"سفید طباق چہرے پہ چھائیوں کی تتلیاں سجائے بھابی صولت آئیں۔" (١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٥٦)
"صحن میں جا بجا گھانس اگ کر اس پر کپڑوں میں چمٹنے والی بالیاں اگ آئی تھیں۔" (١٩٥٢ء، گوری ہو گوری، ١٦٧)
"پیٹھے سا سر ہے اور کوڑی سے ذانت ہیں اور طباق سا پیٹ ہے۔" (١٧٤٦ء، قصہ مہر افروزو دلبر، ٨٦)
"ڈاچیوں . کے گلے میں پڑی ہوئی ممیلوں کی گھنٹیوں کی آواز آتی ہے۔" (١٩٧٦ء، زر گرشت، ٨٢)
"صرف میرے کمرے میں آتے تھے آتے ہی جان من یا ہلو ڈارلنگ کہہ کر پیار کرتے۔" (١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ١٥٤)
"ڈاروینی نظریہ ایک بے معنی مفروضہ ہے۔" (١٩٧٥ء، نوائے وقت، لاہور، ٣٠ | اگست، ٦)
"انسان حیوانی منازل سے ترقی کرتا ہوا بشریت کی حدود میں نہیں آیا جیسا کہ . ڈارونیت سے متاثر حضرات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔" (١٩٧٥ء، نوائے وقت، لاہور، ٣٠ | اگست، ٦)
"ایک غلام گردش ہے جو سرنگ نما ڈاٹ کی چھت سے پٹی ہوئی ہے۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٧٨٢:٣)
"ڈاٹ کی دار برآمدوں کی نشانات ابھی موجود ہیں۔" (١٩٨٧ء، صحیفہ، جولائی، ٥٨)
"ان ڈاٹا سے اس پانی کی مقدار جو کہ گزر رہا ہے دریافت کی جاسکتی ہے۔" (١٩٠٦ء، راہنمائے انجینری، ٣٩:٢)
"سید صاحب (سید سلیمان ندوی) کی علمی خدمات کے اعتراف میں ان کی خدمت میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پیش کرنے کی تجویز (سرشاہ سلیمان نے) منظور کرالی۔" (١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٤٩٦)
فاقے سے تین دن کے ہیں خود تیرے میہماں فرط عطش سے بالی سکینہ ہے نیمجاں (١٩٣٨ء، مراثی نسیم، ٣٨٩:٢)
"گرانٹ (گھڑی دیکھا کر) انہوں نے فرمایا تھا کہ جونہی ڈاکٹری معانئہ ختم ہو جائے گا وہ فوراً چلے آئیں گے۔" (١٩٤٦ء، جھانسی کی رانی، ٧٦)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ڈاکٹر (Doctor) اردو میں عام لفظ ہے جو لفظ اور جراح کے لیے مستعمل ہے . ڈاکٹرنی، (اسم مؤنث) بنا لیے گئے ہیں۔" (١٩٥٥ء، اردو میں دخیل یورپی الفاظ، ١٦٧)
"بالآخر سپریم کورٹ کے ججوں نے اس ڈاکو منٹری کو دیکھا۔" (١٩٨٧ء، افکار، کراچی، اگست، ٢٨)
اسلام کے چمن میں صنم ہر دوار کے پھرتے ہیں پات پات پھدکتے ہیں ڈال ڈال (١٩٣٨ء، چمنستان، ٢٠٧)
"سید احمد شاہ بخاری اس کے (ریڈیو) کنٹرولر تھے جو بعد میں ڈائرکٹر جنرل مقرر ہوئے میں نے . ان کے نام اپنی درخواست بھیج دی۔" (١٩٦٠ء، آنکھیں ترستیاں ہیں، ٧٠)
"انجینیرنگ سروس یا ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے جس میں تمام انجینیرنگ کے نام درج ہوں۔" (١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ١٢، جنوری، ٢)
"میں تو یہ جاننا چاہتی ہوں کہ مشرق کے ڈاؤن فال کی اصل وجہ کیا ہے۔" (١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٦٩٩)
"عقب ان کے ہرکارے پھر بان بردار بھر بلحم بردار پھر تین ترب سواراں رجمنٹ لین سر۔" (١٨٧٢ء، تاریخ بھوپال، ٣٧:٢)
"فن بھی عجب رزم گاہ نظر و آگہی ہے کہ بعض اوقات یہاں سادہ سے پیچیدہ ڈائی گرام بنانے کی داد ملتی ہے۔" (١٩٧٦ء، توازن، ٢٦٩)
"کیا داخلی غزل بازی، کیا رومانوی افسانہ کیا، ڈائجسٹی سنسنی خیزی . ہائی کوالٹی ادب کو ایمائیت۔" (١٩٧٦ء، صدا کر چلے، ٧٠)
"کچھ پودوں سے اون رنگنے کی ڈائی حاصل کی جاتی ہے۔" (١٩٨١ء، آسان نباتیات، ١٦٢)
"آخر اس نے ڈاکٹری سارٹیفکیٹ طلب کرنے شروع کئے اور اب یہ شرط بھی پوری ہوئی تو سول سرجن کا سارٹیفکیٹ مانگا۔" (١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ١٨)
"میں نے اسے روکنا چاہا کہ باتوں کے ذریعے کسی طرح اس کا ڈپریشن دور کروں۔" (١٩٨٠ء، دیوار کے پیچھے، ٤٩)
"١٩٤١ء میں جنگ کی یورپی صورت حال اور برطانیہ کی فوجی اور ڈپلو میٹک سٹریٹجی کا . علم کوئی کھلی خبر نہ تھی۔" (١٩٨١ء، قائداعظم اور آزادی کی تحریک، ٩٤)
"ریل کے ڈبے میں ایسے ہم سفر بھی تھے پہلے بھی دکن جا چکے تھے۔" (١٩١٦ء، پیاری زمین (ترجمہ)، ١١٤)
"دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراونا خواب دیکھتی ہے۔" (١٩٥٥ء، منٹو، منٹو نوری نہ ناری، ١٥٦)
"ذابح وقت ذبح کے بسم اللہ کہے۔" (١٨٨٧ء، نیر المصائب، ٢١٥)
"موجود ہونے کے اعتبار سے اشیاء کے تین مرتبے ہیں پہلا مرتبہ تو اس خالص موجود کا ہے جس کے وجود کا تعلق کسی غیر سے نہیں ہوتا اور ایسا وجود جو کسی قید کے ساتھ قصید نہ ہو، ارباب معرفت کی اصطلاح میں اس کا نام "ہویت غیبہ" "غیب مطلق" "ذات احدی" ہے۔" (١٩٤٠ء، اسفار اربعہ، (ترجمہ)، ١، ٩٦٤:٤)
نہیں چمن کی ہوا ذبح گاہ دکھلاتی قفس کو لے کے چلا ہے مرے کہاں صیاد (١٨٧٣ء، دیوان جرار، ٣٦)
"آپ لوگ سوا اسکے کہ سودا گری کریں اور کچھ نہیں جانتے اور ہم لوگ تو تلے رہتے ہیں کہ اگر ذرا بھی کہیں کھٹکا ہو تو جان دینے کو تیار ہو جائیں۔" (١٩٠٣ء، سرشار، بچھڑی ہوئی دلہن، ٨٨)
"جب آپریشن کر چکو اور پردہ ملتحمہ کا ورم دور ہو جائے اس وقت آنکھ میں باریک پسا ہوا نمک بھر دو ذرور احمر چھڑکو۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، (ترجمہ)، ٥٦)
"جہاں کہیں میں نے (مصنف) ذرّوی نفسیات پر تنقید کی ہے وہاں میں نے ہمیشہ اس صورت کو لیا ہے جس میں کہ جیمس (ماہر نفسیات) نے اس کو بیان کیا ہے۔" (١٩٣٤ء، اساس نفسیات (ترجمہ) (دیباچہ)، ٣)
تو نے روشن کر دیا ہے اے شہ ذرہ نواز آفتاب کائنات و ماہتاب کائنات (١٨٧٣ء، ماجات ہندی، ١٧)
"ذکر فی الحقیقۃ اہالی اس سرکار کے اور صاحب دربار جانشین لکھنو کو پہونچتا ہے کہ ایسے مقدمے میں ذکر و مذکور لاویں۔" (١٨٩٦ء، سوانحات سلاطین اودھ، ٢١٤:١)
"خطیب، شاعر کی بہ نسبت زیادہ عاقل زیادہ ذکی النفس زیادہ عالی منزلت ہوتا ہے۔" (١٩١٤ء، مقالات شبلی، ٢٦:٢)
"فقط ارادہ بغاوت سے وہ ذمیت کے حقوق سے محروم نہیں ہو گئے۔" (١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٢٢٤:١)
"اس میں کسی وقت ذومعنویت کی جھلک پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ دماغ کا جی یہی چاہتا تھا کہ بات زہر دے کر قتل کر دینے والی رہے۔" (١٩٨٦ء، آئینہ، ٢٤٤)