"کرم خور پودے سبز ہوتے ہیں اور اپنی غذا خود تیار کر سکتے ہیں۔" (١٩٦٦ء، مبادی نباتات، ٧٣٢:٢)
بندۂ تخمین و ظن، کرمِ کتابی نہ بن عشق سراپا حضور علم سراپا حجاب! (١٩٣٦ء، ضربِ کلیم، ١٣)
"ان سے نمٹنے کے لیے کرم کش دواؤں (Pesticides) کی دریافت بڑی مفید ثابت ہوئی ہے۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٣٥٢)
"جیسے کرمک شب تاب اِکّا دُکا بھول کر بستی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔" (١٩٨٣ء، دشتِ سُوس، ١٢٦)
"انفرادی لاشعور ماضی کے واقعات خصوصاً بالک پن اور بچپن سے متاثر ہوتا ہے۔" (١٩٦٩ء، نئے ذائقے، ١٤٦)
"اور پھر وہ کرموں جلی سرشام کی چھڑی مفت میں صبح تک پھنکتی رہی۔" (١٩٨٦ء، جوالامُکھ، ٥١)
"ہائے مجھ سے اس کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی، مگر کرنی کا پھل مل رہا ہے۔" (١٩٧١ء، فہمینہ، ١١٦)
"ہماری کرنیلی محض کاغذی کرنیلی تھی۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ٣١)
یاد کرو کیا میں نے کہا تھا آج محبت ہے کہ نہیں کروٹ کروٹ آنکھ میں آنسو دل میں ندامت ہے کہ نہیں (١٩٧٠ء، برش قلم، حضرت محبوب خزاں، ٣٤)
"کرۂ ارضی پر زیادہ سے زیادہ خود رو نباتات اور استوائی جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔" (١٩٥٤ء، خطے اور ان کے وسائلء، ٢٥)
"کرۂ آب جسے انسان جہاز رانی، ماہی گیری اور دیگر اشیاء کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔" (١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ١٥)
"بچوں کو بالک باڑیوں اور ننھوں کی تربیت گاہوں میں بھیجنا ابھی والدین پر لازم تو نہیں کرنا چاہیے۔" (١٩٤٦ء، تعلیمی خطبات، ڈاکٹر حسین، ١٧٩)
"قدرتی حالت میں یہ کرۂ چشم کے ملتحمہ سے متماس ہوتے ہیں۔" (١٩٣٤، احشائبات (ترجمہ)، ٣٦٣)
"روس نے یہ سیارہ ٢ جنوری ١٩٥٩ء کو چھوڑا تھا، اس کی ساخت کرہ نما ہے۔" (١٩٦٣ء، مصنوعی سیارے، ١٦٨)
"کریانہ مرچنٹ یہ اطلاع دینا ضروری سمجھتا ہے۔" (١٩٧٨ء، ابن انشاء، خمار گندم، ٦٥)
["\"ہم مکتب میں کریما اور متیماں ایک ساتھ پڑھتے تھے، دن بھر ایک ساتھ کھیلتے تھے۔\" (١٩٧٤ء، دو صورتیں الٰہی، ١٥)"]
تقدیر سے نصیب ہوا حج بھی آپ کو اللہ کا یہ لطفِ کریمانہ ہوگیا (١٩٧٢ء، دامن یوسف، ١٥٧)
"اگر ہر کس و ناکس کو حق رائے دہی حاصل ہو جائے تو بہت ممکن ہے نا اہل نمائندے منتخب ہو جائیں۔" (١٩٨٧ء، ١٩٨٧ء، افکار، کراچی، مارچ، ٨٠:٣)
"دوسرے دور میں انکا یہ ڈھیلا اسلوب بہت ہی کسا ہوا نظر آتا ہے۔" (١٩٨٢ء، برش قلم، ٨٢)
"میری نظر اگلے پانچ برسوں پر لگی ہوئی ہے کہ ہم اپنے منصوبوں کو جن کا مقصد ملک کو کساد بازاری سے نکالنا ہے کس طرح نافذ کریں۔" (١٩٩٢ء، جنگ، کراچی، ١١ اپریل، ١)
شوکت شاہی بھی ہے جس کی اداؤں پہ نثار گھر کے اندر واہ یہ کسبِ معیشت کا ہُنر (١٩٨٢ء، ط ظ، ١٣١)
"یعنی کستوری ہرن چلغوزے کے خطے میں پایا جاتا ہے۔" (١٩٧٧ء، کرۂ ارض کا حیوانی جغرافیہ، ١٥٠)
اگر مقصود ہے اخراج بھی اخلاط فاسد کا تو پھر یہ بحث کیوں ہے شیر و خشت و کسٹرائل میں (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٢١٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
بڑا احساسہ ے کسٹوڈین کو فرض اپنے کا کوئی اس باب میں اس کا مقابل ہو نہیں سکتا (١٩٥٢ء، ط ظ، ٨٩)
"مرکب کسروں کا جزو نکالنے سے پہلے ان کو کسر غیرواجب بنالو۔ (١٩٦٣ء، نیا حساب، ہشتم، ٢٠")
"کسرہ اضافت جب کھنچا ہوا ہو تو اسے |ے| شمار کرتے ہیں یعنی صبحِ بنارس کو صُبحے بنارس پڑھا جاتا ہے۔ (١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٤٦)
"ترشی ہوئی اور خفیف شکلیں ہونے کے باعث کسرہ خفیفہ اور ضمۂ خفیفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے" (١٩٨٨ء، اردو نامہ، لاہور)
"دِورانی، جِٹھانی ان لفظوں میں |ر| اور |ج| کی زیر ہے وہ کسرہ مجہول ہے۔" (١٩٧٣ء، اردو نامہ، کراچی، مارچ، ٦٦:٤٤)
"جب کسی لفظ میں کسی حرف مکسور کے بعد آنے والا حرف ساکن ہائے خطی یا ہائے ہوز ملفوظ یاعین مہملہ ہوتا ہے. اسے کسرہ معروف سے بولتے ہیں ثقل اعراب محسوس ہوتا ہے۔" (١٩٧٢ء، حسن تلفظ، ١١٠)
جو تھے محفلِ دہر میں کَس مپُرس وہ ہیں زندہ پیر اور کرتے ہیں عرس (١٩٥٢ء، ضمیرِ خامہ، ١٤٢)
"ہمیشہ قواعد کے رستے سے ترچھے ہو کر چلتے ہیں وہ ان کا ترچھاپن بھی عجب بانکن دکھاتا ہے۔" (١٨٨٠ء، آب حیات، ٣١٣)
"تردی یعنی اوپر سے گر کر مر جائے . کی صفت . پرند میں متحقق ہی نہیں ہو سکتی۔" (١٨٩٨ء، سرسید، مکتوبات، ١٨١)
"جو خون کسی زندہ عضو سے نکالا گیا ہو اس کی نسبت اس خون کی تردیب جو لاش کے اندر ہے، زیادہ دیر سے اور زیادہ آہستہ ہوتی ہے۔" (١٩٣٧ء، طب قانونی، ٧٢)
"یہ کسی کو خیال نہ آیا کہ خاص خاص فن کے بالغ العلوم ہونے کا بھی نصاب بنایا جائے۔" (١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٤٣٠)
"دریا اٹ کو چڑوں کی شکل میں ایک جھیل میں لے جا کر برابر ڈالتا رہتا ہے پس ظاہر ہے کہ اسی طریقہ سے اٹ کا تالابوں میں ترسب ہوتا رہتا ہے۔" (١٩٤٩ء، آبپاشی، ١٥٢)
"کچھ رنجیدہ کچھ رسیدہ، لگیں کھڑے پڑے پچھاڑیں کھانے۔" (١٩٢٨ء، پس پردہ، ٧٧)
"ترسیل حرارت میں گرم شدہ ذرے ایک مقام سے باقاعدہ طور پر حرکت کرکے دوسرے مقام پر حرارت کو لے جاتے ہیں۔" (١٩٦٦ء، حرارت، ٨٥١)
"تفاعل کے مفہوم کو واضح طور پر ایک شکل میں متعدی کو دکھانے کے لیے ترسیم خاص اہمیت رکھتی ہے۔" (١٩٢١ء، ترسیمات، ٢)
گستاخ کس قدر ہے یہ مرد ترش کلام نزدیک تھا کہ خوف سے ہو جاؤں میں تمام (١٨٩٣ء، ریاض شمیم، ٣٥:١)