"ریاست وہ الوہی تصور ہے جو زمین پر ظاہر ہوتا ہے۔" (١٩٧٦ء، موسٰی سے مارکس تک، ٢٥٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی شخص ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اجازت نامے کے بغیر گھی اور چاول بیرون ریاست نہیں لے جاسکتا۔" (١٩٥٣ء، سرروز، مراد،٣، ٢:٥٩)
[" سب سے بات ہے ان کی بالا سب سے اونچے سب سے اعلٰی (١٩٠٢ء، جذبات نادر، ٢٣:١)","\"اس نے رومیوں کے اعلٰی تمدن . میں پرورش پائی ہے۔\" (١٩١٠ء، فلپانا، ٤٨)","\"ثبوت کی شان اس سے بدرجہاں ارفع اعلٰی ہے۔\" (١٩١٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٣٧:٢)"]
بھرتے ہو دم رقیب کا تم بات بات پر یہ ہم کو ناگوار ہے یہ ہم کو ناپسند (١٩٣٦ء، شعاع مہر، ٤٢)
"مدارس کے ایک انگریز افسر کا خط بھی نقل کیا ہے۔" (١٩٣٧ء، خطبات عبدالحق، ٩٣)
"اسی کو - بات کا بتنگڑ کہتے ہیں۔" (١٩٠٧ء، امہات الامّہ، ١٠٥)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"تجھے عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ میں بات کا کتنا پکا ہوں۔" (١٩٤٥ء، الف لیلہ و لیلہ، ٦٦:٦)
"ان ملکوں کے لوگ، کم علم، کم معلومات ہوتے ہیں۔" (١٨٨٧ء، سخندانِ فارس، ٤٤:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"تعلیم یافتہ انڈونیشی زیادہ سے زیادہ کلر کی حاصل کر سکتے تھے۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٣٨٣:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"تم بھی اپنی بات کے بڑے سچے ہو۔" (١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١١١)
"جامعاتی کلیات زندگی جہاں نیچ ذات کا آدمی اونچی ذات کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا اور چلتا پھرتا ہے۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٦٢)
"جیسے ایک کلر ُبلائنڈ کے لیے رنگ محذوف کر دیے ہیں۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٤٦)
"پانی میں کلورین کی بہت مقدار آپ کی صحت کے لیے مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔" (١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ١٤ ستمبر، ٣)
"جس زمانے میں لارنس نے فکشن پر تنقید شروع کی تو اس کے سامنے کم سے کم انگریزی زبان میں کوئی ایسا نمونہ موجود نہ تھا۔" (١٩٨٦ء، فکشن، فن اور فسلفہ، ١٠)
نرگسِ حیراں ہے مجھے بیدار یوں سے آشنا کون پاوے گا خیال اس دیدۂ کم خواب کا (١٩٤٧ء، دیوان قاسم، ٣)
"اندر سے مضبوط اور باہر سے کم زور دکھائی دیتا ہے۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ٦٣)
["\"لفظ Alexir یا Eleyirقرون وسطٰی کے کلامی Scholastic فلسفیوں تک عربوں خصوصاً ابن سینا کی کیمیاوی تصانیف کے ذریعے پہنچا۔\" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٧:٣)"]
"مغلوں کی عیش کوشی کی جانب توجہ دلاتی تھی۔" (١٩٨٧ء، غالب و فکروفن، ٢١)
"جہاندار شاہ . یہ عیش و عشرت کا دلدارہ اور شمشیر و سناں کی جگہ طاؤس و رباب کا رسیا تھا۔" (١٩٩٠ء، نگار کراچی، جنوری، ١٩)
منزل دنیا کو اے یارو نہ سمجھو عیش گاہ یہ مقامِ رنج و غم ہے یاں نہ عیاشی کرو (١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٢٠٨:١)
کوئی دن رات کو نہیں ملتا آدمی بات کو نہیں ملتا (١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٣٩)
"لکھنؤ کی عیش کوش محفلوں کی رونق افروزی میں حسن نسوانی اور رقص و موسیقی کا بڑا ہاتھ تھا۔" (١٩٦٣ء، تحقیق و تنقید، ١٩٢)
کار خانے کا ہے مالک مردکِ ناکردہ کار عیش کا پتلا ہے محنت ہے اسے ناساز گار (١٩٤٤ء، بانگ درا، ٣٣٥)
"گویا میں دن رات کھیل کود اور عیش و جیش میں محو اور خوش رہنا چاہتی ہوں۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم چالیسی، ٢٠:٢)
موت ہے عیش جاوداں ذوقِ طلب اگر نہ ہو گردش آدمی ہے اور گردشِ جام اور ہے (١٩٠٨ء، بانگ در، ١١٩)
"اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا کہ عیش پرستی اور دلی ہوسوں کے تکمیل کے لیے اس گولی سے بہتر کسی دوا کا ملنا دشوار ہے۔ (١٩٣٧ء، سلک الدرر، ١٨٤)
لو دیکھ لو اب عیش پرستوں کی دسا مردے دیکھلے نہ ہوں گے چلتے پھرتے (١٩٥٧ء، یگانہ، گنجینہ، ١١٩)
جی تو کہتا ہے کہ اس کو ساتھ ہی رکھیں مگر اپنے پاس اس حسن عیش انگیز کی قیمت کہاں (١٩٨٢ء، کلیات منیر نیازی، ٨٠)
"ہاں کتابیں بھیجنا تو آٹو گراف ہی سمیت بھیجنا۔" (١٩٥١ء، زیرلب، ٢٠٤)
الوداع اے سر زمین نانکِ شریک بیاں رخصت اے آرام گاہ چشتی عیسٰی نشان (١٩٠٢ء، باقیات اقبال، ٢٩٤)
اک تہماری چپ میں سو اعجاز دیکھے اے تبو دم بخود ہے عیسٰی مریم تمہارے سامنے (١٨٨٢ء، آفتاب داغ، ٩٩)
بالینِ غم پہ عیسٰی دوراں کب آئے گا معبود وہ پیمبر درماں کب آئے گا (١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٢٣٢)
"حضرت عیسٰی کے ابتدائی پیرو آپ کو صرف نبی مانتے تھے۔" (١٩٧٢ء، سیرت سرور عالم، ٦٤٧:١)
"وفات کے وقت بہتّر سے لے کر پچھتّر تک جو عمر بتائی جاتی ہے وہ عیسوی سال کے لحاظ سے ہے۔" (١٩٧٦ء، میر انیس حیات اور شاعری، ٣٠)
"عیدین میں گلے ملنے کی شرع سے کوئی اصل نہیں، لیکن اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ١٢٤)