"عید نو روز کی تقریب تھی۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٧٤:٣)
"خداوند نے موسٰی سے کہا بنی اسرائیل سے کہ اسی ساتویں مہینے کی پندرھویں تاریخ سے لے کر سات دن تک خداوند کے لیے عید خیام ہو گی۔" (١٩٥١ء، کتاب مقدس، ١١٧)
"یہ سگار تو ذرا چکھیے، آپ کی قابلیت کا امتحان ہے بتائیے اس میں کیا عیب و صواب ہیں۔" (١٩١٤ء، راج دلاری، ٢٩)
کوئی مطلب موجود نہیں
"ایک دوسرے سے گلے ملنے گلے، بھارتی انٹیلی جینسں اور گارڈ ڈیوٹی کا عملہ پاس کھڑا عید ملن کا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔" (١٩٧٤ء، ہم یاراں دوزخ، ١٨٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"٢٤ ۔ذی الحجہ کو امام بار گاہ کمالیہ میں جشن عید مباہلہ منایا جارہا ہے۔" (١٩٧١ء، شہید، لاہور، ٢٨،جنوری، ٤)
"باہر سے آنے والے عید کارڈوں کی تعداد یک لخت گر کر آدھی رہ گئی۔" (١٩٧٢ء، بزم آرائیاں، ١٤٣)
["\"سپاہیوں کی عورتیں بڑی کارگزار ہوتی تھیں، کاتنا، سینا، پرونا اور ہر قسم کی دستکاریاں جانتی تھیں۔\" (١٨٨٧ء، سخندانِ فارسی، ١٢٦:٢)"]
شررِ عشق جو تھا سینئہ سوزاں میں نہاں عالم افروز ہوا جلوؤ سینا ہو کر (١٩٣٧ء، نغمۂ فردوس، ٨١:١)
جب سینچری کے موڑ میں آیا کوئی غریب بدے ستم شعار نے بولر نئے نئے (١٩٤٧ء، ہزلیات، ١٢٣)
"عین اسی طرح جیسے عید کے چاند پر جھگڑا ہوا کرتا ہے۔" (١٩٨١ء، سفر در سفر، ٥٥)
"یہود کا اہم تہوار عیدِ فصح بھی شروع ہو رہا تھا۔" (١٩٧٣ء، آئینہ تثلیث، ٦١)
"ایک صاحب کے یہاں عید غدیر کی محفل میں شرکت بھی نصیب ہوئی۔" (١٩٤٤ء، سوانح عمری و سفر نامۂ حیدر، ١٢٣)
"ایک مرتبہ عید رمضان کا چاند نظر آنے پر جہانگیر نے بے ساختہ کہا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٣٧)
"میں نے اپنا پاؤں سینڈل سے باہر نکالا اور اس کے پاؤں پر رکھ دیا اس نے بھی اپنی چپل اتار دی۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مئی، ٦٩)
"اپنی تھرموس، شراب، گلاس اور سینڈوچ نکال کر پکنک منانے لگے۔" (١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ٤٣)
"پہلے سیمسٹر میں کچھ اسے لڑکے بھی فیل ہوئے جن کے غیر سیکشن میں اول آنے والے طالب علم سے بھی زیادہ تھے۔" (١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٢٤ ستمبر، ٣)
"بچوں میں داد (Ring worm) اور بعض قسم کی جلدی خارش . مخصوص قسم کے فنجائی سے پیدا ہوتی نہیں۔" (١٩٨٥ء، حیاتیات، ٩٠)
"آپ دست بریدہ ہو کر زندہ رہیں گے اور اس طرح اپنی اولاد کو عیب ناک کر دیں گے۔" (١٩٦٥ء کو "خلافتِ بنوامیہ، ٨٢:١)
"سعدی اور رین یمین کے عقائد اور قطعات میں جو خوشامد اور بیہودہ مذاق کی جا بجا عیب گری پائی جاتی ہے۔" (١٨٩٢ء، سفر نامۂ روم و ہر و شام، ٥)
"ایک انگلش شہزادی نے پندرہ سولہ برس قسطنطنیہ میں رہ کر . کتاب لکھی ہے . لیکن چونکہ وہ ترکوں کی عیب گوئی میں یورپ کی ہمزبان نہ تھی اس کو اسناد اور اعتماد کا درجہ نہ حاصل ہو سکا۔" (١٨٩٢ء، سفر نامۂ روم و مصر و شام، ٥)
"جن میں ہجو، بخیل، عیب گو، بیاہ رچاتے ہیں۔" (١٩٧٥ء، تاریخ ادب اردو، ٢، ٧٠٥:٢)
"اپنے ناپسندیدہ شخص کی ہنر پوشی و عیب کوشی بلاشبہ انیس کی ترجیح کھلی ہوئی ہے۔" (١٩٧٦ء، میر انیس: حیات اور شاعری، ١٦٢)
"عیب کاروں کے پردہ دار حیدرِ کرار شہسوارِ کارزار، ان داتا، من داتار تجھ پر سلام۔" (١٩١١ء، سی پارہ دل، ٥:١)
خردہ گیر و عیب چیں انگریز اس سوال کا جواب اپنے ملک کے برخلاف دینے میں یہ کہتے ہیں۔" (١٩٠٤ء، آئین قیصری، ١٦)
"اس آیت پاک میں رات کی نماز کا ایہام دور کرکے مغرب اور عشا کی تعمیمیں کر دی گئیں۔" (١٩٣٥ء، سیرۃ النبیۖ، ١٢٩:٥)
"شملے میں اخبار مدینہ کے ایڈیٹر صاحب آئے تھے۔" (١٩٤٢ء، غبار خاطر، ٣٢)
"جس دیوار کا گز بھر آثار ہو اس کی مضبوطی کی کیا بات ہے"۔ (١٨٩١ء، امیراللغات، ٦٢:١)
"پانی کے قطرے نے ایڑی کو بھی نہیں چھوا۔" (١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٧٧)
"پہلی ایڈیشن ختم ہو چکی ہے دوسری ایڈیشن . چند روز تک شائع ہو جائے گی۔" (١٩٢٤ء، مکاتیب اقبال، ١٦٦:٢)
"ایلوپیتھی ڈاکٹروں کو ہر دوسرے نظام سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔" (١٩٦٦ء، روزنامۂ جنگ، کراچی، ٣، ٣:١٨٢)
"براہ کرم . ایصال فرما دیجیے تاکہ چھپائی شروع ہو جائے۔" (١٩٠٥ء، داغ، انشائے داغ، ٣٨)
"یہ عطائے رحمانی و دادِ یزدائی ہے ہر ایک کا حصہ نہیں۔" (١٩٧٦ء، اردو نامہ، کراچی، جون، ٢٤)
"وہ پہنچا تو ایمبولینس جھٹکے کے ساتھ ہجوم میں نکلی اور پھر بھاگتی ہی چلی گئی۔" (١٩٦٨ء، ماہ نامۂ فنون، لاہور، اپریل، ٩٣)
حشر کا وعدہ تھا نالوں سے اٹھایا حشر بھی دیکھیے ایفا میں وہ کیا عذر فرماتے ہیں آج (١٩١٩ء، رعب، کلیات، ٧١)
["\"ارے میں مر گئی اے میاں گورے بھائی میری گردن ٹوٹی۔\" (١٩٣٦ء، راشد الخیری، انگوٹھی کا راز، ١٢)"]
|اکثر مسائل مثلاً قبلۂ نماز، رجم، قصاص بالمثل وغیرہ وغیرہ میں جب تک خاص وحی نہیں آئی، آنحضرت صلعم نے توراہ ہی کی پابندی فرمائی۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبی، ٤٠٠:١)
"میں نے دریافت کیا کہ تمہارے نزدیک ایشیا کس طریق سے یورپ کی ہم پلہ ہو سکتی ہے۔" (١٩١٩ء، روز نامچۂ سفر، ١١٦)
"بالعموم ایٹم تنہا نہیں ہوتے بلکہ دوسرے ایٹموں سے مل کر رہتے ہیں۔" (١٩٦٢ء، اردو انسائیکلوپیڈیا، ٢٢٢)