جو گھرا ہے ابر تیرہ یہ جھکا تھا مے کدے پر خم مے ابھی اڑا کر سر کہسار ہوتا (١٩٣٢ء، ریاض رضواں، ٦٩)
"وہ در پردہ روایت پرست ہیں، لیکن ظاہر میں روایت شکنی کا پرچار کرتے ہیں۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٦، فروری (ادبی ایڈیشن))
"اتنا ضرور معلوم تھا کہ یہ قدامت پرستوں اور روایت پسندوں کے تن بدن میں آگ لگا دے گا۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، جون، ٢٨)
"امیر خسرو نے . فلاں فلاں راگ ایجاد کیے، فلاں ساز انہی کی دین ہے، ایسی باتوں کو روایت پرستانہ مزاج خوب خوب مانتا ہے۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ٣٠٤:١)
"نصاب دو سال کا ہے اور حسب ذیل مضامین پر مشتمل ہے: فارسی، غیر ملکی زبان، طبیعیات، کیمیا، خانہ داری، و بچہ داری، نرسنگ (پرستاری) نفسیات (رواں شناسی و اخلاقیات)۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٦٧:٣)
"روایاتی طریق کار کے ساتھ نیا انداز فکر اپنانے کی کوشش کی گئی ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٥)
الٰہی دے مجھے رنگین خیالی سخن کے باغ کا کر مجہ کوں مالی (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ١٠٧)
"بحث و مباحثہ اور روئداد نویسی کا سارا کام اردو میں ہوتا تھا۔" (١٩٧٦ء، ہندی اردو تنازع، ٣٢١)
"کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں جو پہلے دہلی کے خوشنواؤں اور بعد کو لکھنو کے رنگین بیانوں سے فیض یاب نہ ہوا۔" (١٩٥٨ء، پردیسی کے خطوط، ٨٥)
["\"مفتی محمود نے مسودہ رکھ لیا اور بتایا کہ وہ پی این اے کے سربراہی اجلاس میں اس پر غور کرکے کل ہمیں جواب دیں گے۔\" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٥٢)"]
["\"شاہی محل کے چور دروازے سے باسفورس کے پانی میں ایک سر بند تھیلا جو خون آلود بھی تھا پھینکا گیا۔\" (١٩٣٤ء، تین پیسے کی چھوکری، ٢٢)","\"ایک بابوجی کو بھی محلے والوں نے پکڑا کہ سر بند گلی میں کیسے آئے۔\" (١٩٥٨ء، شمع خرابات، ٢١)"]
"اس کی مجلس منتظمہ میں ایک سر پنچ اور تین سو پنچ تھے۔" (١٩٧٢ء، ہمارا قدیم سماج، ١٨)
["\"ادب میں اور بہت سی تصنیفات ہیں لیکن سب کی سرتاج کتاب العمدہ ہے۔\" (١٩١٤ء، شبلی، مقالات، ٣٠:٢)"]
"میں بیورو کریسی سے گھبراتا ہوں، اس لفظ سے میرے ذہن میں سرخ فیتہ ناچنے لگتا ہے۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٦١)
["\"اکثر لوگ بلند و بالا، تنو مند، سرخ و سفید اور قوی الجثہ ہوتے ہیں۔\" (١٩٠٩ء، مقالات شبلی، ١٩٣:٨)"]
"بالآخر آندھرا پردیش کی حکومت یہ مقدمہ ہاری اور مظہر مرحوم سرخرو ہوئے۔" (١٩٨٨ء، فاران کراچی، ستمبر، ٥٥)
ہماری لوح دل سے دھوئے گا کیا حرف توبہ کو اٹھا ہے محتسب کیوں ابر دریا بار کیا باعث (١٨٨٢ء، صابر، ریاض صابر، ٧٩)
"ایک سردہ آہ کھینچ کر مولانا پھر اہل دیوان کی طرف مڑ جاتے ہیں۔" (١٩٤٩ء، اک محشر خیال، ٧٤)
"نیاز صاحب کا ادب گزشتہ نصف صدی سے خانہ نشین ہونے کی جگہ زندگی کے ہر سرد و گرم میں حصہ لیتا رہا ہے۔" (١٩٦٣ء، نیم رخ، ٦١)
"مالش میں اپنی گرمی اس تک منتقل کرنے کے سلسلے میں اسے ٹھنڈائی سردائی وغیرہ پلاتی رہتی تھی۔" (١٩٦٦ء، لاجونتی، ٧٥)
[" دردِ سر تھا یہ کسے جو مرا سنتا سر درد کوئی مونس نظر آتا تھا نہ کوئی ہمدرد (١٨٤٣ء، دیوان رند، ٢٣١:١)"]
"سرحدی علاقہ خالی کرا کے اضافی سردردی کیوں مول لی جائے?" رجوع کریں: (١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١١٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ان میں پارس پتھر کی خاصیت تھی۔" (١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١١٦)
"ڈرائنگ روم . سائڈ روم اور پارلروں کے علاوہ ایسے بھی کمرے تھے جن میں . تصویریں . دیواروں پر بنائی گئی تھیں۔" (١٩٤٤ء، رفیق حسین، گوری ہو گوری، ١١٠)
تنوعات تجلی سے پر ضیا آفاق سمجھ رہے ہیں اشاروں کو جا بجا عشاق (١٩٣١ء، نقوش مانی، ١٦٢)
رواں ہے تو سن عمر اور پٹری جم نہیں سکتی تو پھر کس طرح قابو میں یہ اسپ پرشتاب آئے (١٩٣٣ء، صوت تغزل، ٢٩٣)
پر مکر اس قدر کہ جہاں میں کوئی نہ ہو پر حیلہ پر فریب ہے پر زور ہے مزاج (١٨٦٤ء، دیوان حافظ ہندی، ٢٣)
"ہو الباطن سوجیوں پھول ہے، ہور ہوا الآخر سو مثال ہیں، ہور میوۂ پرمراد ہے ہور تخم کا تمامیت ہور نہایت ہے۔" (١٦٩٧ء، پنچ گنج، ٥١)
"یہ صاحب ایک نہایت ہی پر مذاق شائستہ انسان ہیں۔" (١٩٧٩ء، جہان دیگر، ٣٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"وہ نہایت پر گو تھا اور برجستہ کہتا تھا۔" (١٩٠٧ء، شعرالجم، ٦٢:١)
مہاراج نے سن کے غمگین ہوا کلا کام کی روسیں پرکیں ہوا (١٧٥٦ء، قصہ کام روپ و کلا کام، ٦٠)
"وسیع سلطنت . پانی کے نقش کی طرح محو ہوئے گی۔" (١٩٥٦ء، چنگیز (ڈرامہ)، ١٢٠)
"ہندوستان میں خرمن کی ترتیب بہت بری ہے نہ اس میں ہوا کی آمد ہے نہ پانی کے نکاس کی کوئی سبیل ہوتی ہے۔" (١٨٧٩ء، خرمن زراعت، ٩٨)
"اسپین میں پاش جانے والے عقاب اپنے بچوں کو پانی کا سانپ کھلاتے ہیں۔" (١٩٨٠ء، روزنامہ، جنگ، کراچی، ٢٤ دسمبر، ٧)
[" کیا بھروسا ہے زندگانی کا آدمی بلبلا ہے پانی کا (فرہنگ آصفیہ، ٣٧٢:١)"]
دیکھ پاتا کشتگان عشق کا رتبہ اگر پانی پی پی کر خضر جام شہادت مانگتا (١٨٣٦ء، ریاض البحر، ٤٣)
"اس نے فوج کے ایک دستے کو بلا کر حکم دیا کہ پانی کو پابجولاں حاضر کرو۔" (١٩٣١ء، سیدہ کا لال، ١٦٣)
"دلہن والے پانی کا لگن بھر کر دولھا کے گھوڑے کے سموں کے نیچے ڈال دیتے ہیں تاکہ دولھا پانی پانی اور ہمیشہ نرم بنا رہے۔" (١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ٧٨)