"تقسم کی ذیلی تقسیم ہونے لگی ذرے کو جزلایتجزی ہونے کی خواہش ہونے لگی، ہر کوئی علیحدہ ہونا چاہنے لگا۔" (١٩٤٥ء، جدید قانونی بین الممالک کا آغاز، ١٨)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اُنکی فکری توانائیاں بیدار ہوئی ہیں۔" (١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٩٦)
"اس قوم نے اپنے فکری اثاثوں کو عمل کی معراجوں تک پہنچا دیا ہے۔" (١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٩٩)
"ترقی پسند تحریک کے بعض فکری اسقام پر نکتہ چینی کی اور آزاد مملکت کے ادیبوں کے لیے وابستگی کا نظریہ پیش کیا۔" (١٩٨٥ء، منٹو نہ نوری نہ ناری، ١٦)
"ذہنی افراتفری اور فکری انارکی کو رواج ہوا۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکر و فن، ٢١٦)
"کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے ایک مقالے "اردو ادب کی چند فکری تحریکیں" میں ادب اور جمود . کے سوال کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔" (١٩٨٥ء، اُردو ادب کی تحریکیں، ٣٢)
"اگر اس نظم میں خود فیض ہی کی پرانی نظم "شام" کی گونج سنائی دیتی ہے تو یہ عجز اظہار یا داماندگیء شوق کا شاخسانہ نہیں بلکہ سلطانی جمہور کے آدرش سے وابستگی اور صلامتِ کردار کا کرشمہ ہے یہ فکری جمود کی نہیں فکری نشوونما کی علامت ہے۔" (١٩٨٨ء، فیض شاعری اور سیاست، ١٠١)
"جنہوں نے اس پیشکش کے رموز و نکات کو ذہن نشین کر لیا اُنکی فکری توانائیاں بیدار ہوتی ہیں۔" (١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ٩٦)
"ایسے اشعار بطور حوالہ دئیے گئے ہیں جو انکے بعض ذہنی اور فکری رویّوں کا پتہ دیتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٣٢)
"بدیہی طور پر مغرب کی ہم عصری فکری سطحوں کو نہیں چھو سکتی تھیں۔" (١٩٦٧ء، افکارِ محروم، ١٤)
"ہر مرحلے پر ایسے تصورات جو حقیقت اور مشاہدے کی کڑی دھوپ میں نکھرتے ہیں میرے ذہن کی پہنائیوں سے گزرتے وقت ایک اَن بُوجھے عمل سے حرف اور صورت کوئی نہ کوئی ایسا روپ دھار لیتے ہیں جس کی طرف میری فکری صلاحیّتوں کو بڑے غور کے ساتھ جھکنا پڑتا ہے۔" (١٩٧٤ء، لوحِ دل، ٢٧)
"فِکری فعِلیَّت بطور مراقبہ قربانیوں کی صورت میں خارجی عبادت کی بجائے قائم ہو رہا ہے۔" (١٩٤٥ء، تاریخ ہندی فلسفہ (ترجمہ)، ٥٢:١)
"اُن کی ادبی و فکری کاوشوں نے ایک الگ دبستان فکرو شعور کو جنم دیا۔" (١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ١١٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"عنوان میں اختصار کو ملحوظ رکھا ہے اور ذیلی عنوان میں رقبۂ مضمون کی راست بازانہ حد بندی کو دونوں مل کر مزید جلدوں کی گنجائش چھوڑتے ہیں جنکے لیے میرے پاس مواد موجود ہے۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات (پیش لفظ))
کوئی مطلب موجود نہیں
"انکی نہج کا یہ روپ جغرافیائی حدود کو تقدس اور پرستش کا رنگ دے دیتا ہے۔" (١٩٩٠ء، صحیفہ، اقبال نمبر، اکتوبر، دسمبر، ٤١)
"سیاسی تحریکوں کے دوران اور قومی قیادت کی رہنمائی موجودہ زمانے کا ایک نہایت سنجیدہ فکری موضوع بن چکا ہے۔" (١٩٨١ء، قائداعظم اور آزادی کی تحریک، ٣)
"انکے فکری محرکات کا باہمی ربط اور شاعری میں گونا گوں صورتوں سے ان کا اظہار . سامنے آسکے گا۔" (١٩٦٧ء، افکارِ محروم، ١٧)
"سونا، چاندی، بانڈ، اشرفی، تمسّکات، فکسڈ ڈپازِٹ، زیور، مکانات، زائداز ضرورت برتن اور تجارت کا اسباب سال بھر جس کے قبضے میں رہے اس کے مالک کو ہر سال اپنے مال کا چالیسواں حصہ بطور زکٰوۃ دینا فرض ہے۔ (١٩٨٥ء، روشنی، ١٤٤)
"یہ کون کتاب حضرت ناول ہے، فکشن۔" (١٨٨٠ء، فسانہ آزاد، ٢٩١:٢)
"نہ صرف اقبال و فیض نے یو۔پی والوں کی ہیکڑی توڑ دی بلکہ پنجاب کے ہندؤں میں بھی اتنے بڑے محقق نقاد |فکشن نگار| شاعر، مزاح نگار، صحافی ہوئے ہیں کہ نام شماری کا یارا نہیں۔" (١٩٨٨ء، غالب، کراچی، جنوری تا جون، ٣٠٢)
"لسانیات کا تاریخی مطالعہ جسے فلالوجی بھی کہا جاتا ہے۔" (١٩٨٧ء، صحیفۂ لاہور، اپریل، ٩٩)
"ایک دو موقعوں پر پہلے بھی فل نمبر دیے تھے۔" (١٩٧٥ء، "بسلامت روی" ١٢٩)
"ایک پورا جُملہ یا اس جملے کا کوئی حصہ ختم ہوا کہ نہیں اس کا احساس نثر کے آہنگ سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ کاما اور فل اسٹاپ لگا دینے سے۔" (١٩٥٧ء، ادب اور شعور، ٥١)
"فل بینچ کے فیصلے کی رُو سے بریت کے حکم کے خلاف نگرانی قابلِ سماعت نہیں۔" (١٩٧١ء، تحدیثِ نعمت، ١٩٣)
"جہاں ہم فل ڈریس کا استعمال کریں دستانہ ضروری ہے۔" (١٨٨١ء، رسالہ تہذیب الاخلاق، ١٥٤)
"وہ علم جسے علمِ نافع کہتے ہیں . اور جس کا نتیجہ فلاحِ دارَین کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔" (١٩٨١ء، افکار و اذکار، ٥)
"اس علاقے کے باشندوں کے لیے حیرت انگیز فلاح و بہبود کی توقع کی جارہی تھی۔" (١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ١٣٢)
"ہماری چند بزرگوں نے ان کاوشوں کے |فلاپ| ہو جانے کی ضمی پیشگوئی تک کر ڈالی۔" (١٩٨٤ء، قلمرو، ١٠١)
"جب حکمران خود بے یقینی کا شکار ہو جائے تو ملکی انتظام اور قوم سے اس کے فلاحی رشتے منقطع ہو جاتے ہیں۔" (١٩٨٢ء، تاریخِ ادبِ اُردو، ١٩:١)
"اگر ایک فلاحی ادارہ بروقت مصنف کے خاندان کی مدد نہ کرتا تو مصنف کی بیوہ ضرور مسوّدہ ڈھونڈ نکالتی۔" (١٩٨٧ء، گلی گلی کہانیاں، ١٨٦)
"ایک سماجی فلاحی مملکت کے لے راہ ہموار کرنا۔" (١٩٦٧ء، جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی، ٣٧٦)
"اسلامی تصوف پر اصل اثر تو تھا فلاطینوس کا جسکی فلاطونیت سے اقبال شروع میں متاثر ہوئے۔" (١٩٨٧ء، طواسین اقبال، ٤٥:١)
پھرتا ہوں میں بے دل مرا دل کیوں نہیں دیتے کیا تم سے جوا کھیل کے میں ہار گیا ہوں (١٩٢٥ء، شوق قدوائی، دیوان، ٣٣)
"اب کی جو تم کو کھیت جوتنے کو لے جائیں اور جوا تمہاری گردن میں پہنائیں تو فوراً گر پڑو۔" (١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ١٩)
فریب دیکھ تو اے شاد جو فروشوں کا جہاں میں کرتے ہیں گندم نمائیاں کیا کیا (١٨٧٨ء، سخن بے مثال، ١٥)
خوں ریز کم امیز و دل آویز و جنون خیز ہنستا ہوا مہتاب دمکتا ہوا تارا (١٩٣٣ء، سیف وسیلو، ١٧٤)
"جنون کی دو قسمیں ہوتی ہیں جنون بشری اور جنون الٰہی، جنون الٰہی چار طرح کا ہوتا ہے، الہامی، صوفیانہ، شاعرانہ اور عاشقانہ۔" (١٩٦٨ء، مغربی شعریات، ٣٤٢)