[" میرے بوسیدہ لبادے میں رہے گی نہ سکت ماہ و سال اور لگاویں نیا پیوند کہیں (١٩٨٣ء، سرو ساماں، ٢٤)"]
"قرارداد یہ ہے کہ نواب صاحب جولائی ١٨٥٩ء سے کہ جس کو یہ دسواں مہینہ ہے، سو روپے مجھے ماہوار بھیجتے تھے، اب میں جو وہاں گیا تو سو روپیہ مہینہ بنام دعوت اور دیا۔" (١٨٦٩ء، غالب (تنقیدِ غالب کے سو سال)، ٢٤)
جب سے ہے فلک یہ ماہ و پرویں کی ضیا بہتر نہ مئے ناب سے کچھ بھی دیکھا (١٩٨٥ء، دستِ زرافشاں، ١٢٨)
"کوئی مَت ماری طوائف پر لعن طعن کرتا تھا۔" (١٩٨٢ء، خدیجہ مستور، بوچھار، ١١)
"متاثرہ فریق کو تاحال امداد نہیں پہنچائی گئی ہے۔" (١٩٨٩ء، سرکاری خط و کتابت، ٦٩:٨)
"ماسٹر بعض ڈگریوں کے ناموں میں بھی آتا ہے، جیسے: ماسٹر آف آرٹ، ماسٹر آف سائنس۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٩٩)
"ان کے شادی بایہ میں ماشکی اور دوسرے مزدور مسلمان ہی ہوتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٩٧)
"بعض پہلے صفحے پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک لکیر کھینچ دیتے ہیں اور پھر اس سے حروف کو لٹکا ہوا بناتے ہیں جیسا کہ مالوی خط میں نظر آتا ہے۔" (١٩٦٢ء، فن تحریری کی تاریخ، ٣٢٤)
"اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس نے دو تین سال پیہم کام کیا اور مالی حالت کے متعلق نہایت قابلیت سے نقشے تیار کیے۔" (١٩٣٤ء، حیات محسن، ٧)
"مکان کے مال و منال جلانے سے قبل. خاصا جھگڑا کیا تھا" (١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٥)
"جب وہ مال مویشی واپس لینے گیے تو قتل کر دیئے گیے۔" (١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١٩)
"میرے ماموں کے گھر ماما گیری کے واسطے آئی ایک روپیہ مہینہ اور روٹی پر نوکر ہوئی۔" (١٩٦٢ء، بیلہ میں میلہ، ٨٠)
"ان کا یہ انتشار مالیکیول کی مستقل حرکت کا نتیجہ ہے۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ١٣٩)
"مالیاتی ادارے مختلف فصلوں سے حاصل شدہ فی ایکڑ خالص منافع کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ١٨، دسمبر، ٣)
"احمد یار خاں تعلقہ دار باسٹھ ہزار کا مال گزار آدھا علاقہ لکھنے کو تیار۔" (١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٩١)
"موجودہ طریق مال گزاری کی بنیاد اب تک اسی پر ہے۔" (١٩٩١ء، اردونامہ، لاہور، جنوری، ١٧)
"۔"اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔" (١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ٤٧)
[" بازگشتی میں تری پھر کر یہ تیرا دیکھنا صدقے تیرے اس ادا پر سے مجھے قربان کر (١٨٠٥ء، دیوان ریختہ، رنگین، ٤٩٩)"]
"امام ضامن سے شروع کرو تو مانجھا، سانچق، شہانا جوڑا، مانگ بھرائی آر سی مصحف۔" (١٩٩٠ء، چاندنی بیگم، ٢٢١)
"دلی کی بربادی کا نقشہ دونوں نے دیکھا اور دونوں اس پر ماتم کناں ہوئے۔" (١٩٨٨ء، میر، غالب اور اقبال (تقابلی مطالعہ)، ١١)
"بازگرد - عصب ہر دو جانب مختلف طرح نکلتا ہے۔"
"اس کے بعد ہفتوں تک متواتر صبح سے شام تک بینک میں بازکش معاملہ داروں کا تانتا لگا رہا۔" (١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ٨٥:٢)
"مجبوری اور بے بسی کے سوا وہ کسی اور عالم میں کسی کی مدح سرائی یا بے جا تعریف نہ کر سکتے تھے۔" (١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٨)
"لوگ جو کچھ بھی تری مدح و ثنا میں کہیں گے وہ درست ہو گا۔" (١٩٧٤ء، فتوح الغیب، ٢٠)
"کیا کیا خردہ کاری کی ہے کیسے کیسے مدرج تراشے ہیں۔" (١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨٦:٦)
"ضروری ہے کہ ہم مولانا ماہر کے مدرسۂ فکر کو آباد کریں، اس کی ترویج و اشاعت کریں۔" (١٩٨٦ء، معاصر ادب، ٢٧٥)
"یہ بات اچھی نہیں معلوم ہوتی کہ ایک معزز مسلمان مجھ سے ملنے آئے اور میں بازدید کو نہ جاؤں۔" (١٩٢٧ء، مسلمان مہارانا، ٢٧٥)
"رٹی ہوئی عربی دعائیں جواب دے جائیں تو اللہ تعالٰی تک مدعائے دل سلیس اردو میں پہنچانے کی کوشش کی جاتی۔" (١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٨٠)
"کیپلر نے کہا تھا کہ سمندر کا مد و جزر چاند کے باعث پیدا ہوتا ہے۔" (١٩٨٥ء، فنون، لاہور، مئی، جون، ١٥٨)
"ہمارا چھوٹا سا قصبہ نما شہر . علم و فضل اور خاص طور پر تصوف کے اعتبار سے آج تک مدینۃ الاولیا کہلاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، جوالامکھ، ١٧٧)
"کتاب کے مقدمہ میں مصنف نے فقہ کے مذاہب اربعہ و اصول فقہ پر بھی بحث کی ہے۔" (١٩٣١ء، مقدمات عبدالحق، ٢٠:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اکثر لوگ امت کے تقلید مذہب الو حنیفہ پر ہیں اور بعض باقی اوپر مذاہب ثلاثہ باقیہ کے۔" (١٨٦٧ء، نورالہدایہ، ١٢:١)
"یہ شکل دوہرا مربعی ہرم یا ہشت سطحہ (مثمنہ) ہے۔" (١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٣٠٩)
"اس نے کسی بھی موقع پر اندھی مذہب پرستی سے کام نہ لیا۔" (١٩٨٢ء، نفسیاتی تنقید، ١٨٨)
"مذہب کی پابندی اور مذہبی تعصب میں کوئی علاقہ نہیں ہے۔" (١٩٨٨ء، لکھنویات ادیب، ١١٤)
"اوہام پرست شخص مذہبی جنون کا غلام ہوتا ہے۔" (١٩٨٦ء، دنیا کی سو عظیم کتابیں، ٤١٢)
"اسی ایہام کے بطن سے رعایت لفظی یا مراعات النظیر پیدا ہوئی۔" (١٩٨٨ء، دو ادبی سکول، ٣٨٩)
"چچا کی قبر میں ان معافی ناموں اور باز دعووں کو رکھوایا تاکہ - وہ خالق کے حضور میں - سرخروئی حاصل کرے۔" (١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ١٩١:١)
"روزنامہ |کرانیکل| عوامی نمائندگی کا دعوے دار ہے لیکن پبلک سے زیادہ مراعات یافتہ طبقہ کی پوری پوری نمائندگی کر کے منافقت کا بے مثل نمونہ بن کر سامنے آتا ہے۔" (١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، جون، ٧٤)