"خود اپنی عقل کو استعمال کیا اپنے فلسفہ داں دماغ سے کام لیا۔" رجوع کریں: (١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٢١)
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھنا ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی (١٩٢٤ء، بانگِ درا، ٥١)
"دوربین کو آنکھوں پر فوکس کرنے کے بعد ظل سبحانی کو سنہری روپہلی کرنیں تو زمین پر بکھری نظر آئیں۔" (١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ٣٧)
"حضرت عبداللہؓ، ابن جعفر کے اصرار پر فیصلہ کن انداز میں فرمایا۔" (١٩٧٩ء، کھوئے ہوؤں کی جستجو، ٥٩)
"اللہ جانے کس طرح اپنے قانونی مطالعہ اور فیصلہ نویسی کے مشاغل کو پورا کرتے ہوں گے۔" (١٩٨٥ء، تخلیقات و نگارشات، ١١٤)
یہ کوئی نہیں بتاتا کہ جج کے فیصلہ نویسوں سے انہیں بار بار تاریخ ہی کیوں ملتی ہے۔" (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ستمبر، ١٦)
"اگر کوئی فیلو سات سال تک برقرار رہے تو اس کے بعد خود بخود اس کی فیلو شپ ختم ہو جاتی تھی۔" (١٩٨٧ء، اردو، کراچی، اپریل تا جون، ٧)
"اس نے مھا باد میں کُرد عوام کی جمہوریہ کے قیام میں مدد دی اور اسے فیلڈ مارشل بنا دیا گیا۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٧٥:٣)
"یہ کتاب زمیندار اور فیلڈ اسسٹنٹ صاحبان کے لیے مرتب کی گئی ہے۔" (١٩٧٠ء، چاول، دستورِ کاشت، ٨)
"آپ کو اس پر رونا چاہیے کہ آپ کی فیلنگ، آپ کے احساس مذہبی بالکل فنا ہوتے جاتے ہیں۔" (١٩٤٣ء، حیاتِ شبلی، ٥٢٧)
"صرف ایک ہی لگن سب کے دل سے لگی تھی کہ جس طرح ممکن ہو زیادہ مال سمیٹنا چاہیے اور اس کو فیشن پرستی عیش پرستی اور اپنی من مانی خواہشات کے پورا کرنے میں خرچ کیا جائے۔" (١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ٤٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ایک ڈگری ہولڈر یقیناً کچھ جانتا ہے۔" (١٩٨١ء، قطب نما، ٧٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ڈولیاں بھی موجود ہیں ڈولی بان بھی حاضر ہیں۔" (١٩٠٨ء، مخزن، اپریل، ٢٨)
" |نو طرز مرصع| کی نثر میں ڈوبتے سورج کا اور عجائب القصص کی نثر میں چڑھتے سورج کا حسن ہے۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ١١٢٠:٢)
"اس کے اوپر ایک پتلی سی ڈنڈی نما اسٹائپل ہے۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٤٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"جہیز ہم کو ملا تھا دیکھنے والوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں، ایک ایک جوڑے پر ڈنڈی کا تلا دس دس سیر مصالحہ ٹکا ہوا تھا۔" (١٩٣٩ء، شمع، ٢٨٥)
دوہائی دیتی ہے بلبل چمن میں شاید گل کی ڈنڈھورا شہر میں ہے، یار گل رخسار کا پھرتا (١٨٦٣ء، دیوان سیر (اکبر آبادی)، ٦)
"عید کے دن حکومت نے احتیاط کے طور پر عیدگاہ میں ڈنڈا پولیس تعینات کر دی۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٨٩)
"اکبر . میدان کے سپاہی اور اکھاڑے کے ڈنڈ پیل پہلوان نہ تھے۔" (١٩٥٤ء، اکبرنامہ، ١٨٣)
"اہل کاروں کی تربیت کا انتظام گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس میں کیا گیا ہے . جو مختلف ڈویژنل ضلعی اور اہم تحصیلوں کے صدر مقام پر واقع ہیں۔" (١٩٨٥ء، مجلس زبان دفتری پنجاب، ٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اس دھوکے میں نہ رہنا، ہو چکی ڈھائی پہر کی بادشاہت، اب تو ایک ہی لاٹھی سے ہانکی جاؤ گی۔" (١٩٢٢ء، انارکلی، ١٨)
"اس تازہ اور شفاف پانی نے ایک ہی دن میں لاروے کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ ڈھاب کے کناروں سے جدا نہیں ہوتے۔" (١٩٤٢ء، گرہن، ١٢٨)
"اسی کو سلطان باہو نے |دل دریا سمندروں ڈونگھے| کی تمثیل قرار دیا ہے۔" (١٩٨٦ء، فیضان فیض، ١٥٨)
"ایک تیتر کسی ڈونگر کے دامن میں . پھرتا تھا۔" (١٧٦٥ء، دکنی انوار سہیلی، ٢٢٠)
"کیسا شوق لگ گیا ہے تمہیں، ڈوم ڈھاڑی بنو گے?" (١٩٨٢ء، غلام عباس، زندگی نقاب چہرے، ٣٦٣)
"مونھ اندھیرے ہی تم بھی ڈولی کر کے آئیں گے۔" (١٩٤٤ء، آتش چنار (ضمیمہ)، ٩٢٥)
"ان علاقوں کی سطح اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ناہموار اور ڈھلانی واقع ہوئی ہے۔" (١٩٧٧ء، معاشی جغرافیۂ پاکستان، ٢)
"اے کچھ نہیں ہووت ہے سب ڈھکوسلہ بازی ہے، ہندوؤں کی۔" (١٩٨١ء، چلتا مسافر، ٣٦)
"یہ سلطنت بھر کے قلعوں اور صوبوں میں توپوں کے ڈھلائی گھروں اور سلاخ خانوں میں خدمات بجا لاتے تھے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٩١:٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"زمین کی سطح نہ تو ہر جگہ ایک جیسی بلند ہے اور نہ ہی ایک جیسی ڈھلاندار۔" (١٩٦٤ء، رفیق طبعی جغرافیہ، ٢٠٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"جون پور میں سب سے قدیم مسجد قلعے کے اندر فیروز شاہ تغلق کے سپہ سالار ابراہیم نائب باربک کی تعمیر کردہ ہے۔" (١٩٣٢ء، اسلامی فن تعمیر، ٥١)
"جب میں نے حفیظ کو اتنی مدت گزرنے کے بعد دیکھا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے وہ ڈیپ فریزر سے نکل کر آیا ہے۔" (١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ١٢٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں