تلخی جاں کندن آساں اس ترش گوئی سے ہے جان شیریں سے ہے جی کھٹا ترے رنجور کا (١٨٥٧ء، سحر (نواب علی)، بیاض سحر، ٣٤)
"سر چارلس پیٹ بھی آدمی بالغ الدماغ صائب الرائے معلوم ہوتے ہیں۔" (١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ،٩، ١٠:١٥)
"شیخ کو نئے سرے سے ستاروں کی ترصید کا حکم دیا۔" (١٩٥٣ء، حکمائے اسلام، ٣١٨:١)
"یہ سب عالم مل کے گویا ایک عالم ہو جائے گا جس کی تالیف اور ترصیف محکم ہو گی۔" (١٩٢٥ء، حکمت الاشراق، ٢٨٩)
"کارپس کیلوسم کے ریشے ہر طرف سفید مادہ کے اندر تشعع کرتے ہیں۔" (١٩٣٤ء، عصبیات، ١١٣)
"جس مادے سے یہ چٹانیں مرکب ہیں وہ قرن ہا قرن پہلے کے اجزاے ارضی کی تحلیل و تشعیت سے حاصل ہوا۔" (١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٢٦٢)
"اس کی ایک خصوصیت ادبی مبارز طلبی تھی۔" (١٩٨٣ء، مری زندگی فسانہ، ٢٨٩)
"جالوت تلوار اور زرہ میں غرق ہو کر اور بہترین اسلہ سے مسلح ہو کر میدان میں نکلا اور مبارز طلب ہوا۔" (١٩٨٨ء، انبیائے قرآن، ١٦٠)
"ہلاک ہونے والوں کے بارے میں اعداد و شمار کے بارے میں غیر معمولی مبالغہ آمیزی سے کام لیا گیا۔" (١٩٨٧ء، پاکستان کیوں ٹوٹا، ١٧٣)
"سنجیدہ طبائع کے لیے سوانحات کا یہ مبالغہ آمیز یک رُخاپن پسندیدہ نہیں رہ گیا ہے۔" (١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٤٢)
"خواجہ غلام فرید کی شاعری میں بھی حضور نبی کریمۖ سے روحانی اور دلی وابستگی کا کثرت سے ذکر موجود ہے بالخصوص وہ سر زمین جہاں حضورۖ نے اپنے مبارک قدموں سے تبلیغِ اسلام کا آغاز کیا اور اسے رشک آسمان بنا دیا۔" (١٩٩١ء، صحیفہ، لاہور، جنوری تا جون، ٧٠)
"اقبال اس مثنوی سے صرف نظر نہیں کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے گلشن رازِ جدید، کے نام سے جواب، لکھا اور متوازی صورت میں وحدت الوجود کے مقابلے میں ماہیت الوجود کی تشریح وحدت الشہود اور استحکام انفرادی کے نقطہ نظر سے کی ہے۔" (١٩٨٧ء، اقبال عہد آفریں، ١٧٨)
"ماہی گیری آریاؤں کا پیشہ نہیں تھا اس لیے یہ خالص مقامی قبیلہ تھا۔" (١٩٨٩ء، تاریخ پاکستان (قدیم دور)، ٤٢٩)
"پانی کا ایک بڑا گلاس آنکھ سے ذرا اوپر رکھ کر اس کے اندر سے پانی کی سطح کو دیکھیے بلکہ گلاس کے بجائے شیشے کے ماہی دان کی دیوار سے دیکھیے جو مسطح ہو گئی۔" (١٩٣٧ء، فلسفہ نتجائجیت، ٦٤)
"پھر دیکھو میری مانی کا چھل چھل موت نہ نکل جائے تو جدی کہنا۔" (١٩٢٨ء، پس پردہ، آغا حیدر حسن، ٦٧)
دستِ فطرت نے دیا مانی و بہزاد کو درس آج ہر شخص کی تخیل میں اک آذر ہے (١٩٥١ء، لہو کے چراغ، ٤٥)
"ایک موضوع پر لکھے ہوئے رسالے کو مانو گراف سے تعبیر کیا جاتا ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٣٥)
"مانو گرام (Monogram) عام لفظ ہے، اس میں "مانو" یونانی سابقہ ہے۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ٣٥)
"تصویر بنانے والا کاغذ پر تصویر بنا لیتا ہے تو اس کاغذ کی پشت پر مایا. لگا کر اس کاغذ کو جما دیتے ہیں۔" (١٩٠٧ء، مخزن الفوائد، ٥٧:٢)
"تو ایک بام سے دوسرے بام پر بھاگتا پھرتا ہے۔" (١٨٣٨ء، بستان حکمت، ١١٤)
"اگلے لوگوں نے ان کے فضل و کمال پر گواہی دی ہے، اس لیے کہ یہ مثل مبادیِ عالیہ کے تھے۔" (١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٢)
"رونے کو مومنین مآل مجلس کہتے ہیں، میرے زعمِ ناقص میں رونا مآل ذاکر لیا جاتا تو بہتر تھا۔" (١٩٥٩ء، محمدعلی ردولوی، سوغات، بنگلور، ستمبر، ٩٥، ٣٤٨)
"ہر مبادلہ گر میں کشتی نما خواں ہوتے ہیں جن پر عمل انگیز بار گر کے ساتھ پھیلا ہوتا ہے۔" (١٩٧٥ء، غیر نامیاتی کیمیا (ظفر اقبال)، ٦١)
"مآل اندیشی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ہوس کو . ابتدا ہی میں کچل دیا جائے۔" (١٩٨٩ء، میر تقی میر اور آج کا ذوقِ شعری، ٣١٦)
"بُرے لوگوں کی مذموم حرکات. کی تفصیلات پڑھ کر مآثم و معاصی سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔" (١٩٦٩ء، تاریخ فیروز شاہی، معین الحق (مقدمہ)، ١٨)
"زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ مباحِث دین میں کلام و فلسفے کی مُوشگافیاں ناگزیر طور پر شامل ہو جاتی ہیں۔" (١٩٨٦ء، قرآن اور زندگی، ٣٦)
"آج ہم . اردو تنقید کی روایت میں اٹھائے گئے مباحث تک پہنچے ہیں۔" (١٩٩٧ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٢٦)
"ممکن ہے آئندہ نسلیں ان کی مایہ ناز تصانیف کو لغویات کہہ کر پکاریں۔" (١٩٩١ء، نگار، کراچی، فروری، ٣٦)
"مستصوف وہ ہے کہ محض دنیاوی وجاہت اور لذات و شہوات کے حصول کے لیے اپنا . صوفیائے کرام کی طرح حلیہ بنائے رکھتا ہے۔" (١٩٦٣ء، تعلیمات حضرت شاہ مینا، ٢٣)
"اب مصر میں اس لفظ کی جگہ ایک خاص عربی لفظ مستشفٰی مستعمل ہے۔" (١٩٥٤ء، طب العرب، ١٣٤)
"اس نے ساری دنیا کی ایک تاریخ لکھنا شروع کی جو گویا پولے بیوس ہی کا مستزادہ ہے۔" (١٩٥٧ء، مقدمۂ تاریخ سائنس، (مقدمہ)، ٤٢٨:١)
"ریتیلی زمینیں سیم کی زد میں کم آتی ہیں کیونکہ ان کی مسامدار مٹی میں سے پانی کے نکاس میں آسانی ہوتی ہے۔" (١٩٨٨ء، جدید فصلیں، ٢٩)
"جو سرکار حضرت کلاں . میں خدمت مستوفی گری اور پیشگاری صدارت امکنہ ہندوستان پر فائز تھے۔" (١٩٣١ء، مقدمات عبدالحق، ٣٠٣:١)
["\"قصہ اس مستورہ کے علاج کا سنا میں نے، اس کا تدارک بہت آسان ہے کچھ فکر نہ کر ہماری بھی قوم کی عورتوں کو یہ مرض بیشتر ہوتا ہے۔\" (١٨٣٨ء، بستان حکمت، ٣٠١)"]
["\"مستقر ٹھہرنے کی جگہ جسے ٹھکانا کہا اور مستودع سپرد کئے جانے اور امانت رکھے جانے کی جگہ کو کہتے ہیں۔\" (١٩٣٢ء، ترجمۂ قرآن، مولانا محمود الحسن، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی، ٢٤٦)"]
"وہ خود اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں لکھتے تھے بلکہ کاتب (مستملی) سے لکھواتے تھے۔" (١٩٦٢ء، اردو نثر کا آغاز اور ارتقاء، ٩١)
"مستمع (یعنی سننے والا) یاد حق سے خالی نہ ہو۔" (١٩٥٢ء، تاریخ مشائخ چشت، ٣٠٦)
"فنکار کا ارتقاء ہمیشہ مستقیمی نہیں ہوتا کہ ہر دور میں وہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا چلا جائے۔" (١٩٨٩ء، سعادت حسن منٹو، ٥٥)
"نظام تعلیم میں بھی کسی خط کو مستقلاً نہیں اپنایا گیا ہے۔" (١٩٩٤ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ٩٢)
"طباق . اس قسم کا اکلیچہ بھی چکر دار کی طرح ہوتا ہے۔" (١٩٦٦ء، مبادی نباتیات، ١٦٨)