"بتر، اسم صفت الابتر کی جمع ہے . الابتر کے معنی ہیں دم کٹ یا جس کا کوئی کضو کٹا ہوا ہو یا جس کی کوئی اولاد نہ ہو۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلام، ٢٧:٤)
کوئی مطلب موجود نہیں
"دریا مٹی شامل کرتا رہتا ہے . اور افزائش ماہی کے لیے مفید ہوتا ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٣٢)
بوتل چرا کے لائے تھے ہم میکدے سے روز موقع ملا تو رات کو خم بار سر بنا (١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ٨٤)
ہمیں بار دوش آہ خزاں دیدہ پھول اب میں محو انتظار کھڑا ہوں فضول اب (١٩٢٩ء، مطلع الانوار، ١٧٤)
چشم براہِ قدوم حشر ہے ہے یہ نقشہ تیرے نقشِ گام کا (١٨٩٥ء، دیوانِ راسخ دہلوی، ٥٢)
"امرود کے بیج، نوشادر، سونف، گاؤ زبان، دار چینی اور اِسی قسم کے نام سنائی دیتے ہیں۔" (١٩٤٨ء، پرواز، ٢٥٧)
"بادشاہ گاؤ سے لگ کر بیٹھ جاتے ہیں تو بیگم کورنش بجا لاتی ہیں۔" (١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٦٩)
"ایک نوجوان . سیاہ گاؤن پہنے، ڈگری ہاتھ میں پکڑے اعتماد سے کھڑا تھا۔" (١٩٨٨ء، نشیب، ٢١)
"ڈاکٹر لالہ رُخ جو . گائناکولوجسٹ میں انہوں نے اس معصوم کی زندگی بچانے کی انتہائی کوشش کی۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ٢١ اگست، ١١١)
"ان دونوں گارڈروں کے اگلے پچھلے سرے پر ایک خاص . سپرنگ لگائے جاتے ہیں۔" (١٩٤٩ء، موٹر انجینیر، ٣٦٠)
"تم کو اپنے وطن کو دشمن کے ناپاک قدم سے پاک کرنا ہے اور ان کو دکھانا ہے کہ مسلمان اس گئی گزری حالت میں بھی اخوۃ کی دولت سے مالا مال ہیں۔" (١٩٢٣ء، تیغِ کمال، ٤٢)
"اب کیا کریدہے گئی گزری باتوں کی۔" (١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ١٦٢)
"اے بادشاہ اس گئے حال پر اتنا جانتی ہوں کہ تمہارے کنبے میں . یہ ملتی نہیں ہیں۔" (١٨٨٨ء، طلسم ہوشربا، ٤٩٤:٣)
"اگر اس گئے گزرے زمانے میں سدا چار اس درجہ تک بڑھ جاتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ جب صرف روپیہ کمانا ہی کام کرنے کا واحد مقصد نہ رہے گا۔" (١٩٤١ء، آزاد سماج، ٥٣)
"اس گئے وقت میں ہمارے سرکار کے درو دولت کی زیارت کیجئے۔ (١٩٣١ء، نوراللغات، ١٤٥:٤)
کہیں یہ طعن کہ یہ سامری ہے گاو پرست کہیں یہ شبہ کہ خنزیر کھائے گا یہ قاش (١٩٢١ء، اکبر الہ آبادی، گاندھی نامہ، ٣٧)
"دیکھا کہ وہ دفتری گاؤ خورد ہے۔" (١٩٠٢ء، آفتاب شجاعت، ٤٨٨،١)
"ماحول کی منافقت اور فقیہ شہر کی دو عملی کے زیر میں بجھی ہوئی دو دھاری تلوار سے بچنے کی کوئی راہ یا پناہ گاہ موصوف کو نظر آتی ہے تو وہ "سرمدِ عریاں" کی بارگاہ میں ہی نظر آتی ہے۔" (١٩٨٩ء، صحیفہ، لاہور، اپریل، جون، ٤٧)
صدائے لن ترانی سُن کے اے اقبال میں چپ ہوں تقاضوں کی کہاں طاقت ہے، مجھ فرقت کے مارے میں (١٩٠٨ء، بانگِ درا، ٤٧)
"میں نے آزادی کی جد و جہد شروع کی تو ہندوستان کے کچھ حلقوں نے مجھے کٹر فِرقہ پرست کہا۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٦٨٢)
"وفاقی محتسب نے کہا کو فیلڈ ورکر رقم میں گڑبڑ کرکے بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٩٣)
"ان کا قصور نہیں اُنکی فیملی بیک گراؤنڈ ایسی ہے۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ٥٠)
"اردو معاشرے میں فیملی پلاننگ اس لیے مقبول نہیں ہو سکتی کہ وہاں مذہب ایک بڑی رکاوٹ ہے۔" (١٩٨٦ء، اردو اصولِ تحقیق، ١٥١:١)
"تینوں . ایک گھر میں ہندو فیملی سسٹم کےتحت میں سلوک سے رہتے ہیں۔" (١٩٢٣ء، احیاء ملّت، ٢٥)
"اس ہجرت کی وجہ سے ہماری فیملی لائف بھی متاثر ہوتی ہے۔" (١٩٨٧ء، کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ١١٢)
"نزاکت سے گلوریاں منۂ میں رکھیں سامنے میراثنیں گانا سناتیں . نقلیں کرتیں اور بیل وصول کرکے فرشی سلام کرتیں۔" (١٩٨٧ء، پھول اور پتھر، ٢١)
"ایک طرف . فرشی چوغانی حُقّے تازے کئے ہوئے مشک عنبر میں بسے ہوئے بھیلسے تمباکو کی چلمیں توے لگی ہوئی تیار،" (١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ٣٣)
["\"نماز ختم ہوتے ہی نواب صاحب کا ملازم پیچوان لیکر حاضر ہو گیا جسکی فرشی نقرئی تھی۔\" (١٩٦٣ء، دلی کی شام، ٢٤٦)","\"بیدر کی بنی ہوئی فرشیاں اور بٹن، گلبرگہ کے نرم و نازک جوتے . یہی لوگ بناتے تھے۔\" (١٩٦٦ء، شہر نگاراں، ٦٤)"]
"ممکن ہے حالی کی خواہش ہو کہ سرسید کو ایک فرشتہ صفت انسان ثابت کریں۔" (١٩٨٤ء، تنقید و تفہیم، ٦٩)
"مہاتما جی باوصف اپنی فرشتہ صفتی کے چھ برس کو دھر لیے گئے۔" (١٩٨٥ء، حیات جوہر، ٢٣١)
"اپنی ایک مخصوص فردیت رکھتا ہے۔" (١٩٨٧ء، غزل اور غزل کی تعلیم، ٨١)
"تمام حقوق کا دارو مدار فرض شناسی پر ہے۔" (١٩٨٤ء، طوبٰی، ٩٩)
"اُنکے افسر خاصے فرعون بے سامان تھے انہیں بات بات میں ماتحتوں پر رعب جمانے کی عادت تھی۔" (١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ١٨)
"نواب صاحب کے خاص محل میں طرحی مشاعرے کی نشِست تھی، فرشی نشِست، تمام درباری اور سامعین قرینے سے چاندنی پر بیٹھے ہوئے تھے۔" (١٩٨٨ء، فاران، کراچی، مارچ، ٣٦)
"چھت میں خوش وضع چھینٹ کا فرشی پنکھا لٹک رہا ہے جسکی ڈور ایک ادھیڑ عمر عورت کے ہاتھ میں ہے۔" (١٩١٤ء، حسن کا ڈاکو، ٤:١)
"فرشی اینٹ اور ظروف گلی لاہور اور ملتان میں بھی تیار ہوتے ہیں۔" (١٨٨٩ء، رسالہ حسن، جولائی، ١٥)
"وہ خود سر، ضدی، خوب پڑھی لکھی اور فیشن ایبل تھی۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٤٦)
"اس میں کوئی شبہ نہیں کہ . اُڑنے والے بادلوں کے لیے فیل مست بے زنجیر سے بہتر تشبیہہ یا پیکر مشکل سے دستیاب ہو گا۔" (١٩٧٦ء، اثبات و نفی، ١١٧)
"سیاں درشن کی پیاسی نراسی توری۔" (١٩٠٣ء، دورنگی دنیا (نامعلوم مصنفین کے ڈرامے)، ٢٢٣:٩)