کوئی مطلب موجود نہیں
"اس پر تو پاکسانیت یوں سوار ہے کہ اسے کوئی کام کی بات نہیں آتی"۔ ((مرتب))
کوئی مطلب موجود نہیں
رجوع کریں:
"حضرت ابراہیم علیہ السلام - ابوالانبیا - کو سب اہل کتاب بالاتفاق مانتے ہیں۔" (١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٩٤:١)
"ابن ملجم نے حضرت علی کو شہید کرنے کا ذمہ لیا۔" (١٩٦٢ء، اردو انسائیکلوپیڈیا، ٤٩)
"نہ میری خواہش تھی کہ میں اپنے کو ایسا آراستہ پیراستہ ظاہر کرکے اس کی نگاہوں میں بری جچوں۔" (روز الیمبرٹ، ١٨٩٨، ١٤١)
آدم اوّل سے لے کر آدم آخر تک آج اہل شرق، ارباب غرب اہل جنوب اہل شمال (احس الکلام، ١٩٢٠، ٢٢٦)
"لاتے ہیں بیوی اپنے آرام و آسایش کے لیے اور زبردستی کا احسان دھرتے ہیں بیٹی کے سر۔" (فغان اشرف، ١٩٢١، ٨٨)
بہ تحقیق موسیٰ سے اس نے کہا کہ اے ابن مادر تری قوم کا (١٨٩١ء، لوح محفوظ، اثر (فیروزعلی)، ١٥٩)
"فضائل اخلاق کا ایک پیکر مجسم سامنے آجائے جو خود ہم تن آئینہ عمل ہو۔" (سیرۃ النبیۖ، ١٩١٢، ٢:١)
"جو عورت دایہ گیری کا کام کرتی تھی وہ اپنے گھر سے نکلتے وقت بھاری نقاب میں اپنا چہرہ چھپا لیتی تھی۔" (١٩٥٨ء، آزاد (ابوالکلام)، مسلمان عورت، ١٣١)
"حضور جو فرمائیں درست ہے مگر میرے زعم ناقص میں غالب کے شعر کا مطلب وہی ہے جو میں کہہ رہا ہوں۔" (١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢١٩:٦)
"دانہ آدمی اسے زنجیری گولہ کہتا ہے کہ توپ میں سے نکل کر پھر وہیں الجھ رہتا ہے۔" (١٨٦٩ء، غالب، خطوط، ٣٨٤)
"داڑھی کو جو فقط زنخدانی تھی خلاف وضع جان کر ترشوانا۔" (١٨٤٧ء، حملات حیدری، ٦١٦)
"یہ زنجیری جبلت کی کارفرمائی کی نہایت ہی عمدہ مثال ہے۔" (١٩٣٢ء، اساس نفسیات (ترجمہ)، ٩٤)
"شہد سرکہ زیتون اور زنجار ہم وزن لے کر دوا بنائی جائے۔" (١٩٤٧ء، جراحیات زہراوی، ١٦٣)
کوئی مطلب موجود نہیں
"فرانسیسی مزاح نگار لفظی لفظی بازی گری سے مزاح پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔" (١٩٨٩ء، صحیفہ، لاہور، جون، ٦٢)
"پنجاب ایک لقمۂ تر کی طرح بھارت کے منہ میں جاگرے گا۔" (١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٣٧)
"وہ نہ تو لفظی الٹ پھیر سے اکبر الہ آبادی کی طرح مزاح پیدا کرنے کے متمنی تھے اور نہ پطرس کی طرح محض واقعات سے۔" (١٩٨٩ء، صحیفہ، لاہور، جون، ٦٢)
"ان لغت کی چیزوں میں سے کچھ تیرے ہاتھ سے لگا لپٹا نہ رہے۔" (١٨٢٢ء، موسٰی کی توریت مقدس، ٧٤٣)
"گرویزی، گیلانی، لاہوری، مشہدی ہرگز گوتیں یا ذاتیں نہیں ہیں۔" (١٩٩٠ء، تاریخ بھٹی، ١٨)
[" ناسوتیوں سے چھین کے صبر و قرار و ہوش لاہوتیوں کو وجد کے عالم میں لائے جا (١٩٣١ء، بہارستان، ١٥٨)"]
قسموں سے بناوٹوں کی باتیں نظروں سے لگاوٹوں کی باتیں (١٩٢٥ء، دیوان شوق قدوائی، ١٧)
"اختلافات کے باوجود سلیم احمد اور قمر جمیل دو ایسے اہم نام ہیں جو ہمارے گزشتہ کو موجود سے اور لمحۂ رواں کو آئندہ سے جوڑتے ہیں۔" (١٩٨٦ء، آنکھ اور چراغ، ٦٠)
"لوگ کہتے تھے کہ اس نے کسی کو بہو بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر یہی نہیں دیکھا، لنگوٹ کا پکا ہے۔" (١٩٥٥ء، سرکنڈوں کے پیچھے، منٹو، ١٨٢)
"جب ان اعشاری اعداد کو لڑی دار اشاری اعداد میں تبدیل کر لیا جائے تو پھر بلاواسطہ مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔" (١٩٦٨ء، اطلاقی شماریات، ٢٥)
ہو گئے ہیں حریصِ لذت غم کشتگانِ لطافتِ بیداد رجوع کریں:کُشْت گاں (١٩٨٣ء، بے نام، ١٥٤)
"درخواست گزار کا موقف یہ تھا کہ وزیراعلٰی اور آئی جی پولیس نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔" (١٩٨٧ء، جنگ، کراچی، ١٤، اپریل، ١٢)
"میری رائے میں اس زبان کے پیچھے جو دل ہے وہ درد بھرا ہے۔" (١٩٨١ء، حرفِ دل رس، ١٠)
تھی دل میں بھری ہوئی ہوائے جاناں دردِ قولنج اسے بتایا ہم نے (١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٤٧١)
"اردو شاعری کی اس صنف یعنی گیت کو اب تک اردو کے ارباب تنقید و تبصرہ و تاریخ نے درخور اعتنا نہ سمجھا۔" (١٩٨٦ء، اردوگیت، ٢٢)
"ان کی (میر تقی میر) زندگی جس درد و الم سے بھری ہوئی تھی اس نے ان کی شاعری کو بھی سوز و گداز کا ایک پرکیف مرقع بنا دیا۔" (١٩٧٠ء، پہلا بابائے اردو یادگار لیکچر، محمد تقی میر، خطبۂ صدر، ١١)
"درس نظامی کی تکمیل مولانا نے زیادہ تر کلکتہ میں . کی تھی۔" (١٩٤٩ء، آثار ابوالکلام، ٢٢)
"رضاکار تنظیموں نے ہندی کی نشر و اشاعت اور درس و تدریس کے لیے مناسب فنی اصول اور عملہ تیار کر رکھا ہے۔" (١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ٧٩)
ادھر نصیحت ناقوس ابن دنیا کو مکبروں کی صدا اس طرف بصوت حسن (١٩٣٥ء، عزیز، صحیفۂ ولا، ١٤٣)
"اس کی تقریر باعث تہذیب اخلاق اور اطوار موجب درستی افعال اور صورت سبب ہیت و خوف اور آواز جہت تنبیہ اطفال مفید ہے۔" (١٨٧٣ء، عقل و شعور، ٩)
"یہ سندھی زبان کی درشت مزاجی اور ثقالت پسندی کی ایک دلیل ہے۔" (١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ١٢٨)
[" زخاک تابہ ثریا ہے اک سکوت دراز خلا میں آج بھی گم ہے زمین کی آواز (١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٢٥٤)","\"تمام قبائل دور و دراز مقامات سے آتے تھے۔\" (١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ١١:٢)"," کیا گنج خفی کا راز بولوں کیا مختصر و دراز بولوں (١٨٧٤ء، جامع المظاہر، ٧٧)"]