"عجیب سی خاموشی چھائی ہوءی تھی صرف بڑے میاں کی ڈھیلی بتیسی کی چپڑ چپڑ سنائی دے رہی تھی۔" (١٩٦٦ء، دو ہاتھ، ٢٠٢)
میں خوب جانتی ہوں کہ ہے کیوں یہ ڈھیل ڈھال پہچانتی ہوں خوب کبیرن تری یہ چال (١٩٤٧ء، سنبل و سلاسل، ٧٢)
"ابھی یہ ڈھولئے اتنی دیر تک آہستہ آہستہ دڑ دگڑ دگڑ کرتے رہتے کہ جب وہ پھر ایک ساتھ دھما دھم کی دھما چوکڑی مچاتے تو دل یکلخت زیادہ زور سے حرکت کرنے لگتا۔" (١٩٤٣ء، شکست، ١٦٨)
"اگرچہ یہ اردو ابھی پیدا نہیں ہوئی مگر اس کا پیش خیمہ ڈیرا ڈنڈا یورپ میں آ گیا ہے۔" (١٩١٥ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ١٥)
کب یار کو ملائے گا، آئے یار کب تنوائے گا یہ تنبو مرا ڈیرہ دار کب (١٨٨٩ء، دیوان عنایت و سفلی، ٢٥)
"ہم پیرس کے ایک مشہور ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں گئے۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٢٦٧)
"جنوب مشرقی ایشیا کے ڈیلٹائی خطے دریائے سندھ کی وادی اور دریائے نیل کی زرخیز تراب زرعی آبادی کی پرورش کرتی ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٩٥)
"ڈیری فارمنگ پاکستان میں کچھ زیادہ اہم نہیں۔" (١٩٦٦ء، پاکستان کا تجارتی و معاشی جغرافیہ، ١٠٦)
"باربد اس کا خاص درباری بربط نواز تھا۔" (١٩٢٨ء، سلیم، افادات سلیم، ١٣٩)
"انہوں نے صرف دو بنیادی تالیں اختیار کیں، ڈیڑھی اور دو تالی جن کی سنگت سے ساری دھنیں گائی جاتی ہیں۔" (١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ٣١)
"لوگ ایسے موقعوں پر اعتدال سے گزر جاتے ہیں خاص کر جب وہ ٹھٹھے یا مطائبات پر اتر آتے ہیں۔" (١٩٤٤ء، افسانچے، ١٦)
"وہ . تحصیل محاصل کے ٹھیکے دار ہوتے ہیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٨٨:٣)
"ٹھیلے والوں کے ٹھیلے چل رہے تھے۔" (١٩٥٨ء، عمر رفتہ، ٤٧١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ٹرائی نائٹروجن تو ٹی این ٹی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک اور موت کی نیند سلانے والی شے ہے۔" (١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ١٥٤)
"کرسیاں بچھی تھیں، پلنگ کے قریب ٹیبل فین رکھا تھا۔" (١٩٥٩ء، آگ کا دریا، ٣١٧)
"ٹیبلیٹ قرص یا ٹکیا کے معنوں میں بول چال میں چالو ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٦٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
کوئی مطلب موجود نہیں
"کیا ہی اچھا ہو اگر یہ بطور ٹیکسٹ بک . طلبا کو پڑھائی جائیں۔" (١٩١٥ء، آریہ سنگیت رامائن، ١٥:١)
"سید صاحب گیارہ برس تک بہار ٹیکسٹ کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔" (١٩٥٨ء، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، ٦٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"پیر آباد میں ٹیلی فون بوتھ قائم کیا جائے۔" (١٩٧٦ء، مشرق، کراچی، ٦ اگست، ٣)
"ضروری نہیں کہ اپنی ساری تفصیلات میں بھی اعصابی نظام ٹیلی فونی نظام کی طرح ہو۔" (١٩٧٠ء، نفسیات اور ہماری زندگی، ٦٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"دو فاصلوں کے درمیان بغیر تار اشارات پہنچانے کے طریقے کا نام بے تار کی برقی یا وائرلیس ٹیلی گرافی ہے۔" (١٩١١ء، برقابی، ١)
"ٹیوب ٹرین سے سفر کے لیے زیر زمین گءے اور بطن زمین سے . روئے زمین پر آئے۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ١٠٨)
"ہاں ٹیڑھے ترچھے ہوں گے جس دن بھر میرا بناء غیر ممکن۔" (١٨٨٢ء، تفسیر عفت، ٢٦)
سیدھی قسمت ٹیڑھی قسمت سب کا علاج ہے درد محبت (١٩٤٦ء، رمز و کنایات، ٨٣)
"بے راہ روی کی ایک صورت جو شاعری میں رونما ہوئی شاعر کی اپنے نفس پر جراحت کاری تھی۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٣٤٠)
"آلہ کے جزو ضربی کی مدد سے اس زاویہ کی تعبیر وقت میں کرلی جاتی ہے۔" (١٩٤١ء، تجربی فعلیات، ١٠٧)
"تعلیم قدیم کا ایک جزو اعظم سفر تھا۔" (١٩٢٥ء، فلسفیانہ مضامین، ٥٣)
"ظاہر ہے کہ پہلے رتبے کے جزوی مشتق بھی بالعموم لا اور ما کے تفاعل ہوں گے۔" (١٩٤٨ء، تفرقی و تکملی احصا، ١٤٣)
"لوگوں کے حالات جزوی و کلی کو بخوبی جانتا ہے۔" (١٨٤٨ء، توصیف زراعت، ٤)
"ہم ان اصطلاحات کو صرف اشکال یا اشیاء کے لیے استعمال کرتے ہیں یہ جسمی رنگ ہوتے ہیں۔" (١٩٣١ء، نفسیاتی اصول، ١٦٣)
"جعل مرکب اور جعل بسیط جو امور عامہ کے مباحث میں ایک مشہور بحث ہے۔" (١٩٥٦ء، مناظر احسن، عبقات، ٣١)
"ان تمام حالات و کیفیات . کے مجموعہ کو وسیع معنوں میں جغرافیہ طبیعی سے موسوم کرتے ہیں۔" (١٩٠٩ء، تاریخ تمدن، ١٦٧)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ٹھیک راستہ نہ ملنے پر پورے بلا نوش اور جفا طلب بن گئے۔" (١٩٤١ء، آزاد سماج، ١١١)
بے استخارہ دل کو ہے معلوم حکم رب موقوف امرو نہی نہیں جفت و طاق پر (١٨٦٣ء، دیوان اسیر اکبر آبادی، ١٦٤)