"طلبی فعل سے ہم کیا مراد لیتے ہیں۔" (١٩٣١ء، نفسیاتی اصول (ترجمہ)، ٧٥)
"حضرت ذاکر کو تو اپنی طلیق اللسانی اور زبان آوری کے معجزے دکھلانے تھے۔" (١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکنھؤ، ٢٠، ٤:١٣)
"کبھی کبھی ان سے بازار کا نرخ پوچھتی رہا کرو۔" (١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٨١:١)
"مسندِ صدارت کے لیے ان کے انتخاب میں طنز ملیح کا کوئی پہلو نہاں ہے۔" (١٩٦٢ء، میزان، ١٠٧)
"رومی معاشرہ اپنے الخطاط کے دور میں سخت درجہ کی ظالمانہ طبقہ واریت کے شکنجہ میں کسا ہوا تھا۔" (م١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٨٥)
"آخر میں پانچواں مشیر قافیہ بدل کر قدرے طول کلامی سے کام لیتا ہے، اور اس کی بات کاٹنے والا کوئی موجود نہیں۔" (١٩٨٧ء، نگار، کراچی، اگست، ٩٠)
"طول موج دو متصل فرازوں یا دو متصل نشیبوں کے درمیان فاصلہ ہے۔" (١٩٨٤ء، کیمیا، گیارہویں جماعت کے لیے، ٥٢)
"طبی معاونیں حضرات کو طبی سماجی کارکن کیا جاتا ہے۔" (١٩٦٩ء، طبی سماجی بہبود تعارف، ک)
"عوام تو اسلام کی شان و شوکت کے لیے . مرنا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نیز سر براہان مملکت نے ان کے اس طبعی رجحان کی روک تھام کی۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٤٨)
"یہ اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں خود اپنے ملک میں بھی انہوں نے طبقہ واری تقسیم کر رکھی ہے۔" (١٩٨٠ء، تجلی، ٢٠٣)
"صاف ہوا، صاف پانی، طاقت دہ اور پوری غذا روشنی، ورزش، حفاظت جسمانی اور اعتدال صحت کے لیے ضروری ہیں۔" (١٩١١ء، باقیات بجنوری، ٧٦)
"ہم حس کی تعریف یہ کر سکتے ہیں کہ یہ کسی آخِذہ . برانگیختگی اور اس سے پیدا ہونے والی ایک شعوری ذہنی کیفیت کا نام ہے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ١٢٣)
عدو مرتا ہے تم پر میں کبھی اس کو نہ مانوں گا یہ ہیں بازار کی خبریں یہ ہیں بازار کی باتیں (١٩٠٤ء، سفینۂ نوح، ١١١)
"عہد سودا اور میر میں بھی کچھ لوگ . ازراہِ بے خبری یا قدامت پرستی، متروک الفاظ اور طرق استعمال سے کام لیا کرتے تھے۔" (١٩٨٩ء، صیحفہ، لاہور، اپریل، جون، ٢٥)
"داڑھی اور مونچھوں کی گہری سیاہی نے طرہ کلاہ کو دعوتِ یگانگت دینی شروع کر دی۔" (١٩٢٦ء، طلیعہ، ٦٠)
فکر مکتب کیا ہو? گویا فکر ہفت اقلیم کی اور طلسمی لوح ایک الف بے جیم کی (١٩٥٠ء، صفی، (مہذب اللغات))
"لیکن اس فضول غل غپاڑے کی فضا میں کہیں کہیں کوئی ایسی نثری نظم بھی لکھ لیتا ہے جس میں شعریت محسوس کر لینا دشوار نہیں۔" (١٩٨٦ء، سلسلہ جوابوں کا، ١٤٨)
کرن سی تیر گئی جس طرف وہ آنکھ اٹھی نگاہ شوخِ غزال ختن کی آنچ نہ پوچھ (١٩٤٣ء، شبنمستان، ١٣٦)
"وہ جیسا بھی تھا، ضدی تھا، غصیلا تھا، اپنی منواتا تھا، پرتھا تو اس کے قریب۔" (١٩٨٥ء، کچھ دیر پہلے نیند سے، ٩٨)
"موصوفہ کا (پروفیسر کرشن ہوف کی اطلاع کے مطابق) ١٠٢ سال کی عمر میں ١٩٧٨ء میں انتقال ہوا یعنی وہ جشن صد سالۂ اقبال کی گہماگہمیوں اور غلغلہ اندازیوں کے دوران زندہ رہیں۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، جون، ٢١)
اب آخرت ہی نذر غزالِ حرام کریں دنیا تو نذرِ دخترکِ برہمن ہوئی (١٩٦٨ء، غزال و غزال، ٢٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
خدا جانے کہا کس کو ستمگر راہ چلتوں نے خفا کیوں ہو کوئی بازار کی گالی بھی گالی ہے (١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٠١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"دولت کی فراوانی میں بندہ حرف اللہ کے لیے فقر و غنا اختیار کرے۔" (١٩٨٤، طوبٰٰی، ١٨٩)
"انہیں اسکی بڑی فکر رہتی تھی کہ عوام فقر و فاقے سے نجات پائیں۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ٨٧)
"جہاں دونوں فَقْری (vertebral) شریانیں مل کر قاعدی (Bailar) شریان بناتی ہے۔" (١٩٣٥ء، عروقیات، ٤٦)
"بلوچستان میں قومی سرگرمیوں کے سلسلے میں طلبا کا یہ ایک فقید المثال مظاہرہ تھا۔" (١٩٨٦ء، تحریک پاکستان میں بلوچستان کا کردار، ١٣٧)
"فکاہی حکایتوں میں ایک قصّہ یہ . بیان کیا جاتا ہے۔" (١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٣٠٨)
"ان فریب خوردہ سادہ لوح اللہ کے بندوں کو صحیح حالات بتانے اور اسلام سے واقف کرانے کی شدید ضرورت ہے۔" (١٩٨٤ء، طوبٰی، ٤١٦)
"وہ اس کو خواب یا فریبِ نگاہ تصور کرنا چاہتی تھی۔" (١٩٨٨ء، نگار، کراچی، ستمبر، ٦٠)
"سلطان محمد کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ دنیا میں . فریدون جیسی حکومت قائم کرے۔" (١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی، (سید معین الحق)، ٦٥٤)
"فزیالوجی |Physiology| علم اعمال و افعالِ اعضا کے لیے مرّوج ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٢٢٣)
"ہم ایک اور وارڈ میں گئے اور فزیو تھراپی کا شعبہ بھی دیکھا۔" (١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٢٣١)
"منجھلے بھیّا جب سرکار میاں کے ہاتھ کے ساتھ فساد زدہ گاؤں سے جا کر واپس آئے تھے تو کچھ دن کو بہت دھیمے اور نرم پڑ گئے تھے۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٩)
"آدمیوں میں کشمکش کا ہونا ایک ضروری بات ہے جسکا نتیجہ ہے فساد فی الارض اور یہ خدا کو منظور نہیں۔" (١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٢:٢)
"اسکی رائیں اسلام کے متعلق ایک فسانہ گو کی رائیں ہیں۔" (١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١٢٩)
"سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ فسانہ نگاروں کی نگرانی کے لیے محکمہ نظارت قائم کیا جائے۔" (١٩٣٢ء، ریاست، ١١١)
["\"اْنکا فرعونی انداز گفتگو انکا یہ عقیدہ کہ مذہب کو عقل سے کوئی لگاؤ نہیں اور اُنکا یہ پندار کہ وہ عام سطح سے بہت بلند ہیں۔\" (١٩٦٣ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکرو فن، ١٠٥)"]
"مولٰنا محمد علی جوہر سے استفادے کا، ان سے فیض صحبت حاصل کرنے کا اور انکی شخصیت کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا مجھے موقع ملا۔ (١٩٨٥ء، حیاتِ جوہر، ٣٧٥)