گوش آواز سرود رفتہ کا جویا ترا اور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا ترا (١٩٢٤ء، بانگ درا، ٢١٦)
"علامہ آپ کی سرود سازی سے بہت متاثر ہوئے۔" (١٩٦٥ء، علامہ اقبال کی داستان دکن، ١١)
"آپ تقریباً ١٤٠ احرام پوشوں کی جماعت کے ساتھ طواف کعبہ کے لیے روانہ ہو گئے۔" (١٩٥٤ء، حیوانات قرآنی، ١٦٣)
"فیروز شاہ ویسے تو پابند شریعت تھا لیکن شراب نوشی اور سرود نوازی ترک نہ کر سکا۔" (١٩٦٨ء، دو ادبی اسکول، ٢٦٩)
سرور انبیاء رسول کریم سرور اولیا علی ولی (١٩١٢ء، شمیم، بیاض، ١)
"ہم مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سرور عالم کہتے ہیں۔" (١٩٤١ء، سیرت سرور عالم، ١٥٧:١)
"سرودِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں شاعر کا نذرانہ عقیدت نعت کہلاتا ہے. ان اشعار کو کہتے ہیں جن میں نبی عربیۖ کی مدح و ستائش اور ان کے اوصاف و شمائل کا تذکرہ ہو۔" (١٩٨٥ء، کشاف "نقیدی اصطلاحات"، ٢٠٠)
محبت میں نسیم دہلوی کو غلام سرور لولاک پایا (١٨٦٥ء، نسیم دہلوی، دیوان، ٩٤)
"میں نے دونوں اڈیشنوں کے سرورق اور ترقیمے کی عبارتوں کا موازنہ کیا تو ایک حیرت انگیز اور دلچسپ انکشاف ہوا۔" (١٩٨٨ء۔ نگار، کراچی، فروری، ١٠)
"عمر کے ثبوت میں جو دستاویزات قابل قبول ہوتی ہیں ان کی صراحت پر کمپنی کے پیش نامہ میں کی جاتی ہے اور یہ بالعموم صداقت نامہ پیدائش، میٹرک یا ترک مدرسہ کا صداقت نامہ، سروس ریکارڈ، زالئچہ پیدائش فیملی ریکارڈ ہوتے ہیں۔" (١٩٦٤ء، بیمۂ حیات، ١٩٤)
"حسب ہدایت، سروس کمیشن کے سیکریٹریٹ کے کام کے لیے مندرجہ ذیل عارضی اسامیوں کو مورخہ . کی مدت تک کے لیے وضع کرنے کی صدر کی منظوری ارسال کی جاتی ہے۔" (١٩٨٤ء، دفتری مراسلت، ٢٦)
"اس کے بعد . وہ تفرقع (یعنی آواز کے ساتھ کسی چیز کا بھک سے اڑ جانا) موقوف ہو جاتا ہے اور کاسہ برکاں سے یا اس کے اطراف کے دہانوں سے لاوا بہنے لگتا ہے۔" (١٩١٦ء، طبقات الارض، ١٥)
"اس کے سیاحت نامہ کو سترھویں صدی کے تفریحی ادب میں اولین مقام حاصل ہے۔" (١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٦١:٣)
" وہ ابتدا ہی سے . محنت کش عوام کو منظم کرنے کی بھی مسلسل کوشش کرتے رہے کبھی . مزدوروں کی چھوٹی چھوٹی انجمنیں اور تفریحی کلب بنا کر۔" (١٩٧٦ء موسٰی سے مارکس تک، ٤٣٨)
"اس طرز کو صرف وہی افراد پسند و اختیار کرتے ہیں جو احساس کم تری کی بیماری میں گرفتار ہوتے ہیں۔" (١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٨)
"امام غزالی نے اس مذہب کی تائیدونصرت میں بہت سی کتابیں لکھیں اور معتزلہ کی تکفیر اور تفسیق۔ (١٩١٤ء، شبلی مقالات، ١٦:٥)
"اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ فیاضی کر دے اور وہ اسراف کی حد تک نہ پہنچی ہو تو یہ مذموم نہیں، بلکہ محمود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تفضا کا استعمال اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں عدالت کا استعمال ہوتا ہے۔" (١٩٥٣ء، حکمائے اسلام، ٢٦٢)
"تم کو خدا نے محض اپنے تفضل سے ہر طرح کی قابلیت دی۔" (١٩٦٦ء، سہ ماہی، اردو، ٤٢، ٥٦:٢)
"تفطر (چرنا) سلیٹ کے معدن میں اگر کوئی شخص جا کر ملاحظہ کرے تو اس کو یہ بات نظر آئے گی کہ یہ پتھر ایک مخصوص سمت میں کتنی آسانی سے پھٹتا ہے یعنی چرتا ہے۔" (١٩١٦ء، طبقات الارض، ١٦٩)
"اس سنگین شرارت (آتش زنی) کی وجہ بچے کا احساس محرومی ہے۔" (١٩٦٥ء، کاروان سائنس (سہ ماہی) ٢، ٣ : ٧٢)
دل عشاق ہار دیتا ہے خانہ باز اس قدر وہ پرفن ہے (١٨٤٦ء، دیوان مہر (آغا علی)، ٣٨٤)
"اور اسلام خانہ بخانہ اور قبیلہ بہ قبیلہ سرعت کے ساتھ پھیل گیا۔" (١٩١٢ء، مقدمہ تحقیق الجہاد، ترجمہ، ٣٨)
"تب کلنگ خانہ پرورر کی باؤلی دیں۔" (١٨٨٣ء، صید گاہ شوکتی، ٩٥)
خانہ زادی کا دیا ہوں خط تجھے جان سراج مت توں اپنی بندگی میں کر مجھے آزاد سن (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٣٤٢)
دیا ہزاروں کو دست ان نے خانہ سازی کا دل شکستہ کو میرے کیا نہ ٹک تعمیر (١٨١٠ء، کلیات میر، ١١٩١)
"بظاہر حیدر بیگ . کور نمکوں کی وجہ سے خانہ نشین ہو رہے تھے دربار میں آنا جانا موقوف تھا۔" (١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ١٩٤)
"ایک شخص کی خازنیت اس کی صحت کی عام حالت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔" (١٩٣٢ء، اساس نفسیات، ٣٩٥)
میں کس واسطے خاطر آزار ہوں کسی کے دل و دوش کا بارہوں (١٨٧٢ء، کلیات نعت، محسن، ٨٨)
"اکبر ہندوؤں کی نہایت خاطرداری کرتا تھا۔" (١٩١٤ء، مقالات شبلی، ٩٣:٧)
رہنمائے منزل مقصد ہوئی خاطر شکن مجکو ہر چاک دل بیتاب جادہ ہوگیا (١٨٥٢ء، دیوان برقی، ٣٦)
مرغ تو اس لیے کھا لیتا ہوں گھر پر ان کے نہیں منظور مریدوں کی بھی خاطر شکنی (١٩٨٢ء، ط ظ، ٩٦)
ہے لب بحر رواں آگ گلشن خاطر نشیں سبزہ تر سے زمرّد پوش ہے جس کی زمیں (١٩١٠ء، کلام محروم، ٤٠:١)
"وہ تمہاری جتنی حاطر داشت اس وقت کرتی ہیں، تمہارے ہمارے نکاح کے بعد اس سے زیادہ کریں گی۔" (١٩٢٥ء، مینابازار، شور، ١٧٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
ہے طریقہ خاکساری میں مرا دل ان دنوں خاک بردارِ غبار ریگزار انتظار (١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٢٥٩)
خاک روبی چرخ سکھلا دے ہوائے تند کو ٹھہرے ہے ٹک گردرہ ہو کر جو کوئے یار میں (١٨٠٩ء، کلیات جرات، ٤٦٥:١)
[" بعد تسبیح و حمد ربّ جلیل لب کشا یوں ہے خاکسار خلیل (١٩٨٣ء، علامتوں کا زوال، ٢٧)"]
"آپ کی تواضع اور خاکساری کا یہ عالم دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپ پیغمبر ہیں۔" (١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٧٨:٢)
"خاکستر برگ جب آلاس، خاکستر گلنار بطور سرمہ استعمال کریں۔" (١٩٣٦ء، شرح اسباب، ترجمہ، ١١٥:٤)
"خاکسی ٧ ماشہ اضافہ کریں. تیار ہونے کے بعد اوپر سے چھڑک کر پلا دیا کریں۔" (١٩٣٣ء، حمیات اجامیہ، ٧٩)