"جو شخص ہر وقت ذکر الٰہی میں رہتا ہے اس کو باب الذکر سے پکاریں گے۔" (١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠)
کیسا علاج، چارہ کہاں، کھائے ہیں وہ زخم ٹانکوں میں جن کے سوزنِ عیسی رواں نہیں (١٨٧٩ء، سالک (مرزا قربان علی بیگ)، کلیات، ١١٨)
"سود خواہ اضعاف و مضاعف اور سود در سود ہو یا اکہرا سُود بہر حال حرام ہے۔" (١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٦٠٢:١)
ذرہّ ذرہّ ہو مرا پھر طرب اندوزِ حیات ہو عیاں جو ہرِ اندیشہ میں پھر سوزِ حیات (١٩٠٨ء، بانگِ درا، ١٢٤)
"اُن کے جدّامجد مہاراجہ گلاب سنگھ بہادر سورگباشی بانی سلسلۂ موجود . احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔" (١٩١٠ء، مضامین محفوظ علی، ٨٦)
"جو شخص روزہ دار ہو گا وہ باب الریان سے پکارا جائے گا۔" (١٨٦٥ء، مذاق العارفین، ٦٩٤:٤)
جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا (١٩٠٥ء، بانگِ درا، ٩٧)
سوزِ جگر عوام کس طرح جئے آقا ہی جئے، غلام کس طرح جئے (١٩٨٠ء، فکرِ جمیل، ٢٤٦)
بجھ گیا وہ شعلہ جو مقصود ہر پروانہ تھا اب کوئی سودائی سوزِ تمام آیا تو کیا (١٩٢٤ء، بانگِ درا، ٢٠٥)
"فری اسٹائل پیراک کیتھی وین رائٹ نے. فری اسٹائل سوئمنگ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا۔" (١٩٦٦ء، جنگ، کراچی، ١٩ جولائی، ٧)
"پروانوں کے بچے". شہزادی کا سوئمبر جیتنے کی غرض سے دھڑا دھڑ جلتے رہے۔" (١٩٨٣ء، اُجلے پھل، ٤٤)
"بنگلے میں چوری کی نیت سے داخل ہوا تو بجائے سوئچ کے خطرے کے الارم پر ہاتھ پڑا۔" (١٩٨٧ء کچھ نئے اور پرانے افسانہ نگار، ١٦١)
"ان کے کانوں میں سونے کی نازک اور مرتعش مثلیں آویزاں تھیں۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٦٠)
بِنَسْت : آتمہ کی طرح یہ سکہ بھی گول اور چوکور دونوں قسم کا تیار کیا جاتا ہے۔ (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ فدا علی)، ٤٨:١١)
"تیسری اسٹمپ اور بڑھائی گئ۔" "مولوی صاحب نے لپک کر ایک اسٹمپ کو اکھاڑا اور دو چوتڑوں پر کس کس کر لگائے۔" (١٨٧١ء، گوے چوگان انگریزی، ١١)(١٩٥٨ء، عمر رفتہ، ٧٣)
"سول نافرمانی کی تحریک کی بازگشت ابھی فضا میں گونج رہی تھی۔" (١٩٨٤ء، گردِراہ، ٧)
"میں نے اپنے زمانے کی سب سے بڑی سول سروس کے مقابلے میں حصہ لیا۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٠)
"وہ گھبرا کر گوجرانوالہ ہسپتال میں سول سرجن کے پاس چلی گئی۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٣٦)
"کچھ سول افسروں کو ساتھ ملا کر انہوں نے کراچی کے مزدوروں سے اپنے حق میں ایک پھسپھسا سا مظاہرہ بھی کروایا تھا۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٦٩٦)
"کئی دن پہلے شہر خالی کیا گیا، سول اسپتال کی زیادہ تر نرسیں، ڈاکٹر. مشرق کی طرف روانہ ہوگئے۔" (١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ) ٢٥٤:١)
"دیوتا کی سوگند مہاراج! ایک شبد بھی جھوٹ نہیں۔" (١٩٨٧ء، فنون، لاہور، نومبر دسمبر، ٢١٧)
"اسے محسوس ہونے لگا جیسے اس کا من مرا نہ ہو اور سوکھا سڑا یہ پودا اب مریاں کی نظروں سے نمی پا کر پھر ترو تازہ ہوگیا ہو۔" (١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦٤)
"زیادہ عرصے تک غیر مغزی غذا کھانے کے باعث ان جانوروں میں سُوکھاپن پیدا ہو جاتا ہے۔" (١٩٦٩ء، تغذیہ و غذایاتِ حیوانات،١٨٨)
"کسی اور نے یہ گیت تصنیف کیا ہوتا تو لوگ اِسے چھچھورا پن اور سوقیانہ پن کہتے۔" (١٩٨٦ء، اردو گیت، ٦١٣)
"اور یہی خیال موجودہ زمانے کے الحادی فرقوں کا ہے جسے وجودی اور دیگر اباجی فرقے، کیونکہ یہ تمام فرقے درحقیقت سوفسطائیت کی شاخیں ہیں۔" (١٩٧٢ء، فکرونظر، اسلام آباد، جنوری، ٥٠٨)
"سیاسیات . سوشیالوجی . اور دیگر علوم کا پورا پورا علم ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ١٨٠:١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"اگر آپ سوشل ورکر ہیں تو آپ کی خوش گفتاری آپ کے ہر مرحلہ پر آپ کی بہترین معاون ہو گی۔" (١٩٨٩ء، جنگ، کراچی، ١٧ مارچ)
سخاوت ذہن کی کب تک بیادِ علم سو فسطا کہاں تک سیمیائی وہم کی پیہم زرافشانی (١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفۂ ولا، ٧١)
"انکے پاس وہ سب کچھ تھا جو ایک اچھے ذی علم اور ذی حیثیت پروفیسر کے پاس اس عمر میں پہنچ کر ہونا چاہیے۔" (١٩٨٦ء، انصاف، ١٨٢)
پیمبر کی اولاد میں کا خلف علی کا جسے ناؤں تھا ذی شرف (١٦٥٧ء، گلشنِ عشق، ٤٠)
وہ آرہے ہیں سامنے ذی قدر انطنی اور لجیئے وہ پہنچ گئے قیصر بھی ساتھ ساتھ (١٩٨٤ء، قہر عشق (ترجمہ)، ١٠٣)
"اُردوئے، معلّٰی یا ذی مرتبت فوجی چھاؤنی میں جو نئی مخلوط زبان عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی تھی وہ زبان "اردوئے معلّٰے" یا "زبان اردو یعنی لشکری زبان کہلائی۔" (١٩٧٦ء، ہند اردو تنازع، ٢٣)
"ذی مقدور لوگ نہایت کثرت سے غلام رکھتے تھے۔" (١٨٧٦ء، تہذیب الاخلاق، ٦٣:٢)
اسی دن کو ہیں ذی حسب کام کے اسی دن کو ہیں خوش نسب کام کے (١٨٥٩ء، حزنِ اختر، ١٢٤)
"آسامی چائے کا پودا ٨ میڑ سے ٢٦ میٹر لمبا ہوتا ہے اسکے تنے پر ذیلی شاخیں نہیں ہوتیں صرف ایک عمودی تنا ہوتا ہے۔" (١٩٨٥ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ٢٣٢)
کوئی مطلب موجود نہیں
"رسٹ ہاؤس اس روز بالکل خالی تھا ایک ذیل دار ٹھہرا ہوا تھا۔" (١٩٨٦ء، جانگلوس، ٢٣٦)
ایک دن ہونگے ظفر تیرے عدو سارے اسیر ذیل بندی کیجیو دے کر سلاسل میں گرہ (١٨٤٥ء، کلیاتِ ظفر، ٢٢٠:١)
"آغا سید حسین جلالی کو ذیلداری کے منصب سے ہٹا دیا گیا اور جلا وطن کر دیا گیا۔" (١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٣٥)