"آج کی سائنٹفک دنیا میں ادب اور زبان کا مطالعہ بھی قطقی اور سائنٹفک اصولوں پر کیا جا رہا ہے۔" (١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ٣)
"اس قسم کی تحقیق سے تعلق رکھنے والوں کو سائنٹفک طریقہ تحقیق استعمال کرنا چاہیے۔" (١٩٨٦ء، اردو میں اصول تحقیق، ٧:١)
"سات پھیروں میں میں نے جو سات دعائیں مانگی ہیں وہ سب پوری کرنا۔" (١٩٨٧ء، ساتواں پھیرا، ٩)
"خدا جانتا ہے کہ سات سمندر پار اگر میرا بچہ ایسا رونا ہوتا تو میں کھڑے کھڑے اس کی ٹانگیں چیر کر پھینک دیتی۔" رجوع کریں: (١٩٠٠ء،)
"اتنے ایک آم کیا ہوں گے، کون کھائے گا۔" (١٩٥٩ء، فرہنگ اثر، ١٣٣)
"میں تو اب بس دو دن کا مہمان ہوں میرے لیے تم اپنے اصول نہیں توڑ سکتیں۔" (١٩٨٣ء، قیدی سانس لیتا ہے، ٥٢)
"میں ان دنوں عام جلسوں میں دو قومی نظریہ کو آڑے ہاتھوں لیا کرتا تھا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٢٢)
"مجذوب نے دور ہی سے دیکھ کر کہا کہ وہ شخص آتا ہے جو خاقانی سے بھی دو قدم آگے جائے گا۔" (١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٨٤:٢)
"اس نے بڑی دیدہ دلیری سے کیم کو اپنی محنت کا یقین دلایا۔" (١٩٨٠ء، دائروں میں دائرے، ١٣٠)
"مترجم کا کام یہ ہے کہ وہ دوسری زبان کے اظہار کو اپنی زبان کے اظہار سے ملا کر ایک نئے اسلوب کے لیے راستہ ہموار کرے . ایسے ترجمے روا داری میں نہیں پڑھے جا سکتے اور نہ ان کا حسن اور ان کی دل کشی ایک ہی نظر میں آپ کے دیدہ و دل تک پہنچ سکتے ہیں۔" (١٩٨٤ء، ترجمہ: روایت اور فن، ١٥٧)
دیدہ باطن یہ راز نظم قدرت ہو عیاں ہو شناسائے فلک شمع تخیل کا دھواں (١٩٠٥ء، بانگ درا، ٣٨)
"بال بچے باہر گئے ہوئے ہیں بس تھوڑے سے آم دے دو، اتنے سارے کیا ہوں گے۔" (١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ٩٧:١)
اور انتظار تیغ جفاکس کو کہتے ہیں آنکھوں کو ہم نے دیدہ جوہر بنا دیا (١٨٦٧ء، رشک (نوراللغات))
کرے ہم چشمی اگر اُس سے تو شیخی جھڑ جائے رو سکے ابر کب اس دیدہ نمناک کے طور (١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٩٩:١)
"حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ . دیر گئے بازار میں کام ختم ہوا تو پھر ان (ام المومنین حضرت عائشہ) کی خدمت میں پہنچا مگر دیکھا کہ وہ اسی طرح بادِخدا میں مصروف تھیں۔" (١٩٨٥ء، روشنی، ١٤١)
سر بر گریباں دیر و حرم کون سنائے قصۂ غم (١٩٨٣ء، حصارِ انا، ٨٥)
"سفر پہ نکلو تو اپنی وابستگی کی دیمک زدہ کتابیں جلد کر چلنا۔" (١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٥٦)
"لیکن دیکھنے کے قابل بات یہ ہے کہ بے تعلق خطوط لکھتے وقت بھی واحدی صاحب کو خواجہ صاحب کا خیال رہتا تھا۔" (١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٢٧٠)
"وہ سب حال برسر دربار گزارش کیا کہ اتنا اتنا کچھ حضور کا میں نے چرایا ہے۔" (١٨١٩ء، اخبار رنگیں، ٨٩)
"دیسی گھی تو اب جیسے عنقا ہو گیا ہے۔" (١٩٦٨ء، مہذب اللغات، ٣١٠:٥)
مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب سے (١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٨٧:٢)
"١٨٣٧ء اور ١٨٣٩ء میں فارسی کی جگہ اردو کو رواج دینے کے سلسلے میں جو احکامات جاری کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایسی شقیں بھی موجود تھیں جن کی آڑ لے کر، انگریز اپنے مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی دیسی زبان کو رائج کر سکتے تھے۔" (١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ٥٦)
"ان کے مضامین کا مجموعہ "خمارستان" ان کے تفکرات اور سادہ و پرکار تحریر کی نشانی ہے۔" (١٩٨١ء، آسمان کیسے کیسے، ١٥٣)
خندہ برق تیغ میں گرمی مہر تیر ماہ گر یہ زخم تیر میں جوش سحاب آذری (١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٢٣٠)
کوئی مطلب موجود نہیں
"نواب صاحب بڑے آدمی ضرور ہیں مگر بڑی سادی وضع کے ہیں انہیں پرتکلف لباس میں نہیں دیکھا۔" (١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ٢٩٦:٦)
سال شمسی کا پتا دفتر عالم میں نہیں میر کے گرد زمیں کو جو نہیں اب حرکت (١٩٣٥ء، عزیز لکھنوی، صحیفہ ولا، ١٦٢)
"تین اکتوبر کو مہاراجہ نے اپنی ٣٦ویں سالگرہ پر ایک دربار عام بلایا۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ١٢٧)
"سالناموں میں جو بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں شائع ہوئے باشندگان شہر کی تعداد کے بارے میں معین معلومات نہیں ملتیں۔" (١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٦٥:٢)
جستجو تھی سال ہجری کی مجھے ناگہاں یہ غیب سے آئی صدا (جلیل لکھنوی (مہذب اللغات))
"زمین آفتاب کے گرد گردش کرتی ہے اور زمین کی اس گردش کو سالانہ گردش کہتے ہیں۔" (١٩٠٦ء، جغرافیۂ طبعی، ٢٨)
چار دن میں یہ اتفاق کی بات ان سے ایسی ہوئی نفاق کی بات (١٨٨٢ء، فریاد داغ، ١٢١)
"وہ میری موجودگی میں گوپال سوامی آئینہ گر پر ایک دفعہ ساون کی گھنگور گھٹا کی طرح گرجے بھی اور برسے بھی۔" (١٩٨٢ء، آتش چنار، ٦٦٧)
"اس ترانہ دل دوز کی لے اور موسیقی افلاک کے تال میل سے جیسا ہولی ساون کی رت میں. اندر کچھ تحریک چہل پہل معلوم ہوئی اور پردہ سرعت سے نیرنگی دکھانے لگا۔" (١٩١٥ء، پیاری دنیا، ٩)
آتے ہیں یہ مناظر دل کش نظر کہاں ساون کی اب کے جھڑیاں ہیں اے ابر تر کہاں (١٩٢٨ء، مطلع انوار، ١٢٦)
وہ سانولے پن پر میدان کے ہلکی سی صباحت دوڑ چلی تھوڑا سا ابھر کر بادل سے وہ چاند جبیں چھلکانے لگا (١٩٣٣ء، سیف وسیو، ٩٠)
"اتفاقی جڑیں - سلسلے میں نمودار نہیں ہوتیں۔" (١٩٣٨ء، عملی نباتات، ١٥)
"جہاں پناہ جب شرب کی طرف توجہ فرماتے ہیں تو یا افیون و کوکنار نوش فرماتے ہیں (جس کو قبلۂ عالم سب رس کہتے ہیں) تو ملازمین ان کو خوانچوں میں بھر حضور میں پیش کرتے ہیں۔" (١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ١٢١:١٩)
"دنیائے انشائیہ نگاری کے سپر اسٹارز اپنا نقطہ ہائے نظر بڑی صراحت کے ساتھ پیش کر چکے ہیں۔" (١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مئی، ١٢)
"قابلیت مندرجۂ عنوان حسب ذیل اسباب پر منحصر ہوتی ہے (١) اتفاقی کلی کے پھوٹنے کی قابلیت۔" (١٩٠٣ء، علم الصحرا، ٩٧)