کوئی مطلب موجود نہیں
"طویل مدتی تغیرات کا دوسرا نام قرنی روش ہے۔" (١٩٦٨ء، اطلاقی شماریات، ٩٠)
"یہ کلام اللہ مصر کے کتب خانے میں محفوظ ہے اور اس کو قرن اول کی یادگار تسلیم کیا گیا ہے۔" (١٩٦٣ء، صحیفہ خوشنویسیاں، ١٤)
"قرمزی رنگ کی بنارسی ساڑی مہاراج دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔" (١٩٨٧ء، گردش رنگ چمن، ١٣٣)
"اس کے جہیز کا جھومر قرض خواہوں کی نذر ہو گیا۔" (١٩٨٦ء، تیسرا آدمی، ١٥٥)
"منیجر سر پر آکر یوں کھڑا ہو گیا تھا جیسے وہ اس کا قرض دار تھا۔" (١٩٨٦ء، تیسرا آدمی، ٢٨)
قرض داری سے سبکدوشی خلاصی ہو نصیب فارغ البالی میسر ہو خدا کے واسطے (١٩٦٦ء، صد رنگ، ٤٩)
"قرض دہندوں کی تعداد . برطانوی ہند کے مقابلے میں تین گونہ زائد ہے۔" (١٩٤٠ء، معاشیات ہند، (ترجمہ) ٤٣٥:١)
"بار کونسل نے بھی اپنی ایک تجویز میں چیف منسٹر کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے ریاست میں اخبار کے ڈکلریشن پر پابندی ختم کر دی ہے۔" (١٩٥١ء، ہفت روزہ |مراد| خیرپور، ٦ مارچ، ١)
"قرض گیری سالیانہ عطا کر کے حاصل کی جانے والی رقوم بھی شامل ہیں۔" (١٩٧٣ء، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین، ١٨٦)
"اناتولی کے سکول کے قدرتی سائنس کے استاد کو اپنے مضمون سے عشق تھا۔" (١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا، ٦:٢)
"قدرت کے کھیل بھی کتنے نرالے ہوتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٦٧)
"ساری قوم تو قدر شناسی کے طور پر ان کے سر پر عظمت کا تاج رکھنا چاہتی تھی۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٦٤٨)
"جناب قبلہ و کعبہ وقار الملک بہادر مدظلہ کا والا نامہ . موصول ہوا ہے۔" (١٩٨٥ء، حیات جوہر، ٣٤٨)
"کسی میں مدافعت کا بھی یارانہ تھا اور ان کے حملہ کو قضا و قدر کا طمانچہ سمجھ کر راضی برضا بیٹھ جاتا۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ٢١٢)
"سارے دن کی قضا نمازیں ادا کیا کرتا تھا۔" (١٩٨٨ء، نشیب، ٣٥٣)
"غرض میری قصیر النظری غلطی نہ کرے تو ہندوستانیوں نے جدید عربی کے جو کتب و لغت لکھے ہیں ان کی کل کائنات اس قدر ہے۔" (١٩٢٤ء، القاموس الجدید، ٨٧)
"اسی وجہ سے قصیر القامت اور ٹھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔" (١٩٤٣ء، مبادی نباتیات (ترجمہ) ٦٨٥:٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"قصیدہ نگاری میں بالعموم فارسی شعرا ہی کی تقلید کی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٤٢)
"اس خصوصیت نے علمیت و فضیلت؛ مضمون آفرینی اور قدرت زبان و بیان کے ساتھ مل کر انہیں اردو کا ممتاز قصیدہ نگار بنا دیا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٠٧:٣)
"تکلف قصیدہ گوئی کی بنیادی خصوصیت بن گیا۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٤٢)
"قصیدہ گو شعرا نے قصیدہ نگاری میں بالعموم فارسی شعرا ہی کی تقلید کی ہے۔" (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ١٤٢)
"ان قصّہ کہانیوں کو عام عام کرنے میں ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٢٧)
"بار ایسوسی ایشن کے صدر نے انھیں مدعو کیا ہے۔" (١٩٦٨ء، روزنامہ |جنگ| کراچی، ٣٢: ١:٣١٤٤)
کبھی ہاتھوں میں رہتا ہے کبھی رہتا ہے زانوں پر تمہارا آئینہ بھی اپنی قسمت کا سکندر ہے (١٩٣٦ء، شعاع، مہر، نارائن پرشاد ورما، ١٣٠)
"اچھی کتاب ختم ہو جائے تو سمجھو قسمت کے دھنی ہو۔" (١٩٨٧ء، بازگشت و باز یافت، ١٥٩ N a fortunate or lucky peron)
بھلا اے آسماں دشمن سے اپنے کون ملتا ہے تری گردش میں شامل کیوں مری قسمت کا چکر ہو (١٩١٩ء، درشہوار، بیخود، ٨٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اپنے رب کے آگے کھڑے بھی ہونے سے جو ڈرتے ہیں قسم قسم کے میووں والے دو باغ انہیں کے ہیں۔" (١٩٨٤ء، الحمد، ٧٦)
"سب سے پہلے گرفتھ نے . سفید چوہوں میں قسم دوم (Type) کے نمونیائی کرووں کو داخل کیا اور پھر قسم اوّل (Type) نمونائی کرووں کو جو تپش سے ہلاک کر دیے گئے تھے داخل کیا۔" (١٩٦٧ء، بنیادی خرد حیاتیات، ٣٩٠)
ہے قول قسم سے یہ ہمارا تم سے نہیں اب تو کوئی پیارا (١٨٨١ء، مثنوی نیرنگ خیال، ١٥٧)
"میں باوجود اپنی کشادہ قلبی کے تمہاری صبر آزما باتوں کا ساتھ نہیں دے سکتی۔" (١٩٨٧ء، اک محشر خیال، ٤٥)
"دعوت الی الحق کے لیے صاف بیانی، تلخ گوئی اور درشت گفتاری ناگزیر ہے۔" (١٩١٣ء، مضامین ابوالکلام آزاد، ٣١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس عبارت کے ظاہری معنے لیں تو ممکن ہے کہ صغیرہ گناہ مراد ہو۔" (١٩٢١ء، مناقب الحسن رسول نما، ١١٩)
"سلطان سواری مثل باد بہاری شہر میں داخل ہوئی صغیر و کبیر بصد شوق دوڑے آئے۔" (١٩٠١ء، الف لیلٰہ، سرشار، ٨٣)
"بہترین فنکار وہ شخص ہو سکتا ہے جس کے فن پارہ میں صعوبت کیش وجود تخلیق کار کے وجود سے الگ نظر آئے۔" (١٩٧٢ء، توازن، ٥٨)
"اس کتاب کی تکمیل کے لیے ایک زمانے اور صرف کثیر در کار تھا۔" (١٩٣٥ء، چند، ہمعصر، ٥)
"ان کے پاس ایک بہت بڑی جاگیر تھی جو صرف خاص کہلاتی تھی۔" (١٩٧٢ء، ہماری زندگی، ٣٠)