"ممکن ہے حکومت کے پاس ان کاموں کے لیے کافی ریزرو فنڈ نہ ہوں۔" (١٩٧٤ء، ہندوستانی معیشت، ٢٦)
"رسد کے دستوں اور ریزرو فوجوں نے بڑی مضبوطی سے . قدم جما لیے تھے۔" (١٩٧٥ء، قافلہ شہیدوں کا، ٣٦٥)
"کل میں نے خود ہی ریزرویشن کرایا تھا۔" (١٩٨٤ء، پرایا گھر، ١٧٢)
"معلوم ہوتا ہے آج کی رات بال میں جانے کا مقصد ہے۔" (١٩٢٤ء، خونی بھید، ١٧)
"ریسپشن والی لڑکی نے وجد میں آ کر ہمیں بلا ضرورت ڈبل کمرہ دے دیا۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ١١٢)
"آپۖ نے فوراً وہ خون ریش مبارک میں ملتے ہوئے فرمایا۔" (١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ١٣٠)
"آج اس کانفرنس میں جو ریزولوشن پیش ہوا ہے وہ نہایت صحیح ہے۔" (١٩٧٧ء، اقبال کی صحبت میں، ٣١٥)
وصف دہان یار میں قاصد ہے کیوں زباں ریشم کی پڑ گئی ہے گرہ اس سخن میں کیا (١٨٩٦ء، تجلیات عشق، ٦٠)
"میں تمھیں امپریل لائبریری کے ریڈنگ روم لے چلتا ہوں۔" (١٩٨٤ء، گرد راہ، ٥٦)
"فوٹو گرافر نے بھی جھگڑا ختم کرنا چاہا اور ادھر اس نے ریڈی کہا اور ادھر میں نے ذرا گالوں میں ہوا پکڑی۔" (١٩٣١ء، روح لطافت، ١٠٠)
"ڈرائیور چشمے پر اس کا ریڈی ایٹر ٹھنڈے پانی سے بھرتا۔" (١٩٨٣ء، اجلے پھول، ٨٣)
"اب وہاں بچوں کے ریڈی میڈ کپڑوں کی منڈی ہے۔" (١٩٧٥ء، بسلامت روی، ١٩٤)
اہل زر اہل ہنر اہل جمال اہل کمال فکر دنیا سے غنی صاحب دل فارغ بال (١٩١١ء، برجیس، مرثیہ، ٣)
"ریڈی ایشن کی جو ذراتی اور موجی تصویریں پیش کی جاتی ہیں وہ ایک خاص وحدت کے دو علیحدہ علیحدہ پہلو ہیں۔" (١٩٧٠ء، کوانٹم نظریہ، ١٤٢)
"ریڈیو اسٹیشن کے مالک اہل تجارت شریف لوگ تھے انہوں . نے اپنی عزت اسی میں سمجھی کہ ریڈیو اسٹیشن بند کر دیئے جائیں۔" (١٩٦٦ء، سرگزشت، ١٨)
"آخر اڑن قلعہ نیچے آ گیا اور ریڈیو آپریٹر نے بچاؤ کے لیے پیغام بھیجنا شروع کیا۔" (١٩٦٦ء، اڑن کھٹولے سے جٹ طیارے تک (ترجمہ)، ١٦٨)
"تامل کیا اور پھر کہا صاحب یہ بے اختیاری ہے ویسے میں ریڈیو آرٹسٹ بھی ہوں۔" (١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٤٧)
"آج بھی ریڈیو سیٹ ہے میرے پاس فرش کے نیچے۔" (١٩٧٥ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٤٨٥:١)
"اسی جگہ پہلے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو پیدا کر کے رکھ دیا جائے گا۔" (١٨١٣ء، علامات قیامت، ١٨)
"کتنا پراحترام رعب انگیز نظارہ ہے۔" (١٩٣٣ء، دودھ کی قیمت، ٦٣)
"وہ اپنا رعشہ زدہ ہاتھ بیر کے گلاس کی طرف بڑھاتی ہے۔" (١٩٨٦ء، سہ حدہ، ١٢٢)
"انہوں نے بڑے رعونت آمیز لہجے میں کہا کہ اگر میں نہ مانوں تو وہ طاقت کے ذریعے اپنے حکم کو عملی جامہ پہنائیں گے۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٨٠)
"ہر بات کا اپنی شرافت اور رفاقت پسندی سے لحاظ رکھتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، حیات سلیمان، ٥٩١)
دام اس میں بے خطا اس میں قفس ہے بے قصور شوق پابندی نہاں خود میرے بال و پر میں ہے (١٩١٢ء، کلیات حسرت موہانی، ٤٢)
"مسٹر گلیڈ اسٹون اور اس کا گروہ کافی طور پر روسیہ کی ہمدردی جنگ اور مہذب مشن کی رطب اللسانی نہ کر سکا۔" (١٩٢٨ء، حیرت، مضامین، ٧٩)
"خاقان شمس الملک کے دل میں عمر خیام کی بڑی قدر و منزلت تھی چنانچہ خاقان نے اس کا تعارف سلطان ملک شاہ سے کرایا اور ٢٦ سال کی عمر میں اصفہان کی رصد گاہ کا سربراہ مقرر ہو گیا۔" (١٩٨٥ء، دست زرفشاں، ١٣)
"اس کے عہد معدلت مہد میں . انتظام ملک اور رعایا پروری کے سوا کام نہ تھا۔" (١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ١٣)
"اعلٰی سے اعلٰی اور حیرت انگیز افعال رکھنے والے درخت اور جانور ہوں یا وہ ادنٰی ترین ذی حیات جنھیں صرف رعایۃً جاندار کیا جا سکتا ہے سب کی ترکیب ان کی اجزا سے ہوئی ہے جو مٹی یا ہوا میں پائے جاتے ہیں۔" (١٩٣١ء، ارتقا، ٣٠)
سرس کے جادو کی داستاں ہے اڈی سی ہر جگہ بوڑھا عقاب بال کشا ہے (١٩٦٣ء، کلک موج، خالد، ١١٩)
ظالم نے الٹ دی جو نقاب رخ انور ہر چیز زمانے کی درخشاں نظر آئی (١٩٨٣ء، حصارانا، ١٤٠)
نہ چھپا ان کے چھپائے رخ تاباں ان کا ہے ہر اک شے سے عیاں جلوۂ پنہاں ان کا (١٩٣١ء، آسی جونپوری (مہذب اللغات))
بدل چکا ہے زمانہ رخ حیات بدل حوادثات کی نبضوں کو دیکھتا ہوا چل (١٩٤٩ء، نبض دوراں، ١٢٧)
"دراصل کسی کو پتہ نہ تھا کہ رخش عمر ہمیں کہاں کب اور کدھر لے جائے گا۔" (١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ، ٥٦)
"تیزی کو رخصت بیماری کہتے ہیں جس میں طبی صداقت نامہ داخل کرنا پڑتا تھا۔" (١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٦٤)
"دوسری قسم کو رخصت خاص کہتے ہیں جس کا حق سال میں ایک ماہ تھا۔" (١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٦٤)
وہ ہیں سدرے پہ یہ تا عرش معلٰی ہے رسا بال جبریل کجا فکر کی پرواز کجا (١٩٢٤ء، نعتیہ مسدس، بزم اکبر آبادی، ٢)
پٹ رہے ہوں وہ کہیں جب تو یہ لازم ہے کہ غیر چھپ کے گھر میں عمل رد بلیات کریں (١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٩٩)
"رخنہ پرداز اسباب کو نظر انداز کر ڈالیں۔" (١٩٠٩ء، تاریخ تمدن (ترجمہ)، ١٨٥)
"اس میں رد شرک بھی ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا عبادت کسی کے لیے نہیں ہو سکتی۔" (١٩٢١ء، احمد رضا خاں، ترجمہ القرآن الحکیم، ٣)
آ کہ بازار محبت میں اٹھالی ہم نے جنس رد کردہ بازار وفا جسکو کہیں (١٩٥٥ء، فکر جمیل، ٧٦)