"اسکندریہ کا کتب خانہ حضرت عمر کے حکم سے . جلایا گیا چھ مہینے تک مصر کے حماموں کا ایندھن بنا رہا۔" (١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٥٦:٣)
"آج سے سو برس پہلے صرف ایک قسم کی اینٹ ہوتی تھی جسے لکھوری کہتے تھے۔" (١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٤٩٨:١)
"ایٹمی طاقت معمولی ہتیاروں . اور دوسرے مسئلوں پر خوب بحث ہوئی۔" (ندارد)
"حکیم صاحب سال میں دو تین چکر لکھنؤ کے لگاتے ہیں ویسے عید، بقر عید، محرم تو لکھنؤ میں کرتے ہیں۔" (١٩٣١ء، رسوا، خورشید، بہو، ٧)
ہیں جو اے عشق تری پیغمبری کے بندے بس ہو ان کا تو نہ لیں نام بھی ہشیاری کا (١٩٥٠ء، کلیات حسرت موہانی، ٤)
ہونے ہی کو ہیں اہل زر بے بس بھی اور بے کار بھی ہے کار جن کے واسطے اک روز پائیں گے نہ بس (١٩٢٢ء، سنگ و خشت، ١٠٧)
جسے تو بنا کے بگاڑ دے، کہیں جاکے پھر وہ بنے گا کیوں جسے تو بسا کے اجاڑ دے کہیں جا کے پھر وہ بسے گا کیا (١٩١١ء، نذر خدا، ١٢)
"اکثر جگہ تمیز کے لیے اس کو بریکٹ میں محدود کر دیا ہے۔" (١٩٠٥ء، کلیات نظم حالی، ٣:٢)
بدبو سے ہوا کو ہے بسانا کیچڑ میں غلیظ پھد پھدانا (١٩٤١ء، عروس عطرت، ٣٣)
"جہاں پناہ کی بدلی قلعے سے رنگون کر دی۔" (١٩٢٨ء، پس پردہ، ١٣٩)
رخ ہے پردے میں دل عشاق میں ہے چاند بدلی میں ہے اور چاندنی آفاق میں ہے (١٩٢٦ء، مراثی نسیم، ١٨٨:٢)
|ایسی دفعات رکھ دی جائیں جو ہمارے حاکمانہ اثر کو ان پر بحالہ قائم رکھیں۔" (١٩٢٦ء، |اودھ پنچ| لکھنؤ، ١١، ٤:٦)
"اسکینڈی نیویا کے دور و دراز اور برفیلے ملک میں بھی آج تک مسلمان سودا گروں کی اولوالعزمی کے آثار پائے جاتے ہیں۔" (١٩١٠ء، خیالات عزیز، ١٣٨)
مخلوق نور شمع حقیقت نماے خلق راہ نجات راے سے حق کی براے خلق
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس مجموعے کو یعنی عہد عتیق کہتے ہیں۔" (١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣:١)
|ممکن ہے کہ یہ جواب براسہ انتقال کے محال ہونے کی دلیل ہو۔" (١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ١٣٤)
"منوشاستروں میں ویدوں کے اشلوک کانوں میں پڑنے پر پگھلا ہوا سیسہ بھرنے کا فتویٰ ہے۔" (١٩٢١ء، شاہ احمد رضا خان، ترجمہ قرآن مجید)
["\"ہم تنقید کرکے معلوم کر سکیں گے کہ سابقہ اور حالیہ رنگ میں کیا فرق پیدا ہوا۔\" (١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ٢١:٣)","\"قصیدے میں کبھی بہار اور گلزار کی تعریف ہوتی ہے تو اس کی بہاریہ . اور گردش زمانے کی شکایت ہو تو حالیہ . کہتے ہیں۔\" (١٨٦٦ء، انشائے بہار بےخزاں، ٥)","\"یہ ترکیب بند مرزا کی عمدہ ترین حالیہ نظموں میں سے ہے۔\" (١٨٩٧ء، یادگار غالب، ٣٢)"]
"ڈاکٹر صاحب کو ایک مقام حاصل تھا، ان کی تحقیقات کا دائرہ صرف حشریات تک محدود تھا۔" (١٩٧٩ء، جدید سائنس، کراچی، دسمبر، ٧٧)
|اول تو اسے وارڈ اور بعدازاں نائب جیلر کے ڈنوں کی سخت مار برداشت کرنا پڑے گی۔" (١٩٠٨ء قید فرنگ، ٨٩)
"پچھلے چند سالوں میں ماہرین آثاریات کی دیرینہ آرزو بالآخر پوری ہوئی۔" (١٩٢٧ء، تاریخ یونان قدیم، ٣٢٢)
|حاکم وقت کیسا ہی . با اقتدار ہو پھر بھی بندہ بشر ہے۔" (١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٥:١)
کتنا ہی کوئی جری نہ کیوں ہو ہوتے نہیں وار ایک سے دو (١٩١٨ء، مطلع انوار، برق، ١٦٦)
جب دیکھئے توہے مئے و معشوق پر نگاہ با ایں ہمہ ریاض بڑے پارسا بھی ہیں (١٩٣٢ء، ریاض خیرآبادی، ریاض رضواں، ١٨٧)
"مغل افواج نے کشمیر کی آزادی کو ختم کر کے یہاں کے خودمختار بادشاہوں سے عہدشکنی کی۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٣١)
"ان چیزوں کا فوراً ہی علاج کر دیا جائے جو عہدطفلی میں پہلی نظر میں معمولی اور غیرمضرت رساں معلوم ہوتی ہیں۔" (١٩٨٠ء، ماہ و روز، ١٢٠)
"ولی دکنی سے میروسودا تک اردو اپنے عہد طفولی سے گزرتی رہی تھی۔ (بت خانہ شکستم من،١٧)
"یہی زمانہ یورپ کے عہد ظلمت سے نکلنے کا بھی زمانہ ہے۔" (١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ١١٣:٦)
یہ جبر ازل کا ہے نتیجہ کہ بہ اکراہ پیماں شکن و عہد فراموش رہے ہم (١٩٦٨ء، غزال و غزل، ٣٧)
عہدِ فردا کے بھی ضامن ہیں امینِ حال بھی سندھ و سرحد بھی بلوچستان بھی، بنگال بھی (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی ٢٣مارچ (انیس امروہی)، ٣)
"بچپن کے اندیشے اور وسوسے عہد قدیم کے آدمی کے وسوسوں اور اندیشوں سے جا ملتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، کلیات منیر نیازی، ٩٨۔)
"خلائق عہد کے پورے حفاظت میں معروف، امانت میں مشہور تھے۔" (١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)،٧)
"عہدکہن کی ان داستانوں میں کیا رکھا ہے۔" (١٩٨٢ء، اُردو افسانہ نگار اور افسانہ نگاری، ١٧٢)
دونوں امام خلق میں با آبرو ہوئے سرسبز وہ جناب تو یہ سرخرو ہوئے (١٩١٤ء، شمیم، ریاض شمیم، ١٢٩:٧)
"یقیناً لاشعور بھی تمام کا تمام انہی سے عبارت ہے کہ ان کا منبع و ماخذ یادوں میں، عہدگزشتہ کے تجربات میں اور شاید خود زندگی کے سلسلہ ہائے عمل میں ہوتا ہے۔" (١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٣٨)
عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمن اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن (١٩١١ء، بانگ درا، ١٨٦)
"جب ایجاب و قبول. طریقہ عمل سے مستنبط ہو وہ عہد معنوی متصور ہو گا۔" (١٩٣٨ء، علم اصول قانون، ١٠٥)
"اس دن کو میثاق کا دن اور اس عہد کو عہدِ میثاق کہتے ہیں۔" (١٩٧٩ء، تاریخ پشتون، ٨٣)
"یہ عموماً سیلیا دار (Ciliated) چھوٹا اور حرکی (Motile) ہوتا ہے۔" (١٩٧١ء، برائیو فائیٹا، ٨)