سوز دروں چشمۂ سوز دروں جاری ہوا مندمل زخموں سے خوں جاری ہوا (١٩٨٤ء، چاند پر بادل، ١٣٦)
سوز دل"وہ تعمیر و تصویر جو سوزِ دل میں بنائی اور خُونِ جگر سے سینچی گئی ہو۔" (١٩٨٢ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٤٩)
سودا[2]["\"نتیجتہً سودا کی بہت سی قسمیں پہلے کی نسبت اب زیادہ تر نفسیات کے ذریعے دور کی جاتی ہیں۔\" (١٩٦٣ء، تجزیۂ نفس (ترجمہ)، ٣٣)"," سر ہو تو سر میں زلف کا سودا ہی چاہیے دل ہو تو دل میں دردِ محبت ضرور ہو (١٩٨٧ء، تذکرۂ شعرائے بدایوں، ٥٨:١)"," سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسا بھی نہیں (١٩٣٥ء، شبنمستان، ٦٥)"," سودا کو ترے ترانہ اک کافی ہے مستوں کو ترے بہانہ اک کافی ہے (١٩٣٨ء، الخیام، ٦٠)"]
سوچ کے دھارے"ہمارے معاشرے میں سوچ کے دھارے روز بروز خشک ہوتے جا رہے ہیں۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ٢٨)
سودا گری["\"اندرون پاکستان تعلیم، صنعت، تجارت و سودا گری، قومی دولت، فی کس آمدنی اور روحانی ماحول میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔\" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ٧١)"]
سوختہ جان میں نے سوچا ہے بہت سوچا یہ آخر پایا دہر میں سوختہ جانوں کا مقدر ہے یہی (١٩٧٨ء، ابنِ انشا، دلِ وحشی، ١٧٢)
اسطورہ"بہت سے اساطیری ماہرین کا یہی خیال ہے کہ فن، مذہب اور فلسفہ کی ابتدائ اور خام صورت اسطور - اسطور میں دیکھی جا سکتی ہے۔" (١٩٦٨ء، نگاہ اور نقطے، ٢٤)
سوختہ سامان"میں بھی ان سوختہ سامانوں میں سے ایک تھا۔" (١٩٨٧ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ١٦٣)
سوختہ نصیب"اگر مر جاتا تو اس کی سوختہ نصیب جوان مٹی بھی سہارے لگ ہی جاتی۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٥٣)
سود بخش"یورپ کی دوسری قومیں بھی اس سود بخش کاروبار میں حصہ بٹانا چاہتی ہیں۔" (١٩٤٦ء، معاشیاتِ قومی (ترجمہ)، ٣٩٣)
سوڈا بائی کارب"ڈسپنسری کا معائنہ کیا جس میں ٹنکچر آیوڈین، سوڈا بائی کارب، ایسپرین. اور کوئی دوا موجود نہ تھی۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٤٩٦)
سوڈا کاسٹک"سوڈا کاسٹک اور کیمیائی اشیاء تیار کرنے کے کارخانے بھی موجود ہیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ٣٩٨:٣)
سوراخ دار"(یُو) کی شکل کے سوراخ دار. فولادی برتن لٹکے ہوتے ہیں۔" (١٩٨٥ء، غیرنامیاتی کیمیا، ٥٠)
سود فراموش کیوں زیاں کار بنوں، سود فراموش رہوں فکرِ دنیا نہ کروں محوِ غمِ دوش رہوں (١٩١١ء، بانگِ درا، ١٧٧)
سودمندی"کتاب سے استفادہ کرنے طبقات و شعبہ جات کے لیے اس کی سودمندی اور مفید ہونے کے پہلو اجاگر کر دیئے جاتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، صحفیہ، لاہور، جنوری تا مارچ، ٩٨)
سود و زیاں دستورِ آرزو تو ہے سُود زِیاں سے پاک پھر بھی لگا ہے کھٹکا ہمیں احتساب کا (١٩٨٦ء، غبار ماہ، ٩٥)
سودا[1]"اچھے زمانے، سستے سمے، پیسے میں چار سو روپے آتے تھے۔" (١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٢١)
سودا بازی"اس سودے بازی میں پیرزادہ کو اپنی کابینہ میں قاضی فضل اللہ کے گروپ سے بھی دو وزیر لینے پڑے۔" (١٩٨٦ء، پاکستان مسلم لیگ کا دورِ حکومت، ٢٠٨)
سودا سلف"ممدو ڈیوڑھی میں آکر سودا سلف دیتا ہے ورنہ خود ہاتھ بڑھا کر اس سے لے لیتی ہے۔" (١٩٨٧ء، گردشِ رنگ چمن، ١٥٢)
سوداے خام"وہ محبت تھوڑا ہی تھی۔ وہ تو سوداے خام تھا بلکہ خیالِ خام تھا۔" (١٩٤٨ء، پرواز، ١٩٠)
سودا زدہ"اس وحشی مگر فسوں کار سودا زدہ مرد کی آغوش سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کر رہی تھی۔" (١٩٤٠ء، سجاد حیدر، خیالستان، ٤٥)
لیکچر"شاعری پڑھاتے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ ان کا لیکچر کوئی الہامی لیکچر ہے۔" (١٩٩١ء، اردو نامہ، لاہور، جون، ٩)
لمیٹڈ"اسلام. شخصی گورنمنٹ سے موافق نہیں اور نہ لمیٹڈ مانرکی کو مانتا ہے۔" (١٨٩٨ء، سرسید، مکتوبات، ١٨٧)
لمیٹڈ کمپنی"روزانہ "صلح کل" بھی لمیٹڈ کمپنی کی طرف سے میں نے جاری کیا۔" (١٩٣٦ء، ریاض خیر آبادی، نثر ریاض، ٥٣)
لیبل"بہت فرق پڑتا ہے، لیبل کا فرق ہو، خواہ بوتل میں ایک ہی چیز ہو۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ١٨٨)
لنڈا[2]"ہمارے ہاں تحریکیں بھی لنڈے ہی سے آتی ہیں سو آئیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اتنی ہی پائیدار ہوتی ہیں جتنا کہ لنڈے کے کپڑے!۔" (١٩٨٧ء، فنون، لاہور، دسمبر، ٢٠٤)
لنگر انداز"چھوٹی چھوٹی کشتیوں کا بڑے بڑے لنگر انداز جہازوں کے بیچ میں ادھر ادھر لہراتے پھرنا۔" (١٨٩٣ء، بست سالہ عہد حکومت، ٧)
آپریٹر"وہ گریٹ ایسٹرن ہوٹل میں ٹیلی فون آپریٹر تھی۔" (١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٢٧٦)
باب الصدقہ"جس نے صدقہ بہت دیا ہے اس کو باب الصدقہ سے پکاریں گے۔" (١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠)
لڑاکا طیارہ"لڑاکا طیاروں کے چھ سکواڈرن ہیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٦٠:٣)
لطف اندوز"خاص طور پر گاؤں کے ماحول اور کردار سے متعلق تفصیلات سے قاری لطف اندوز ہوتا ہے۔" (١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٥٧)
باب الصلوۃ"کسی نے بے ریا نمازیں بہت پڑھی ہوں گی اس کو باب الصلوۃ سے ملائک پکاریں گے۔" (١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠)
باب العلم"امام حسین اپنے والد - حضرت علی کی آغوش حکمت میں رہے جن کے متعلق سرکار دو عالم نے فرمایا ہے کہ علی باب العلم ہیں۔" (١٩٤٠ء، فاطمہ کا لال، ١٤)
باب توبہ ہو گیا بند در میکدہ کیا قہر ہوا باب توبہ کی طرح اس کو کھلا رہنا تھا (١٨٧٢ء، مراۃ الغیب، ٦١)
سیل آب موجوں میں اضطراب ہے جوش پہ سیل آب ہے تیرے جمال میں کشش اے مہِ جلوہ تاب ہے (١٩٢٢ء، مطلع انوار، ٤٥)
سیل[1]"راز کے کاغذوں پر جو مہر لگائی جاتی ہے اِسے انگریزی میں سِیل کہتے ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٧٧)
باب جبرئیل"مسجد شریف میں باب جبرئیل سے داخل ہو تو افضل ہے۔" (١٩١٠ء، سراج منیر، ترجمہ، زین العابدین، ٦٥)
سیل[2]"سیل (دریائی بچھڑے) اور وہیل ہزاروں میل کا سفر کر کے نقل مکانی کرتی ہیں۔ (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٣٧)
سیریل"داستانوں پر مبنی بعض فلمیں سیریل کی صورت میں بھی بنائی جا چکی تھیں۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، جنوری، ١٨)
جیولری"نئی ساڑھی، نیا جوڑا، پرس، جوتا، نقلی جیولری، عمدہ چپل۔" (١٩٦٧ء، یادوں کے چراغ، ٢٢٨)