"عام طور پر ایک مربعہ اراضی کے مالک فصلوں کو ذیل کی ترتیب سے کاشت کرتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، جدید فصلیں، ٧٠)
"فضاؤں میں اپنے مردار خور جسم کی بکھیرتا وسیم جو کے گھر کا رخ کرتا۔" (١٩٨٩ء، پڑنا قالین، ١٤٧)
"ابے شامت آئی ہے کیا? - جا کسی وکیل کے پاس باز دائر کی درخواست دے۔" (١٩٢٧ء، |اودھ پنچ| لکھنؤ، ١٢، ٩:٢٦)
"سودا نے دِلی ہی میں مرثیہ گوئی شروع کی۔" (١٩٨٨ء، دہلوی مرثیہ گو، ٢١٤)
"اس کا کچھ حصہ عروج کرکے اس کے وحدت میں فانی اور مستہلک ہو جاتا ہے۔" (١٩٩٥ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٣٨)
"صفا اور مروہ دراصل دو پہاڑیاں تھیں جن کی چوٹیاں مسجد الحرام کے شمالی دالان کے دونوں کونوں میں اٹھی ہوئی تھیں۔" (١٩٨٤ء، اَللّٰھُمّ لَبّیک، ١٧)
"مسجد قبلتین وہی سجدہ گاہ معلٰی ہے جہاں دوران نماز معبود نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی بات جانی اور اسے خود بھی ایسا پسند فرمایا کہ تبدیلی قبلہ کے احکام بھی صادر کر دئیے۔" (١٩٧١ء، میاں کی اٹریا ٹلے، ٦٠)
"ان کے قارئین کے پاکیزہ احساسات کی حرارت خود اپنے دلوں میں محسوس کرتے اور ان کے انداز بیاں کے تیکھے پن سے مسحور کن حد تک اثر پذیر نظر آتے ہیں۔" (١٩٩٤ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٥٤)
"کائنات . ہو سکتا ہے کہ ایک حد کے بعد سکڑنی شروع ہو اور ایک نقطہ پر مرتکز ہو جائے۔" (١٩٩٣ء، افکار، کراچی، جولائی، ٢١)
"جب انسان دعا مانگتا ہے تو اس کے جذبات مربوبیت و عبودیت کی ایک ساتھ تسکین ہو جاتی ہے۔" (١٩٨٤ء، اسلامی ثقافت، ١٢٦)
"آخر میں ہم ایک منظوم عشقیہ لوک داستان کا حوالہ دیتے ہیں جسے بالخصوص راگ تلنگ میں ہی گایا جاتا ہے وہ ہے مرزا صاحباں۔" (١٩٧٧ء، نورنگ موسیقی، ٩٤)
"جب افراد کی تخیل، مرقع بیانی و مرقع نگاری سے اس قدر متاثر ہوتی ہے تو جماعات تو اس سے صد چند و ہزار چند متاثر ہوں گی۔" (١٩١٥ء، فلسفہ اجتماع، ٦٨)
"یہ الیکٹران مرغولہ نما یعنی چکردار راستوں میں گھومتے ہیں۔" (١٩٧٠ء، جدید طبیعیات، ١٠٥)
ہوئیں موجیں صبا کی شانہ کش سنبل کی زلفوں میں نظر ہے پیچ و تاب گیسوئے مرغولہ مویاں پر (١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفہ ولا، ١٠٥)
پابندِ حکم گریڈ بے اختیار ہوں میں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوں (١٩٤٠ء، بے خود موہانی، کلیات، ٣٣٠)
"محمد ایثار علی (ذایق) خلف مولانا شاہ محمد دلدار علی مذاق بدایونی . (نے) تمام عمر اپنی آبائی رہایش گاہ میں رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رکھا۔" (١٩٨٧ء، تذکرۂ شعرائے بدایوں، ٣٨٥:١)
نسیم اب دل کناں کی طرح ہے چاک محبت میں کسی رشک قمر کی (١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٢١٠)
"زمیندار اچل سنگھ سے رشتہ ناطہ تو کچھ تھا نہیں۔" (١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ٢١٢)
"بزرگی، خوردگی، رشتہ ناتا سب اپنی جگہ لیکن اب وہ میرے لیے بھائی ولی ہیں۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٢٥)
"آنحضرت صلعم نے خیال فرمایا کہ انصار اور ان میں رشتہ اخوت قائم کر دیا جائے۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٦٤:٢)
"پھر جب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوا تو اپنی رفیقۂ حیات کو جنون کی حد تک چاہنے لگا۔" (١٩٨٢ء، غلام عباس، زندگی نقاب چہرے، ٤٦٣)
"اس رشتہ بندی سے لڑکی پیدا ہو تو میری قوم قزلباشی ہی کے کسی فرد سے منسوب کی جائے۔" (١٩٥٦ء، بیگمات اودھ، ١٢)
مجھے کیا خبر کہ خواب سے مرا کوئی رشتۂ جاں نہیں مجھے کیا خبر تھی گلاب سے مرے دل کا رنگ عیاں نہیں (١٩٧٩ء، جزیرہ، ٨٠)
"اگر روز اول شیطان ایسے انسان دیکھ لیتا تو روز جزا تک سجدے سے سر نہ اٹھاتا۔" (١٩٦٢ء، آفت کا ٹکڑا، ١٢٣)
میرے مرنے کی خبر سن کے کیا خوب ہوا روز کا قصہ گیا روز کی تکرار گئی (١٨٩٢ء، مہتاب داغ، ٢٣٧)
وصف رخ روشن بیانوں سے بھی ہو سکتا نہیں شمع کی صورت فقط کہنے کو رکھتے ہیں زباں (١٨٧٢ء، مراۃ الغیب، ١٨)
آہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت ہوا آسماں سے ابر آذری اٹھا، برسا، گیا رجوع کریں: (١٩٢٤ء، بانگ درا، ١٦٤)
"حافظ جی کہ روضہ دار تھا . اس نے حاضر ہو کر ملازمت کی ملکہ طلسم کی۔" (١٩٥٥ء، طلسم حکیم اشراق، ١٠٨)
"ایک روز انہیں روضۂ رسولۖ کی زیارت نصیب ہوئی۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٢ اپریل، ١٤)
"مذکورہ نویں کتاب کی شاعری روکھی پھیکی اور بے کیف ہے۔" (١٩٨٢ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ١١٥:١)
"احسان صاحب کی بیگم . عموماً کامیڈین کے ساتھ دھول دھپوں کے سین میں رول کیا کرتی تھیں۔" (١٩٦٢ء، معصومہ، ٧١)
ذلت اٹھا رہا ہوں میں قلیوں کے غول میں اچھے وہی جو لکھ گئے آنر کے رول میں (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٢٥٢:٣)
پھر بہار آئی رسول اللہ کے گلزار میں فصل گل کے ساتھ ہی ساتھ ابر آذار آ گیا (١٩٣١ء، بہارستان، ٣٦٢)
"رنگین بیانی، لفاظی یا خطابت اس کی تلافی نہیں کر سکتی۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ٢٦٦:١)
ان کو بے خود نے جو چھیڑا تو وہ ہنس کر بولے ہم سے کیا ہنسنے کا منھ ہے ترا، روتی صورت (١٩٠٥ء، گفتار بے خود، ٧٣)
"مغلانی روپے کی بھوکی نہ تھی سمجھتی تھی اور ٹھیک جانتی تھی۔" (١٩١٩ء، جوہر قدامت، ٤)
"اب پانی میں روبینہ کھولو بالضرور شیشہ پانی سے بھر جاویگا اور وزن آب سے شیشے کی طرف کا کفہ جھک جائے گا۔" (١٨٣٨ء، ستہ شمسیہ، ٣٨:٣)
"ہمارے دور میں جب روایتی معاشرے جو کبھی مابعدالطبیعیات پر قائم تھے ختم ہو گئے۔" (١٩٨٣ء، نئی تنقید، ٤١)
"ان کا خیال ہے کہ روایتی شاعری کوئی مذموم چیز ہے۔" (١٩٨١ء، زاویۂ نظر، ٢٣٦)
"موضوع کی بنا پر اصناف (مثلاً مرثیہ، واسوخت، شہر آشوب) کی شناخت محض روایتاً ہے۔" (١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہیتیں، ١٣٣)