"حضورات پائے گاہ، پاک نویسی، جنسی، کٹی، گھاٹی اور غولی وغیرہ افواج مدت کی تخفیف میں آ چکیں۔" (١٩٣٩ء، ریزۂ مینا، (حاشیہ)، ٣٨٨)
"مرغوب ایجنسی لاہور نے ان رباعیات کا پاکٹ ایڈیشن شائع کیا ہے۔" (١٩٢٦ء، اورینٹل کالج میگزین، نومبر، ٧٨)
"پروفیسر . نے اپنی پاکٹ ڈائری میں حساب لگا کے ہمارے کان میں مژدہ سنایا۔" (١٩٧٦ء، زرگزشت، ٢٦١)
"استاد . نہایت پاکیزہ سیرت ایک عالم نور تھے۔" (١٩٠٠ء، امیر مینائی، مکاتیب، ١٣)
"ایسی پاکیزہ صورت ہے جی چاہتا ہے دیکھا ہی کرو۔" (١٩٦٠ء، مہذب اللغات، ٤٨٠:٢)
"یہ ابرگندہ بہار گھر کر آیا ہے اکثر سنا ہے کہ اس طرف برف خونی پڑتی ہے۔" (١٩٠١ء، طلسم ہوشربا، ٥٨٩:٧)
"فوارے پانی کی چدریں چھوٹ رہی ہیں۔" (١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٤٩)
پیتے ہیں اب جناب مشیخت مآب بھی پانی کے مول بکنے لگی ہے شراب بھی (١٩٠٥ء، یادگار داغ، ١٨٤)
ہمیں کیا غیر کے کھیتوں پہ جو ابر کرم برسے نہ آئی اپنی جانب تو کبھی بوچھاڑ پانی میں (١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ١٥٦)
"ان کے لیے تو جائز ہے کہ وہ پالیٹکس کو ایک مشغلہ تفریح سمجھیں۔" (١٩٢٣ء، خطبۂ صدارت مولانا محمد علی، ١٢٦)
"امیر نے جب خواجہ صاحب سے بیعت کی تو جو کچھ نقد اور اسباب تھا سب لٹا دیا اور پابدامن ہو کے بیٹھ رہے۔" (١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٩٨:٢)
پا برہنہ نہ جنوں میں بھی خدا نے رکھا آبلہ پڑھ کے مرے پاؤں میں پاپوش ہوا (١٨٧٠ء، دیوان اسیر، ١٠:٣)
پا بزنجیر تھے مجرم بھی تماشائی بھی اور پولیس کو یہ تھا عذر کہ ہم ہیں محکوم (١٩١٤ء، شبلی، کلیات، ٨٤٤)
جوش معنی سے ہے سیراب اکبر اپنا ملک دل لوٹتا ہوں دولتیں اس ابر گوہر بار سے (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٦٩:٤)
"جہاں تک ممکن ہو بنی نوعِ انسان کے ان نادان اور گمراہ افراد سے بھی طوعاً و کرہاً، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس مقصد کی خدمت لے لیں۔" (١٩٧٣ء، سیرت سرور عالم، ٣٣٢:١)
["\"سرل چاپ ایک آلہ ہے جس کی مدد سے جسموں کے طولی ابعاد ناپے جاتے ہیں۔\" (١٩٣١ء، طبیعات عملی، ٣٠)"]
"دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٢٤١)
"ابن انشا نہ صرف اہم شاعر بلکہ ایک صاحب طرز طنز نگار بھی تھے۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٤)
"ٹریجدی یا غم نگاری کے بادشاہ تھے، میں نے جب دہلی جا کر دیکھا تو سَن سفید ہو چکے تھے۔" (١٩٧٨ء، معاصرین، ١٠٤)
"انوار کے بھی مرتبے ہیں، پہلے پہل بجلیاں سی چمک جاتی ہیں ان میں لذت ہوتی ہے ان کو طوالع یا لوائح کہتے ہیں۔" (١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٤٤٧)
"مؤلف نے اکثر طول عمل سے کام لیا ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧٩:٣)
وہ سلگتے شہر، وہ جلتا ہوا چربی کا تیل وہ نہا کر خون میں دھلتے ہوئے طوفان میل (١٩٤٩ء، نبضِ دوراں، ١٤٠)
"جیسے طوفان زدہ اندھیری رات میں کوئی مسافر حوصلہ ہارنے کو ہو۔" (١٩٤٢ء، کرنیں، ١٠٩)
ہو مصیبت تو نہیں کچھ خوف سیل اشک سے عیش ہو تو نفسِ طوفاں خیز سے ڈرتے رہو (١٩٢١ء، کلیات اکبر الٰہ آبادی، ١٦٢:١)
"گرم اور خشک علاقوں میں عام طور سے طوفان باد آتے رہتے ہیں۔" (١٩٦٢ء، اردو انسائیکلو پیڈیا، ١٠٢١)
"جی میں آتا ہے فلسطین چلیں طور سینین چلیں۔" (١٩٧٥ء، خروش خم، ١١٦)
ہمارے طالع برگشتہ کے بھی بلآخر نکل گئے ترے گیسو کے پیچ و خم کی طرح (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٨٩)
"سپینوزا کے نزدیک کائنات کا اصلی منبع ایک طبع الطبائع ہے۔" (١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٦٣)
"بالغ حشرات میں عموماً تین سادہ آنکھیں پائی جاتی ہیں، دو عموماً مرکب آنکھوں . کی طرف اور ایک طاق جبیں پر۔" (١٩٧١ء، حشریات، ٥٠)
"جست اپنی طیران پذیری کے باعث آسانی سے جدا ہو جاتا ہے۔" (١٩٤٨ء، اشیائے تعبیر (ترجمہ)، ١٣٥)
"تارک نماز و روزہ ہونا، طہارت جسمی کو لغو بتانا . ان گروہوں کے منسلک میں داخل ہو گیا تھا۔" (١٩٢٦ء، حیات فریاد، ١٤٨)
"عطر ایک طیران پذیر مائع ہے۔" (١٩٨٤ء، مبادی نباتیات)
اس دبدبے سے ان میں جو آیا وہ شیر نر۔ اک نیزہ باز فوج سے نکلا بہ کروفر (١٩٧١ء، مرثیۂ زائر (آباد محمد)، ٧)
طمع داری بری ہے اے عزیزاں نہیں کچھ خوب اے صاحب تمیزاں (١٦٣٥ء، سب رَس، ٧١)
کہ اے یار کم عقل توں یار ہو دغا خوش دیایاں طمع دار ہو (١٦٣٩ء، طوطی نامہ، غواصی، ٣٠)
"مورخوں کی عام رائے بلااختلاف یہ ہے کہ رعایا کی حالت بالکل طمانیت بخش تھی۔" (١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ٢٧٧:١)
"جنرل رومیولو جیسے فصیح البیان طلیق اللسان مقرر نے ہر نقطہ نگاہ سے تقسیم کی تجویز کے پر خچے اڑائے۔" (١٩٧١ء، تحدیث نعمت، ٥٢٤)
تیری طلعتِ زیبا تیرا دید کا وعدہ (١٩٧٨ء، ابن انشاء دل وحشی، ٢٢)
"یہاں تراکیب کی طلسم بندی کم ہے۔" (١٩٧٣ء، نظر اور نظریے، ٣٧)
"گلزار نسیم میں ایرانی فیلسوفیت کے ساتھ ساتھ ہندی طلسمات پسندی کی صورتیں بھی زیادہ نمایاں ہیں۔" (١٩٦٥ء، مباحث، ١٥٢)