل مکہ میں دولتمند اور بارسوخ تھے اور شریف حسن پاشا سے جو سلطنت ترکی میں شاہی مقرب تھے ان سے بہت دوستانہ تھا۔" (١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رامپور، ٤٢٣)
"موسم گرما کی ایک خوشگوار صبح کو جبکہ میں فری فارمیسی کے ورانڈے میں ٹہل رہا تھا۔" (١٩٣٧ء، سلک الدرر، ٤٤)
"بنکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے گاہکوں کو سادہ لائسنس فارم نہ دیں۔" (١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٥ اگست، ٦)
"عرب، شام، روم، افریقہ، فارس کہیں کے مسلمان بیوہ کے دوسرے نکاح میں کسی طرح کی عار نہیں سمجھتے۔" (١٨٩١ء، ایامٰی، ١٣٧)
["\"گلہائے خوش رنگ و بو دار پر جا بیٹھیں۔\" (١٨٣٨ء، بستان حکمت، ١٦)","ساتھ ہی شکاری کتے، تازی، ولایتی، بودار، بلڈاگ کہ شیر کا سامنا کریں۔\" (١٨٨٤ء، قصص ہند، ١٣٠:٢)"]
فرش کی باصفا پیشانی پر متفکر کی صورت سینکڑوں شکنیں پڑ گئیں۔" (١٩٢٠ء، احمق الذین، ٣)
"چمپئی ساری میں وہ اس وقت بےحد حسین نظر آرہی تھی۔" (١٩٨١ء، اخبار خواتین، کراچی، مارچ، ٤٧)
|جو بھول کر با طہارت نماز ادا نہ کرے اور وقت باقی ہو اس پر قضا واجب ہے۔" (١٩٢٩ء، ذخیرۃ العباد، (ترجمہ)، ١٧)
|شریف خاندان کی باعصمت لڑکیاں شرم و حیا کی تصویر ہوتی ہیں۔" (١٩١٥ء، فلسفۂ اجتماع، ١٠)
"کھگالنے. سے پہلے کچی دھات کو باریک کُوٹا اور پیسا جائے۔" (١٩٧٥ء، غیر نامیاتی کیمیا، ٥٣٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
|ہرچند زمانہ شیخ ناسخ و خواجہ آتش کو رخصت کر چکا تھا مگر ان دونوں باکمالوں کے بہت سے شاگرد جو بجائے خود استاد تھے لکھنؤ میں موجود تھے۔" (١٩١٠ء، دیباچہ مکاتیب امیر مینائ، (ثاقب)، ١٩)
"ابلیس نے جواب دیا . تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اسے (آدم) مٹی سے، بھلا خاک کو آگ سے کیا نسبت، اے خدا! پھر تیرا یہ حکم کہ ناری خاکی کو سجدہ کرے کیا انصاف پر مبنی ہے۔" (١٩٨٨ء، انھبیائے قرآن، ٢)
|مسجد شریف میں باب جبرئیل سے داخل ہو تو افضل ہے ورنہ باب السلام سے۔" (١٩١٠ء، سراج منیر (ترجمہ)، زین العابدین، ٦٥)
"برہمن ناریوں کے مکھڑے کی رنگت سنہری ہوا کرتی تھی۔" (١٩٩٢ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ١٦٦)
الجھی رہی دام سے نظر آڑ نہ سکے بایں ہمہ زعمِ بال و پر اُڑ نہ سکے (١٩٨٠ء، جمیل مظہری، فکرِ جمیل، ٢٤٠)
"تنقید کے متعلق بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے کہ اس کا مقصد محض عیب بینی ہے۔" (١٩٣٣ء، نقدالادب، ٧)
کہیں تو ذکر دہن ہے کہیں ہے فکر کمر خدا بچائے زمانے کے عیب بینوں سے (١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ١٥٦)
"گھر میں حسین بیوی، دو پیارے پیارے بچے، اپنے جلیسوں میں بے لوث مشہور نہ شاب کی مستی تھی، نہ مزاج کا چھچھوراپن، عیالداری کی زنجیر میں جکڑا ہوا۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ٤٥:١)
"آپ کنوارے ہوں یا زوجہ یافتہ، عیالدار ہوں یا فارغ البال زندگی بھر کھیل کی صورت نہ دیکھی ہو لیکن ان دالائل کی رو سے آپ بھی عظیم اسپورٹس مین ہیں۔" (١٩٨٤ء، قلمرو، ١٢٤)
"پرسوں وہ بھی مع تمام عیال و اطفال کے پہپوند روانہ ہوگئے۔" (١٩٠٧ء، مکتوبات حالی، ٤٠٤:٢)
["\"بدھ مت تو قریب قریب عیسائیت کا بھارتی ایڈیشن ہے۔\" (١٩٢٩ء، تنقیحات، ٩١)"]
"رام چار کوڑیاں قیمت جال، ١٨ ماشہ کا وزن۔" (١٩٢١ء، وصنع اصطلاحات، ١٦٢)
"چراغ کی مختلف تجلیاں . بوندیوں اور پھواریوں یہ عکس انداز ہو رہی ہیں۔" (١٩٥٦ء، مناظر احسن، عبقات، ٢٢٠)
حلوائیوں کا اس سے تعلق ضرور ہے بوندی کی چاٹ پر ہے ستمگر لگا ہوا (١٩٧٤ء، ہزلیات، ٨٧)
کام آئے گا عمل سے عقیدہ کتاب کا باتوں کا جمع خرچ نہیں دن حساب کا (١٩٦٥ء، اطہر، گلدستۂ اطہر، ٤١:٢)
"ٹیم کی بیٹنگ بہت اچھی ہو گئی ہے اور اسی طرح بولنگ بھی۔" (١٩٦٧ء، اخبار جہاں، کراچی، ٢١ جولائی، ٤٢)