"آسمان بھی بالکل صاف ہوتا تھا اور بارپیما میں پارہ بھی۔" (١٩٤١ء، حیوانی دنیا کے عجائبات، ١٨)
"یہ لوگ ہیبت ناک دیوی درگا کو قربانیاں پیش کرتے ہیں۔" (١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٦٢)
"کاری گر اسی طرح غریب تھا مگر درمیان والے چھوٹی چھوٹی قید خانوں اور زندانوں جیسی دکانوں کے بجائے جدید شو روم کی سرحدوں میں ترقی کر رہے تھے۔" (١٩٤٦ء، آگ، ٦١)
"مرحوم کے فیض صحبت نے میرے دبے ہوئے ذوق کو ابھار دیا تھا۔" (١٩٤٥ء، روح کائنات، ٨)
"چار قسم کے مدرسہ قائم ہیں (١) دبستان دہکدہ (دیہاتی پرائمری مدرسہ) (٢) دبستانِ شہر (شہری پرائمری مدرسہ) ." (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٦٦:٣)
"نظر سرسید کے مزار سے چل کر مسجد کے در و بام پر جاتی ہے۔" (١٩٨٠ء، زمین اور فلک اور، ٥٥)
"درآمدوں برآمدوں کو دانائی سے نظم دے کر پورے کمرہ میں تازہ ہوا کا یکساں نفوذ پیدا کیا جاتا ہے۔" رجوع کریں: (١٩٤٧ء، رسالہ تعمیر عمارت، ١١٢)
"ایک خطۂ پیداوار درآمد میں زیادہ نمایاں اور دوسرا درآمدی اشیاء کے استعمال میں کیوں اہم واقع ہوا ہے۔" رجوع کریں: (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ١٨)
"زمین نرم دریا بردہ مٹی کی ایک دبیز تر سے مرتب ہے اس لیے یہ قدرتی طور پر نہایت زرخیز ہے۔" رجوع کریں: (١٩٨٧ء، پاکستان کا معاشی و تجارتی جغرافیہ، ١٢)
"دوسرے ابھی بھوک باقی ہو کہ کھانے سے دست کش ہو گئے۔" (١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رام پور، ٢١٦)
"بیٹے کی پیدائش پختون معاشرے میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کو باپ اور کنبہ کا دست و بازو سمجھا جاتا ہے۔" (١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٨٦)
حبہ در بر ہوں نہ دستار فضیلت برسر دور کی بھی تو نہیں علم سے نسبت مجھ کو (١٩٨٢ء، ط ظ، ١٥)
"حق تعالٰی نے اپنے فرشتوں کو مخاطب کرکے جو ارشاد فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، اس سے دستور مملکت کی چند اہم دفعات پر روشنی پڑتی ہے۔" (١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٢٨:١)
"قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستانی اکابر کا یہ المیہ رہا ہے کہ انہوں نے دستور سازی میں غفلت برتی۔" رجوع کریں: (١٩٨٥ء، پاکستان میں نفاذِ اردو کی داستان، ١١)
"ماہرین تعلقات عامہ دو حیثیتوں میں کام کرتے ہیں . یعنی اشتہارات، دستاویزی فلمیں بنانا . اخبارات و نیوز ایجنسیوں کو پریس نوٹ ارال کرنا۔" (١٩٧١ء، تعلقات عامہ، ٢٠)
"پر ان کا (شاہ نذیر غازی پوری مرحوم) مطالعہ اتنا گہرا تھا کہ گفتگو کرنے میں بے اختیار تاریخی اور دستاویزی حوالے دیتے جاتے، طالب علموں پر بڑے مہربان تھے۔" (١٩٥٦ء، آشفتہ بیانی میری، ٢٣)
"علم الانشا سے مراد دستاویز نویسی ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٠٨:٣)
ہے نجد میں دشت جنوں فارس میں کوہ بے ستون لیلٰی کی آنکھوں کا فسوں، شریں کا حسن بے اماں (١٩١٢ء، نقوش مانی، ٢)
اب وہ مجھ میں ہی کلیں ہیں گویا دشت جاں کنج حرا ہو جیسے (١٩٨٤ء، ذکر خیرالانام، ١٠٠)
وہ دشت بلا اور وہ فضاؤں کی خموشی مایوس ہوں میں وہ دعاؤں کی خموشی (١٩٨١ء، شہادت، ١٨٦)
"اگر وہ اپنا یہ فریضہ . ادا کرنے کا عہد کر لیں تو قدم قدم پر ہونے والے جان لیوا حادثات کم ہو سکتے ہیں۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٨/دسمبر، ٣)
"جو دعائیں قرآن مجید میں ہیں وہ قرآنی دعائیں کہلاتی ہیں۔" (١٩٨٤ء، اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ١٢٤٠)
"اس بات کا خیال رکھا کہ اس کی زبان اہل مجلس اور خصوصاً عورتوں کے لیے قریب الفہم ہو۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ١٠٢٩:٢)
قرون اولٰی کے دشمنوں کو ہمارے دادا نے کیسا مارا قرون حاضر کے دشمنوں کو سنا کے یہ داستان ڈرا دو (١٩٨١ء، چراغ اور کنول، ١٦٧)
"قرض گیر قرض کے بار سے کبھی سبکدوش نہ ہو سکا۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ) ٤٤٢:١)
"نشاط کا لفظ ایک ایسی بے خودی کے ہم وزن بلکہ قریب المعنی ہو گیا۔" (١٩٨٧ء، غالب فکر و فن، ١٥)
"سب کا نام ایک ہی سانس میں لینا قرین انصاف نہیں۔" (١٩٨٥ء، انشائیہ اردو ادب میں، ٢٧)
"اس لیے قرین صواب یہ ہے کہ اردو مرکبات کی ساخت کے اعتبار سے صرف تین قسمیں کی جائیں۔" (١٩٧٣ء، شوکت سبزواری، اردو قواعد، ٥٣)
"اگرچہ زیادہ قرین قیاس بات یہ معلوم ہوتی ہے۔" (١٩٨٨ء، نشیب، ٢٣٨)
"اس کا خاندان میرپور خاص کے قرب و جوار میں آباد تھا۔" (١٩٨٦ء، سندھ کا مقدمہ، ١٦٠)
"معلوم ہو گا کہ انچ کا ہزارواں حصہ باراں پیما میں جمع ہوا، اس حساب سے عمق بارش کا بخوبی معلوم ہوتا رہے گا۔" (١٩٢٠ء، رسائل عماد الملک، ١٥١)
زمانہ دور ہوا جا رہا ہے مرکز سے سنا ہے قرب قیامت ہے بات ایسی ہے (١٩٨٣ء، حصارِ انا، ٣٥)
"تیسرے وہ لوگ ہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن ناطق تصور کرتے ہیں۔" (١٩٨٧ء، سید سلیمان ندوی، ١٢٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
"قرآن مجید کے ٥ خصوصی ناموں کا اعلان کیا ہے جو خود قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آئے ہیں۔" (١٩٨٤ء، اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ١٢٣٧)
ترا اعجاز قرآن مبین ہے سامنے جس کے فصیحان عرب سے آج تک ہے سلب گویائی (١٩١٦ء، نظم طباطبائی، ٦)
قرۃ العین بنی ملحمہ یہ جنود رحمۃ اللعالمین (١٩٧٥ء، خروش خم، ١٠)
"ایک بے گناہ ساتھی کو عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے قربانی کا بکرا بنانا انصاف کا خون ہو گا۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٠٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"سردی میں آتشدان اور برسات میں باراں پوش کا نام نہیں۔" (١٨٩٢ء، خدائی فوجدار، ٨٧:١)