"ہماری مزاحمتی تحریک کو بنیادی نقصان اردنی اور فلسطینی عوام کے ایک نہ ہونے کے عمل سے پہنچا ہے۔" (١٩٩٠ء، لیلٰی خالد، ١٢٦)
"اس میں مزے کی بات یہ کہی کہ. تمام وزنی موضوعات کا بار ہمارے شاعر غالب کو اٹھانا پڑا۔" (١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٤٥)
"ان دور اندیش، ژرف نگاہ مدبروں کے نزدیک اس مزمن مارض کا علاج صرف یہ تھا کہ اسلامیان ہند کے اسلامی جذبے کو سراہا جائے۔" (١٩٩٩ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٤١)
"مسلمان کی نظر میں یہ دنیا مزرع آخرت ہے۔" (١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، اکتوبر، دسمبر، ٤٨)
"خیال ہے کہ مسئلہ کشش یعنی کہ ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی طرف کھینچتا ہے، اسی فلسفی (نیوٹن) کی ایجاد ہے۔" (١٩٣٨ء، مقالات شبلی، ٤٧:٧)
"مسئلہ فیثاغورث جملہ فنیات کا سنگ بنیاد ہے۔" (١٩٧٠ء، زعمائے سائنس، ١)
"مسئلہ زبان سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جب کسی ملک یا قوم کو کسی دوسرے ملک یا قوم پر فتح حاصل ہوتی ہے تو فاتح اپنی زبان مفتوح قوم کے لوگوں پر نہیں لادتا۔" (١٩٧٣ء، احتشام حسین، اردو ادب کی تنقیدی تاریخ، ١٤)
"م ط کو مساوی پ کے کھنچو اور فرض کرو م ا نہایت اصغر ہو بعد اس کے بموجب مسئلہ مثلثات کی. نصف قطر۔" (١٨٤٢ء، علم ہیئت (ترجمہ)، ١٤٠)
"مسئلہ جبر و قدر پر ہر دور کے علماء نے خامہ فرسائی فرمائی۔" (١٩٧٣ء، مسئلہ جبر و قدر، ٣)
"مسئلہ ثنائی (Binomial Theorem) آسانی سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔" (١٩٦٥ء، طبیعیات، ١٣)
"حرارت شمسی کے مسئلہ بقا پر بحث کی جائے۔" (١٩١٨ء، تحفۂ سائنس، ٣٥٠)
"مسئلہ اثباتی: اگر ایک خط مستقیم مثلث کے کسی ایک ضلعے کے متوازی کھینچا جائے تو یہ باقی دو اضلاع کو ایک ہی نسبت سے تقسیم کرتا ہے۔" (١٩٤٠ء، علم ہندسہ مستوی (ترجمہ)،١)
"علماء مسئلے کے ساتھ علوم جدیدہ سے جو مزید روشنی ان پر پڑتی ہے اس کا علم بھی خود حاصل کریں۔" (١٩٢٩ء، بہار عیش، ٥)
"مزید برآں زبان سے متعلق کسی مسئلے کے حل میں علمی اور سائنسی معیاروں کا باکفایت اظہار کرنے کیلیے ہمیں انگریزی زبان پر کافی عبور ہونے کو یقینی بنانا ہوگا۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ٢١)
"مہربانی اور محبت کے نازک فرق کو |رنجش بے جا| کے ذکر . سے بیان کر جانا شاعری کا کمال ہے۔" (١٩٨٦ء، نیاز فتح پوری، شخصیت، فکر و فن، ٣٢٤)
ہم رند بلا نوش بہکتے نہیں مئے سے موسم ہی ہمیں لغزش پا ہو کے ملا ہے (١٩٧١ء، شیشے کے پیرہن، ٤٥)
"کمال یہ ہوا کہ باوجود یہ سب کچھ ہونے کے کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ یہ مکھیاں کیوں اڑیں اور کس نے اڑائیں۔ یہ رموز سلطنت تھے۔" (١٩٤٧ء، فرحت، مضامین، ١٣:٤)
"اہل ملک جدید قسم کی جدوجہد سے ناآشنا اور رموز سیاست سے بیگانہ تھے۔" (١٩٢٥ء، وقار حیات، ٦٨)
"اس کتاب میں کتابت کی دوسری غلطیوں کے علاوہ رموز اوقاف (Punctuation) کی غلطیاں بہت کثرت سے رہ گئی ہیں۔" (١٩١٥ء، فلسفۂ احتجاج، دیباچہ، دیوان)
"منٰی سے لوگ سے وقت تک اپنے گھروں کو روانہ نہ ہو سکتے تھے جب تک کہ صوفہ پہلے رمی جمار نہ کر لیں۔" (١٩٧٨ء، سیرت سرور عالم، ٨٠:٢)
"اس طرح کے مرد کو غالباً رن مرید کہا جاتا ہے۔" (١٩٨٠ء، وارث، ١٣٨)
"میری زندگی اور موت، رنج و غم، سودو زیاں، جو کچھ بھی تھا باجی سلمٰی کے لیے تھا۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٦١)
رنج و الم کے بعد خوشی لازمی سہی لیکن حیات رنج و الم مختصر کہاں (١٩٨٣ء، حصارانا، ١٦٨)
"اسی شام کو مسجد کمیٹی جسے گلی کے ایک رفاہی ادارے کی حیثیت حاصل تھی کے صدر خان صاحب اکبر خان کے مکان میں . میٹنگ ہوتی۔" (١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٧٦)
"مجھے آپ کی رمز شناسی کا دعویٰ تو نہیں تاہم میرا خیال ہے کہ فنڈز کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔" (١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٦)
خالی از لطف نہیں آنکھ چرانا ان کا فرحت افزائے نظر ہے رم آہو کی طرح (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ١: ١٢٧)
"بغیر کسی استشنا کے سب ٹیکسوں کی تخفیف پر رلیف کو ترجیح دیتے تھے۔" (١٩٠٧ء، کرزن نامہ، ٤٢٠)
"خط کو خالص مشک میں بسایا اور اسے اپنے بال بندوں میں لپیٹا جو عراقی ریشم کے تھے۔" (١٩٤١ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٥٥)
کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی (١٨١٠ء، میر، کلیات، ٦٥١)
سجی ہے آج بھی دوکان جبہ و دستار ہے گرم اب بھی رکوع و سجود کا بازار (١٩٥٢ء، نبض دوراں، ٢٣٦)
"حجراسود کے مقابل گوشہ کا نام رکن شامی ہے۔" (١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٥٩:٥)
"میں بڑے بھاری رکن اسلام یعنی حدیث کو اکھاڑنا چاہتا ہوں۔" (١٨٩٨ء، مضامین سرسید، ٩٧)
"کیمیا دراصل اللہ تعالٰی کا وہ نادیدہ ہاتھ ہے جو انسان اور انسان کی طرح تمام زندہ اور غیر زندہ چیزوں کی بناوٹ اور ریخت کی مشینری کو چلا رہا ہے۔" (١٩٦٨ء، کیمیاوی سامان حرب، ١٨٩)
"مجید نے گھبرا کر ریسیور قدر نواز جنگ کے حوالے کر دیا۔" (١٩٨٥ء، اک محشر خیال، ١٤٣)
"بعض تصویریں . ری ٹچ کروا لینا چاہیے۔" (١٩٦٩ء، فن ادارت، ٢١٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ایک شاعر نے تحقیر سے کہا اسے تو ہم ریجیکٹ کر چکے ہیں۔" (١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ١٥)
"افزائش نسل خلیاتی تقسیم یا اجزائی تقسیم یعنی ریختگی سے ہوتی ہے۔" (١٩٦٨ء، بے تخم نباتیات، ٤٢)
"امیر خسرو کے بعد کبیر جی اور گیسو دراز دونوں ریختہ گو شاعر بھی ہیں۔" (١٩٦١ء، تین ہندوستانی زبانیں، ١٣٢)
"سرسکندر حیات خان ریزرو بنک کی گورنری چھوڑ کر پنجاب تشریف لے آئے۔" (١٩٥٥ء، چراغ حسن حسرت، مطائبات، ١٩:١)