"پنجاب کے لوگوں نے دنیا کی آنکھ میں اور غیر قوموں کی نگاہ میں اپنی قدر و منزلت کو قائم کیا۔" (سفرنامہ سرسید احمد خاں، ١٨٨٤ء، ٢)
"چاول کی بیشمار قسمیں ہیں، خاص قسمیں - باسمتی اور بادشاہ بھوگ ہیں۔" (١٩٦٦ء، جدید کاشتکاری، ٣٦)
"اس گرجے کے پہلو میں ایک بہت بلند خوش نما آرکیڈ ہے۔" (تحدیث نعمت، ١٩٧١ء، ٧٦)
"مثنوی میں آرٹ پیپر صرف کیا گیا ہے۔" (اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٩٣٠ء، ١٥، ٣:١٩)
آلودۂ معصیت ہے دامن میرا جل جانے کا مستحق ہے خرمن میرا (روح دوراں، ١٩٢٧ء، ١٣٢)
"مقصود یہ تھا کہ بلغاریا، روس کے لیے ایک آلہ کار بن جائے۔" (مسئلہ شرقیہ، ١٩١٨ء، ٥٥)
"یہاں کے سپرنٹنڈنٹ جیل ایک آئرش مین کتھولک ہیں۔" (خطوط محمد علی، ١٩١٩ء، ٨٠)
"پریم چند کے باہمی کرداروں کی محبت وہی نوخیز جوڑے کی سی محبت ہوتی ہے جس پر روحانیت اور آئیڈیلزم کا ملمع چڑھا ہوتا ہے۔" (میزان، ١٩٦٢ء، ٢٢٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"کسی آئی، ایم، ایس یا کسی آئی، ای، ایس کی میم صاحبہ یا صاحب کے کرتوتوں کا پتہ لگاؤ۔" (مضامین فرحت، ١٩٣٠ء، ٣، ٣٤)
"آئیڈیلسٹ مفکرین کا یہی خیال ہے کہ فارم مواد پر اوپر سے مسلط کیا جاتا ہے۔" (تنقیدی نظریات، ١٩٦٥ء، ٢٨١)
"اب عالمی مذاہب کی جگہ انٹرنیشنل سیاسی اور سماجی نظریات (آئیڈیالوجی) نے لے لی ہے یا لیتے جا رہے ہیں۔" (اقبال کی تلاش، ١٩٧٨ء، ١٨٨)
"اس کے کنارے کند ہو جائیں تو آئل اسٹون (تیل کے ساتھ پتھر) گھس کر تیز کر لینے چاہئیں۔" (فریٹ ورک، ١٨)
یہ چشتی سہروردی نقشبندی ہر اک تیری طرف آئل ہے یا غوث (حدایق بخشش، ٢، ١٩٠٥ء، ٨)
تیرے بیمار میں رہا کیا ہے اب تو آئی گئی کا سودا ہے (یادگار داغ، ١٩٠٥ء، ١٧٢)
"اگر آئی، سی، ایس والے نہ ہوتے تو ہندوستان کا کام کیسے چلتا۔" (مضامین فرحت، ١٩٣٠ء، ٣، ٣٢)
"کسی آئی، ای، ایس کی میم صاحبہ یا صاحب کے کرتوتوں کا پتہ لگاؤ۔" (مضامین فرحت، ١٩٣٠ء، ٣، ٣٤)
[" شدنی جو تھی وہ اسے قبلۂ حاجات ہوئی اب وہ آئی گئی اور حرف و حکایات ہوئی (کلام مہر، ١٩١٠ء، ١٢٥)"]
ہمیشہ اک نئے عاشق کی رہتی ہے تلاش ان کو کہ باسی ان کے دسترخوان پر کھانا نہیں آتا (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٧)
"بہار ٹل جائے مگر آئی ہوئی نہ ٹلے۔" (مقالات شیرانی، ١٩٤٦ء، ٥)
"موجودہ ہوم گورنمنٹ کا آئین جہانبانی جداگانہ ہے۔" (دنیائے تبسم، ١٩٣٧ء، ٩٣)
سم اور بغل دونوں کے روحی فدا ہما آئینہ سکندر و جام جہاں نما (مراثی نسیم، ١٩٤٦ء، ١٠٤:٣)
"اگر پانی میں تھوڑی سی سیاہی ملا دیں گے اور ایک کوئلے کو کھرد کے اس میں کوئی جسم معدنی یا غیر معدنی رکھیں اس پر شعاع آئینہ انگاری کی زیادہ اثر کرے گی۔" (ستۂ شمسیہ، ١٨٣٩ء، ٥، ٣١)
"دونوں رخسارے آئینہ چینی تھے۔" (محل خانہ شاہی، ترجمہ، ١٩١٢ء، ٥)
"دنیا کی کسی قوم کی سرشت میں آئینیت اس قدر سرایت نہیں کیے ہوئے ہے جتنی انگریزوں میں۔" (فلسفہ اجتماع، ١٩١٥ء، ٢٢٢)
تیز نگاہ ناز چلے آئیں بائیں شائیں اندھا کوئی ہوا تو کوئی کانہ ہو گیا (ظریف لکھنوی، ١٩٣٧ء، ٢٢:١)
"جو مکان بن چکے ہیں ان کو ڈھا دو آئندہ کو ممانعت کا حکم سنا دو۔" (عود ہندی، ١٨٥٩ء، ١١٩)
دوسرا ہے جو طبق پتلا ہے وہ اور رنگیں اگلا جو حصہ ہے ہیں آئرس اس کو کہتے (سائنس و فلسفہ، ١٩١٦ء، ١٤٠)
"اگر بہترین شہادت کے اصول کو ترک کیا جائے گا تو تحقیق اور ثبوت غیر حقیقی اور نمائشی ہو جائیں گے۔" (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٦٢)
"نہرو کا ترقی پسندانہ اور غیر جانبدارانہ موقف بھی بھارت اور روس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کا باعث بنا۔" (١٩٨٧ء، پاکستان کیوں ٹوٹا، ٢٠٣)
"چونکہ . ہم کو سمری طور پر غیر ذمہ دارانہ اور شر پسند نہیں قرار دیا گیا تھا، ہم نے بھی تعاون کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔" (١٩٨٦ء، رودادِ چمن، ٢٠)
"انگریزوں نے جنوبی چین پر غاصبانہ اقتدار قائم کرکے وہاں افیون کی تجارت کو فروغ دے رکھا تھا۔" (١٩٨٥ء، صدا کر چلے، ٦٢٩)
"تخت سلطنت غاشیہ پوش رہے، فقط دنگل پر اجلاس کرینگے۔" (١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨٢٩:٦)
پھر ہے بہار حکمراں دور خزاں گزر گیا پھر ہے نسیمِ غازہ کش رنگ ہوا میں بکھر گیا (١٩٤٤ء، عروس فطرت، ١١٠)
"چہروں پر جو پہلے جھریوں کا مجموعہ تھے . یک بیک صحت کی سرخی غازہ بندی کرنے لگی۔" (١٩٣٥ء، معاشرت، ٨)
"غالب نے عزیزوں دوستوں کو خط لکھے اور اطلاع دی کہ دلی اب ایک غارت زدہ شہر ہے۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ١١)
"جن عضلات میں زیادہ خلل اندازی ہوتی ہے وہ مرفقیہ، باطحہ - ہیں۔" (١٩٣٧ء، جراحی اطلاقی تشریح، ٣٢٦)
"موٹی بھدی، لا اُبالی اور غائب دماغ، مگر جب تانپورہ لیکر بیٹھتی تو اپنا لوہا منوا کر ہی اٹھتی، راگ، راگنی گویوں کے مقابل ہو کر گاتی۔" (١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ١٤٣)
کچھ سنیں ہم بھی تو کس کی دھن میں آوارہ ہے تو ڈھونڈتا ہے کس کو یوں صحرا بہ صحرا سو بہ سو (١٩١٧ء، نقوش مانی، ٤٤)
"میں میاں جان بحالتِ صحت نفس و ثباتِ عقل باقرار صالح تصدیق کرتا ہوں۔" (١٩٢٤ء، اختری بیگم، ١٦٣)