"فقیر کے آگے ہاتھ باندھ کر کہا، بابا جی! میں اس ملک کا ولی عہد ہوں۔" (١٩٦٣ء، ساڑھے تین یار، ٣٤)
"بابائے قوم کے یوم ولادت پر رہنماؤں کے پیغامات۔" (١٩٧٨ء، روزنامہ جنگ، کراچی، ٢٥ دسمبر، ١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ہندوستانی - انگریزی - بابو انگلش کے نام سے بدنام ہے۔" (١٩٣٦ء، خطبات عبدالحق، ٧٦)
"عربی، فارسی اور ہندی اور ان تینوں میں کم و بیش ایسی خصوصیات ہیں جو ترجمے کے کام میں بہت مدد دے سکتی ہیں۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ، روایت اور فن، ٥٧)
"جاوید کسی قدر سیانا تھا، ایک حد تک خاموش اور کم آمیز، گھل کر ملنے یا بات کرنے میں بھی تکلف کرتا تھا۔" (١٩٩٠ء، فاران، کراچی، نومبر، ٢٠)
آباد رہے سایۂ ایوان امارت اچھے ہیں ہم اس چرخ کم آزار کے نیچے (١٩٧٧ء، حرفِ دل رس، ٨٨)
"تمام ملک ریگستان، کم آب اور پر شور تھا۔" (١٨٦٧ء، مقالات مولانا محمد حسین آزاد، ١٢٦)
"ایک کلو گرام میں ایک ہزار گرام ہوتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، ریاضی، چوتھی جماعت کے لیے، ٩٤)
"کلورین کا ایک مرکب کلورائیڈ ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ)
"سوداگری، صنعتی نظام کے ساتھ کلرکی بابو گری لازم و ملزوم تھے۔" (١٩٧٣ء، |اوراق| لاہور، مارچ، اپریل، ٢٩٢)
"زندگی کے مجرد کلیات اور نظری حقائق پر غور کرنے میں مجھے زیادہ لذت ملتی تھی۔" (١٩٨٤ء، ارمغان مجنوں، ٣٠٥:٢)
تیری باتیں خدا کی باتیں ہیں کلمۂ حق میں کچھ کلام نہیں (١٨٦٧ء، رشک (نوراللغات))
"بیساختہ کلمۂ تحسین و آفرین منھ سے نکل گیا۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ١٧٤)
"اُن کے علم کی بنا |بصیرت| پر ہے جو متاعِ عزیز کی طرح آج کم یاب ہے۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتحپوری شخصیت اور فکروفن، ٦٠)
"ہاں، اردو میں کلمۂ ایجاب ہے اور اگر اسپر زور دو یا مکرّر کر لو تو بمعنی نہی آتا ہے۔" (١٨٧٢ء، عطر مجموعہ، ٢٦٦:١)
"نوجوان ناول نگاروں کے ضمن میں لارنس کے حق میں ایک آدھ کلمۂ خیر کہہ کر رکھا تھا۔" (١٩٨٦ء، فکشن فن اور فلسفہ، ١٠)
"نام ان کا دل بے قرار ہوتا، کے درمیان کلمۂ تخاطب کی ضرورت ہے، پھر سوال یہ ہے کہ ان کا نام زبان پر کیوں نہیں ہے۔" (١٩٨٣ء، بت خانہ شکستم من، ١٧٦)
"حضور کو کہاں مناسب ہے جو ادٰنی ملازموں کے مقابلے کو جائیں یہ کمترین جا کر سب کو سزا دیگا۔" (١٨٨٢ء، طلسم ہوشربا، ٤٣٣:١)
ریل پر قربان، ہوٹل پر نثار باپ دادا کی کمائی ہو گئ (١٩١٤ء، طوفان نوح، ٢٣٩)
"ارغن پائپوں میں عام طور سے دھاتی پٹیاں (Reds) استعمال کی جاتی ہیں۔" (١٩٦٧ء، آواز، ٤٨٩)
"ان کی فکر ان کا سماجی ادارک، خود اپنی ذات کے توسط سے کسی برتری یا کم تری کی گردشوں میں مبتلا نہیں تھا۔" (١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ بجولاں چلو، ١٢٦)
"ہمارا روپیہ ہے۔ ہمارا جس طرح جی چاہتا ہے صرف کرتے ہیں۔ تم کیوں ٹوکتے ہو، تمھارے باپ کا اجارہ ہے۔" (١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٥٨:٢)
کم از کم تیسری دُنیا کے سامنے نہایت پیچیدہ مسائل کا انبار ہے۔" (١٩٨٨ء، آج بازار میں پابہ جولاں چلو، ٥)
"میری لاش کو کفنانے کے بعد ایک مرتبہ پھر ام المومنین سے پوچھ لیا جائے۔" (١٩٨٤ء، طُوبٰی، ١٦٤)
"جب یہ بچہ سفر کے لیے روانہ ہوا ہے تو باپ کا سایہ نہ تھا اور جب مکے واپس آیا تو ماں کی مامتا سے بھی محروم ہو گیا۔" (١٩٦٢ء، محسن اعظم و محسنین، ١٢)
اس نے نگاہ سے جالب رسم و راہ کی خاطر ہم نے کم نگاہوں کے ناز بھی اٹھائے ہیں (١٩٨٩ء، اس شہر خرابی میں، ٥٤)
"ہمارے اطالوی دوست اپنے باپ کا گھر سمجھ کر حبش کے خالی مقامات پر درانہ گھسے چلے گئے۔" (١٩٣٥ء، |اودھ پنچ| لکھنؤ، ٢٠، ١٠:٣٩)
"ہائے ہائے ایسی کمسنی کی موت خدا کسی کو نہ دے۔" (١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٨٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اگر گردوں کی کمزوری کی وجہ سے کسی کو دردِ کمر لاحق ہو تو اس کا استعمال یقینی فائدہ کا حامل ہے۔" (١٩٨٢ء، قیمتی پتھر اور آپ، ١١٣)
"اردو ہر زبان کی پونجی کو اس طرح سے لے لیتی ہے جیسے اس کے باپ ہی کا مال ہے۔" (١٩٢٨ء، باتوں کی باتیں، میر باقر علی، ٤٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
تو خود فرماندہ جیپور نے نسبت کی خواہش کی اگرچہ آپ بھی وہ صاحب دیہیم و افسر تھا (١٩١٤ء، شبلی، کلیات، ٢٧)
"میر اثر کی مثنوی خواب و خیال زبان کی صفائی سلاست اور افسانویت میں میر کی مثنویوں سے بہتر ہے۔" (١٩٣٣ء، نقد الادب، ١٦٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"ایسا کیا باپ مارے کا بیر بیٹی سے پڑ گیا کہ صورت ہی دیکھنے کی روادار نہیں۔" (١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، راشدالخیری، ٦٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
کیا ہے دیدۂ و دانستہ انکا الوہیت ستم اس پر بنا ہے مادے کا بندۂ بے زر (١٩٣٥ء، عزیز، صحیفۂ ولا، ٥٥)