"گھر میں چولھا پٹ پڑا تھا لیکن حاضری کا کھانا نصیرالدین کے ہاں سے آ گیا تھا۔" (١٩٦٣ء، دلی کی شام، ٦٠١)
خوردنی کی ہو جس زمیں پر باس جمع واں کر کے اپنے ہوش و حواس (١٧٨٠ء، سودا، کلیات، ٣٣٢)
"بحالت اضافت ضمائر اضافی، اپنے، اپنا، اپنی کا استعمال ضمائر غائب و حاضر و متکلم کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔" (١٩٧٣ء، جامع القواعد (حصۂ نحو)، ٥٠)
"حضرت شیخ بدیع الدین . شہر ہرمز سے اجمیر شریف تشریف لائے اس وقت حضرت پر حالت جذب طاری تھی۔" (١٨٦٤ء، تحقیقات چشتی، ٢٢٩)
"حالت رفعی میں اسم کے آخر ضمہ ہوتا ہے۔" (١٩٠٩ء، آئینہ اخلاق، ٦٦:٢)
"جراثیمی بذرے جراثیم کی حالت سکون کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس زمانے میں ان کی تیزی خلوی تقسیم کم ہو جاتی ہے اور عمل تنفس بھی بالکل محدود ہو جاتا ہے۔" (١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ٧٩)
"وہ پردے میں رونے والیوں کی حالت زار سے متاثر ہو کر ان کی ہمدردی اور حمایت میں کھڑے ہوئے۔" (١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ١٨)
"یہ بچوں کا سا خیال جب تک دنیا حالت طفلی میں رہی بوڑھوں کے دلوں میں جما رہا۔" (١٨٩٠ء، جغرافیۂ طبیعی، ١١:١)
"حالت ظرفی . جیسے وہ گھر میں ہے۔ وہ شام سے غائب ہے۔" (١٩٣٤ء، اساس اردو، ٦٣)
"باس کے کمرے کے دروازے پر کھڑے کھڑے جاوید کو بیس منٹ گزر گئے۔" (|١٩٧٣ء، رنگ روتے ہیں، ١١٦)
"آپ کی ایک نواسی حالت نزع میں تھیں . آپ نے اس کی حالت دیکھی تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔" (١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٣٩٩:٢)
"حاملین و حافظ حدیث بھی سب کے سب عجمی تھے۔" (١٩٦٩ء، عہد اسلامی میں سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ٤٦٧)
"جو کے ساتھ حالت فاعلی میں علامت فاعل "نے" نہیں آتی۔" (١٩٧٣ء، جامع القواعد (حصۂ نحو)، ٧٢)
"لوگ اب حب الوطنی سے گریز کرنے لگے بلکہ اک گروہ تو اسے اسلام کے منافی بتلانے لگا۔" رجوع کریں: (١٩٨٤ء، گرد راہ، ٣١١)
"ان عورتوں کو جاننے والے ان کے آرٹ پر مرنے والے اب وقت کے ہاتھوں حاجی بغلول بن چکے تھے یا دنیا سے ہی رخصت ہو گئے تھے۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٣٨٣)
"رات کو خان صاحب کے ہاں محفل آراستہ ہوئی اور شیخا کی پارٹی کے ذکر چھڑ گئے حاشیہ نشینوں نے حاشیہ آرائیاں شروع کیں۔" (١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٥٦)
غل ہے شادی خداداد مبارک ہووے صاحب الامر کا میلا مبارک ہووے (١٩١٢ء، شمیم، مراثی (ق)، ١٧)
بہت ہیں صاحبِ ارشاد اب تک بہت ہیں باغ دیں آباد اب تک (١٩٠٧ء، کلیات اکبر، ٣٠٨:١)
"بڑے بڑے صاحب اثر اور بڑے بڑے کڑیل جوان مائی کے لال منوں مٹی کے نیچے دبے پڑے ہیں۔" (١٩٤٠ء، خمارستان، ١٤)
"صابن سازی، شیشہ گری ادویات اور سونے کے کاموں میں نمک کی ضرورت ہوتی ہے۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیہ پاکستان، ١٦٦)
"میں بالکل کچھ نہ کہوں گا اور ہمیشہ صابر و شاکر رہوں گا۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، اپریل، ٢٤)
کیا ڈھونڈتی ہے قوم کہ آنکھوں میں قوم کی خلد بریں ہے، طبقۂ اسفل، جحیم کا (١٨٥٥ء، کلیات شیفتہ، ٢)
بید مجنوں ہو جو وحشت میں اٹھاؤں میں قلم خط کبوتر کو جو دوں طائر مجنوں ہو جائے (١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٢١٧)
"اول الذکر ظن و تخمین کے اندیشوں اور وسوسوں میں گھرا رہتا ہے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، مطالعہ اقبال کے چند پہلو، ١٤٠)
"خصوصاً اس امر کی تحقیق کی جائے، کہ وہ اس وحدت تک کس حد تک پہنچ چکے ہیں، جو ایک حقیقت تک پہنچنے کا قطعی ثبوت نہ سہی، مگر ظن قوی تو پیدا کرتی ہے۔" (١٩٣٥ء، علم الاخلاق، ١)
"وہ جہاں بیں اور دانائے راز قرار پایا جس کی نگاہیں ہر نیکی، بدی کو دیکھ لیتی تھیں۔" (١٩٨٣ء، برش قلم، ٣٧٨)
"حاصل ضرب کوئلہ کے اس وزن پر تقسیم کرو جو وزن کہ ایک باسکٹ میں آتا ہے۔" (١٩٠٦ء، راہنمائے انجینئری، ١٤٧:٢)
اسی کو عیش کا داراسلام کرلیں گے جہاں بھی راہ روِ دل قیام کر لیں گے (١٩٦١ء، ہادی مچھلی شہری، صدائے دل، ٢٣٧)
"اس قصے (قصہ مہر افروز و دلبر) کو پڑھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ داستان گو کھڑی بولی کے علاقے کا رہنے والا ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ١٠٩٠:٢)
"یہ تو کوئی بھی نہیں کہتا کہ انسان خارج سے متعلق اپنے داخلی برتاؤ یا جذباتی رد عمل کا اظہار نہ کرے۔" (١٩٥٤ء، ادب اور شعور، ١٨٠)
"جونہی اُس (ٹرانسسٹر) کے داخلی دور میں ہلکی سی بجلی کی رو دوڑتی ہے تو بلب جل اٹھتا ہے۔" (١٩٧٤ء، ٹرانسسٹر سے تجربات، ٢٢)
"شاعروں نے . خارجی واردات کو داخلی واردات کے استعارے میں . بیان کرنے اور اس طرح ایک کل تعمیر کرنے کوشش کی تھی۔" (١٩٢٣ء، علامتوں کا زوال، ٩٩)
"اودھ کو حکمرانوں . کی داد و دہش اور انعام و اکرام کے سبب اردو کے سارے ممتاز شعرا فیض آباد اور لکھنؤ کے علاقوں میں جمع ہو گئے تھے۔" (١٩٧٦ء، میر انیس؛ حیات اور شاعری، ٣٤)
"بڑھیا نے دروغ مصلحت آمیز کو راستی شر انگریز پر ترجیح دیتے ہوئے عائشہ کے سر پر بڑی شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے جھوٹی ڈھارس دی۔" (١٩٧٧ء، ابراہیم جلیس، الٹی قبر، ٤٥)
"دروں بیں فنکار گہری نظر اور شدت جذبات کے حامل ہوتے ہیں۔" (١٩٨٠ء، نذر حمید احمد خاں، ٢٤١)
"چاند سا چہرہ، باسک ناگ کے پیٹ کے مانند نرم جسم۔" (١٩٠٦ء، ماہ نامہ |مخزن| لاہور، ١٢، ٣٥:٢)
"تمام افسانوں میں مجھے ایک ایسی شخصیت کی جھلک نظر آتی ہے جو اپنی زندگی میں مامتا اور بچوں سے معنویت تلاش کرنے میں مصروف ہو، اس سے جیلانی بانو کی دروں بینی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔" رجوع کریں:دُرُوں بِین (١٩٨٣ء، برش قلم، ١٢٣)
["\"بیت و آہنگ کے چند تجربے تین ہی نظموں پر مشتمل ہیں \"تازہ بستیاں\"، \"نغمہ نو روز\" اور \"بیتی برسات\" اول دو کو منظوم فیچر کی ترقی یافتہ شکل کہنا چاہیے کیونکہ ان کے درو بست میں کوئی مربوط خاکہ نہیں۔\" (١٩٨٤ء، تنقید و تفیم، ١٦٥)","\"یزید جیسا حکمران کہ اس کی مجرمانہ خود پرستی نے جگر گوشہ رسالت کے پاک خون سے اپنا دامن رنگ لیا اسلامی درو بست سے باہر نہ جا سکا۔\" (١٩٢٢ء، نقش فرنگ، ٥٦)"]
"غضب خدا کا، دیکھتے ہی دیکھتے، زندگی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔" (١٩٨٦ء، نگار، کراچی، جولائی، ٤٤)
"اس موضوع خاص میں یہ کتاب خود بے سند ہے ثانیا یہ روایت کلبی سے ہے جو مشہور دروغ گو ہے۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ١٨٠:١)