"ان کے آباواجداد دراصل سری نگر کشمیر کے رہنے والے ہیں۔" (١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٢٦)
"مشین نے ایسے جامد معیاروں کو رواج دیا ہے جیسے چین میں آباپرستی کے ذریعے۔" (١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٣٨٠)
"آبرو باختہ ہے طاعن ہے چغلیاں لگاتا ہے۔" (١٩١١ء، سیرۃ النبیۖ، ٢٠٣:١)
آنسو گرا جو خاک میں تقدیر نے کہا ملے ہیں دیکھ خاک میں یوں آبرو پسند (١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٨٧)
"بادشاہ معصیت کرنے سے . مجرم کی طرح آبرو ریختہ کر دیے جاتے ہیں۔" (١٩١٩ء، غدر کے افسانے، ٢٠٠:٤)
"گزرگاہیں، شاہ راہیں، آب راہیں، آب گاہیں۔" (١٩٦١ء، سہ ماہی، اردو نامہ، کراچی، فروری، ١٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"بہت سے مرکبات جو آج کل مستعمل ہیں وہ انہیں کی بدولت ہم تک پہونچے جیسے شربت . آب مقطر۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ٢)
"عمر و قفس میں بیٹھا ہے وہ باہر نہیں نکلا آب و دانہ مانگتا ہے۔" (١٩٠٣ء، طلسم نوخیز جمشیدی، ١١٧:٣)
"ان (رحجانات) میں ملوکیت یا جمہوریت کی روح کارفرما ہے، ان کا آب و رنگ جاگیر داری کے تہذیبی ایوان سے مستعار لیا گیا ہے۔" (١٩٦٨ء، مثبت قدریں، ٤٥)
آب و گل میں جس طرح زاہد نہاں ہو جانے زر منہ سے ہے انکار زر کا اور دل میں جاے زر (١٨٣١ء، دیوان ناسخ، ٦٧:٣)
"آب و ہوا کی مقامی حیثیت سے جو خاص اثر نمو دار ہوتے ہیں ان کے تجربے کی ضرورت ہے۔" (١٩١٠ء، تربیت الصحرا، ٢)
"ایک مریض کی نسبت جانتا ہے کہ وہ بدپرہیز ہے۔" (١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٢٤:١)
"ہمارے زمانے کے متعلق جو عام اقوال ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی قول بادی النظری طور سے اس سے زیادہ آسانی کے ساتھ قبول کیا جا سکے۔" (١٩٣٣ء، قدیم قانون، ٢٤٧)
"میں نے خوب ہی بدپرہیزی کر ڈالی۔" (١٩٢٨ء، خطوط محمد علی، ١٨٣)
"جب پوست کی کلیاں کھلیں . تب اس کے چاروں طرف چھری سے . پاچھ یعنی تراش دیں۔" (١٨٤٥ء، دولتِ ہند، ٨٥)
"ہر جزئی خواہ وہ بادی الراے میں غیر ضروری معلوم ہو، بغیر ملاحظہ کے نہ چھوڑیں۔" (١٩٣١ء، رسوا، المغالطات، ٢٢)
"یہ لوگ بہت خوشحال اور آبرو مند ہیں۔" (١٨٥٤ء، دیوان صبا، غنچۂ آرزو، ٤٤)
"ان جھگڑوں کے آبرو مندانہ تصفیہ کے لیے کم از کم ایک معقول مشینری بھی قائم کرے۔" رجوع کریں:آبْرُومَنْد (١٩٦٧ء، جس رزق سے....، ٢٠١)
کوئی مطلب موجود نہیں
"بادی سر مثل بادشاہ کے ہے یا مثل جان کے یعنی راگ کی جان ہے۔" (١٩٢٧ء، نغمات الہند، ١٣)
"کئی سال پیشتر سے انگریز حکومت کے خلاف بد دلی پھیل رہی تھی۔" (١٩٣٥ء، غدر کی صبح و شام، ١٥)
"بادی بواسیر اور رگ گردہ اور مثانہ اور قوت باہ اور درد سر اور کھانسی کو جو بلغمی ہو - بے حد مفید ہے۔" (١٩٣٠ء، جامع الفنون، ١٠٤:٢)
گرمی ہجر سے ہر لحظہ بچاتے تھے جنھیں آپ یخ شام کو ہر روز پلاتے تھے جنھیں (١٨٢١ء، کلیات اختر، واجد علی شاہ، ٩١٤)
"ایک ہوشیار کام کرنے والا جس کو آج کل پارباروری کے طریقوں سے ایک جانور کی تناسلی بناوٹ کا پتہ لگانےکی جستجو ہو گی وہ غالباً ضرور اپنے تجربات کے ابتدائی درجہ پر ہی کوئی نظریہ قائم کرے گا۔" (١٩٤٧ء، مینڈلیت، ١٤٧)
"بعض اوقات ہر رشتک سے کچھ زواجے دوسرے رشتک میں منتقل ہوتے ہیں، اس قسم کا سنجوگ پارسنجوگ کہلاتا ہے۔ (١٨٦٨ء، الجی، ٩١)
کوئی مطلب موجود نہیں
ہے رفاہ عام کو نشوونما حال و مستقبل بہ از پار و پرار (١٩١١ء، کلیات اسمٰعیل، ٢١٦)
بولا امام پاک سے وہ بادیہ نورد دل میرا بے قرار ہے پیجے یہ آب سرد (١٩٣١ء، فہیم (باقر علی خان)، مرثیہ، ١١)
["\"بعض اوقات عنابیل عینی کو غلطی سے معالجین الحمرا سمجھ لیتے ہیں۔\" (کتاب العین، ٢٣)"]
["\"الآخر تحقیقات معدنیات کی غرض سے ملک دکن کو تشریف لے گئے۔\" (١٨٧١ء، قواعدالعروض، ٤)"]
"انسان ایسے ایسے کام کرتا ہے کہ بادی النظر میں معجزہ اور کرامت معلوم ہوتے ہیں۔" رجوع کریں:بادی (١٩٠٦ء، حکمت علی، ٢٤)
"عہد نامہ جدید شروع شروع میں کوئی مقدم سند ہونے کا درجہ نہ رکھتا تھا۔" (١٩٧٣ء، آئینہ تثلث، ٦٧)
"لوگ عہد نامہ قدیم کو ابتدائی زمانے میں بھی الہامی کتاب نہیں سمجھتے تھے۔" (١٩٧٣ء، آئینہ تثلیث، ٦٧)
چالیس سال قبل تھے جو رہبرانِ قوم بد نام عہد نو میں انہیں مت گرائیے (١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٥ جنوری (رئیس امرہوی)، ٣)
"میں نے عہد واثق کیا کہ جمیع منہیات سے محترز رہوں اور اس کے بعد اوامر پر عمل کروں گا۔" (١٩٨٥ء، سید سلیمان ندوی، ٢٢٠)
"میں نے کبھی تم سے شادی کا عہد و پیماں نہیں کیا۔" (١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٢٢٨)
کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے جو یوں کیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اس سے (١٩٧٨ء، جاناں جاناں، ٥٧)
"شکارپور میں شیخ الحدیث کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔" (١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ٢٣)
"یہ سب کے سب دشت نوردی و بادیہ گردی کرتے ہوئے میسوپوٹیمیا میں جا پہنچے تھے۔" رجوع کریں:بادیہ پیمائی (١٩١٠ء، معرکۂ مذہب و سائنس، ٢٥٧)